الیکشن کے بعد کشیدگی کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں اختتام ہفتہ ریپبلیکن پارٹی کی زبردست حمایتی ریاست نیوجرسی میں ڈیموکریٹک پارٹی کے حمایتی لیکن اکثریتی سیاہ فام علاقوں میں تھا۔ ایسٹ اورنج، برک چرچ، اور نیو آرک۔ یہاں سیاہ فام ہوں یا گورے، بہت سوں کو خدشہ ہے کہ چار نومبر کے انتخابات میں اوباما اور مکین میں سے کسی کے بھی ہار جانے کے بعد حالات کشیدہ ہو سکتےہیں۔ برک چرچ شہر اینٹوں سے بنے ایک گرجا اور اس میں کبھی مذہبی گیت گانے والی لیکن اب معروف گائکہ وٹنی ہیوسٹن کی وجہ سے زیادہ مشہور ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں انیس سو سڑسٹھ میں سفید فام اور سیاہ فام آبادیوں کے لوگوں کے درمیاں زبردست نسلی فسادات ہوئے تھے جن کے اثرات کئي ویران محلوں اور گلیوں کی شکل میں آج بھی موجود ہیں۔ اگرچہ یہ فسادات اب قصہء پارینہ بن چکے ہیں لیکن یہاں رنگ ونسل یا ریس فیکٹر آپکے کیساتھ دبے پـائوں چلتا رہتا ہے۔ ایسٹ اورنج اور اسکے گرد و نواح میں معیار زندگی قدرے بہتر ہو گیا ہے۔ بڑے کاروبار بنک کھل گۓ ