BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 October, 2008, 09:52 GMT 14:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انتخابی مہم اچھی چل رہی ہے‘مکین
جان مکین
جان مکین نے اوبامہ سے پچھڑ نے والے جا ئزوں کو مسترد کردیا ہے۔
امریکہ میں صدارتی انتخابات کے بارے میں کیئے جانے والے انتخابی جائزوں میں ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوباما کی واضح اکثریت کے بارے میں کیئے جانے والے دعوؤں کے پس منظر میں ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار جان مکین اپنی جیت کے بارے میں پرامید ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی مہم بہت خوش اسلوبی سے چل رہی ہے۔

ایک ریلی میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات جیتنے کے لیے وہ لڑائی کے لیے تیار ہیں۔

آئیوا میں میں این بی سی کے پول جائزے کے مطابق باراک اوباما کو اکیاون فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے جبکہ مکین کو چالیس فیصد کی۔

لیکن رائٹرز نے ایک دوسرے جائزے کو جاری کیا ہے جس کے مطابق باراک اوباما کو مجموعی طور پر مکین کے چوالیس فیصد کے مقابلے صرف پانچ فیصد کی ہی برتری حاصل ہے۔

الیکشن سے محض نو روز پہلے این بی سی کی ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے مکین نے کہا کہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق باراک اوباما کو سبقت حاصل تھی اسے انہوں نے پچھلے ہفتے پورا کر لیا تھا۔

’ان جائزوں میں ہمیں مستقل اتنا پیچھے دکھایا گیا ہے جتنا حقیقت میں ہم نہیں تھے، ہم اچھا کر رہے ہیں۔‘

سارہ پیلن کے متعلق
 وہ ایک ایسی ڈائنامک شخصیت ہیں جس کے پاس انتظامی امورکا تجربہ، لیڈرشپ اور اصلاحات پائی جاتی ہیں۔ واشنگٹن کو بالکل ایسی ہی شخصیت کی ضرورت ہے۔
جان مکین

جان مکین نے مزید کہا: ’پچھلے ہفتے ہم کافی قریب آئے ہیں اور اگر ہم ایسا ہی اگلے ہفتے بھی کرتے رہے تو الیکشن والی رات ہم اوپر ہوجائیں گے، میں نے اپنے ضمیر پر اور پول پر بھی یقین کیا، میں نے اپنی انتخابی ریلیوں میں وہ زبردست جوش و خروش دیکھا ہے جو پہلے نہیں تھا۔‘

جان مکین نے کہا ’ ہم مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں اور اس وقت جہاں ہیں اس سے کافی خوش ہیں اور جس طرح ہماری انتخابی مہم چل رہی ہے اس پر ہمیں فخر ہے۔‘

اتوار کے روز جان مکین نے آئیوا اور اوہایو میں انتخابی مہم چلائی جبکہ باراک اوباما کلورایڈو میں مصورف ر ہے۔ اوباما نے تبدیلی پر زوردیتے ہوئے کہا کہ مکین اور جارج بش در اصل ایک ہی ہیں۔

اوباما کی برتری برقرار ہے

ان اطلاعات کے حوالے سے کہ ریپبلیکن پارٹی کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں، جان مکین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ نائب صدر کے لیے اپنی ساتھی سارا پیلن کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا ’میں ان کا دفاع نہیں کرتا ان کی تعریف کرتا ہوں، انہیں دفاع کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘

مکین نے یہ بھی کہا کہ الاسکا کی گورنر، سارا پیلن، کو ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدارتی امیداوار جوبائڈن اور باراک اوباما دونوں سے بھی انتظامیہ چلانے کا زیادہ تجربہ ہے۔

’وہ ایک ایسی ڈائنامک شخصیت ہیں جس کے پاس انتظامی امورکا تجربہ، لیڈرشپ اور اصلاحات پائی جاتی ہیں۔ واشنگٹن کو بالکل ایسی ہی شخصیت کی ضرورت ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ اوباما کی طرف سے ان کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ نوے فیصد صدر بش کے ساتھ ووٹ کرتے رہے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ وہ اور پیلن ان سے مختلف ہیں۔’ یہ صحیح ہے کہ ریپبلیکن پارٹی کی فلاسفی ہم دونوں ہی کے پاس ہے لیکن میں اپنی پارٹی کے خلاف کھڑا ہوا ہوں، صرف صدر بش کی ہی نہیں دوسروں کی بھی مخالفت کی ہے۔‘

کلوراڈو میں باراک اوباما نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلیکن پارٹی کی مشترکہ پالیسی یہ ہے کہ امیروں کو مزید دیا جائے اور باوجود اس کے کہ امریکی معیشت مندی کا شکار ہے کروڑوں ڈالر جنگ پر خرج کیے جائیں۔

اوباما نے معاشی طور پر متوسط درجے کی مدد کی بات کی اور کہا کہ ان کے صحت، تعلیم اور توانائی سے متعلق منصوبے ایک دو دن میں پورے نہیں ہونگے اور اس کے لیے سب کو محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
مکین کےحملوں سے ناراض
25 October, 2008 | آس پاس
صدارتی بحث میں کون جیتا؟
27 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد