BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 October, 2008, 23:46 GMT 04:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن کے بعد کشیدگی کا خدشہ

باراک اوبامہ
باراک اوباما جائزوں میں آگے چل رہے ہیں۔
میں اختتام ہفتہ ریپبلیکن پارٹی کی زبردست حمایتی ریاست نیوجرسی میں ڈیموکریٹک پارٹی کے حمایتی لیکن اکثریتی سیاہ فام علاقوں میں تھا۔

ایسٹ اورنج، برک چرچ، اور نیو آرک۔ یہاں سیاہ فام ہوں یا گورے، بہت سوں کو خدشہ ہے کہ چار نومبر کے انتخابات میں اوباما اور مکین میں سے کسی کے بھی ہار جانے کے بعد حالات کشیدہ ہو سکتےہیں۔

برک چرچ شہر اینٹوں سے بنے ایک گرجا اور اس میں کبھی مذہبی گیت گانے والی لیکن اب معروف گائکہ وٹنی ہیوسٹن کی وجہ سے زیادہ مشہور ہے۔

یہ وہ علاقے ہیں جہاں انیس سو سڑسٹھ میں سفید فام اور سیاہ فام آبادیوں کے لوگوں کے درمیاں زبردست نسلی فسادات ہوئے تھے جن کے اثرات کئي ویران محلوں اور گلیوں کی شکل میں آج بھی موجود ہیں۔

اگرچہ یہ فسادات اب قصہء پارینہ بن چکے ہیں لیکن یہاں رنگ ونسل یا ریس فیکٹر آپکے کیساتھ دبے پـائوں چلتا رہتا ہے۔

 میں ساری عمر ڈیموکریٹ رہی ہوں لیکن مجھے اس بات سے نفرت ہے کہ میں سفید فام صدارتی امیدوار کو ووٹ دیتی آئي ہوں۔ تم میری طرف سے لکھ کر سب کو یہ بتائو کہ اب امریکہ میں سیاہ فام صدارتی امیدوار ہے اور وہ ہارورڈ یونیورسٹی کا گریجوئٹ ہے۔ وہ سفید فاموں کے تعلیمی سسٹم میں سے آيا ہے۔ اسے سیاہ فام اور سفید فام دونوں نے امیدوار چنا ہے۔ اسکے پاس اپنی مہم چلانے کیلیے سیاہ فام لوگوں کا پیسہ نہیں، اسکے پاس سفید فام لوگوں کا دیا ہوا پیسہ ہے
سیاہ فام ووٹر کیرول

ایسٹ اورنج اور اسکے گرد و نواح میں معیار زندگی قدرے بہتر ہو گیا ہے۔ بڑے کاروبار بنک کھل گۓ ہیں اور افریقی امریکی متوسط طبقہ مستحکم ہورہا ہے۔

یہاں افریقی امریکی نسل کے محنت کشوں سے لیکر ڈاکٹر، وکیل اور جج، ہر قسم کے لوگ بستے ہیں۔ بڑے بوڑھے جو پیدا تو جنوب میں ہوئے لیکن ’سیگریگیشن‘ اور شہری حقوق کی تحریک کے پر تشدد دنوں میں نقل مکانی کرکے مشرقی ساحل پر آبسے۔

یہاں ہر شخص اوباما کی محبت میں گرفتار ہے۔

برک چرچ شہر کے ایک چوراہے پر کھڑے پالین نامی ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ ’صرف میں ایک کیا پوری دنیا اوباما کی منتظر ہے‘۔

’’اگر اوباما صدر منتخب نہ ہوا تو بہت برا ہوگا۔ ’بہت برا‘ سمجھے میرا مطلب کیا ہے-‘‘

نیویارک، نیوجرسی اور کانٹے کے مقابلے والی ریاست پینسلوینیا میں پالین کی طرح بہت سے لوگ ’بہت برا ہوگا‘ کا خدشہ اظہار کر رہے ہیں۔

’بہت برا ہوگا، افرا تفری ہوگی اور دنگا فساد ہوگا‘۔ اسطرح کے باتیں گورے ہوں کہ سیاہ فام، کئي لوگوں کو کہتے سنا۔

لیکن امریکہ کے جنوب میں پیدا ہونیوالی کیرول (جو اپنا آخری نام نہیں بتانا چاہتی تھیں) کا کہنا تھا کہ ’ کجھ بھی نہیں ہوگا‘۔ کیرول افریقی امریکی نژاد ہیں جو انیس سو چوالیس میں جنوب میں پیدا ہوئی تھیں اور امریکہ کے شمال میں نیوجرسی آکر بس گئیں۔

کیرول سینیٹر اوباما کی حامی ہیں

کیرول کہتی ہیں’میں ساری عمر ڈیموکریٹ رہی ہوں لیکن مجھے اس بات سے نفرت ہے کہ میں سفید فام صدارتی امیدوار کو ووٹ دیتی آئي ہوں۔ تم میری طرف سے لکھ کر سب کو یہ بتائو کہ اب امریکہ میں سیاہ فام صدارتی امیدوار ہے اور وہ ہارورڈ یونیورسٹی کا گریجوئٹ ہے۔ وہ سفید فاموں کے تعلیمی سسٹم میں سے آيا ہے۔ اسے سیاہ فام اور سفید فام دونوں نے امیدوار چنا ہے۔ اسکے پاس اپنی مہم چلانے کیلیے سیاہ فام لوگوں کا پیسہ نہیں، اسکے پاس سفید فام لوگوں کا دیا ہوا پیسہ ہے۔‘

’ کسی کا دماغ چل گیا ہوگا جو ریپبلیکنزکو ووٹ دے گا،‘ کیرول نے کہا۔

چوراسی سال کی نینسی اطالوی نژاد ہیں اور علاقے میں ان سفید فاموں کی اس چھوٹی سے اقلیت سے تعلق رکھتی ہے جو انیس سو سڑسٹھ کے زبردست نسلی فسادات میں نقل مکانی کر کے جانے سے کسی مجبوری سے رہ گئے تھے۔

نیینسی کہہ رہی تھیں: ’انیس سو سڑسٹھ سے پیشتر ایسٹ اورنج میں شاذو نادر ہی سیاہ فام آبادی تھی۔‘

نیننسی نے اپنا پہلا ووٹ صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کو دیا تھا اور وہ ساری عمر ڈیموکریٹ رہی ہیں پر وہ کہتی ہیں کہ ’اس بار میں اوباما اور مکین دونوں میں سے کسی کو ووٹ نہیں دوں گي کیونکہ دونوں امیدوار مسلسل جھوٹ بولے جارہے ہیں۔‘

لیکن شہر کے ایک ممتاز افریقی امریکی ڈاکٹر، جو آزاد ووٹر ہیں، اور چار ماہ قبل اسی جگہ مجھ سے کہتے تھے کہ ’امریکہ سیاہ فام صدر کو منتخب کرنے کیلیے تیار نہیں‘ اب اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھ سے کہہ رہے تھے:
’مسئلہ سیاہ فام امیدوار کا نہیں۔ اگر مسئلہ سیاہ فام آدمی کا ہوتا تو جیسی جیکسن بھی ماضي میں انتخابات میں کھڑے ہوئے، ایل شارپٹن بھی اور ان سے پہلے ایک خاتون سیاہ فام صدارتی امیدوار بھی، لیکن سیاہ فام آبادی نے انہیں ووٹ نہیں دیے تھے۔‘

’تاریخ بدل رہی ہے- بش اور چینی کو انسانیت کیخلاف جرائم کے ارتکاب میں جیل میں ہونا چاہیے۔‘

پھر اس ڈاکٹر نے کہا ’لیکن ٹام بریڈلی اثر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ینعی سفید فام ووٹر جائزوں میں سیاہ فام امیدوار کی حمایت کا دعوی کرنے کے باوجود آخری وقت میں اپنے ہی رنگ کے امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں
صدارتی بحث میں کون جیتا؟
27 September, 2008 | آس پاس
بی بی سی کا انتخابی سفر
15 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد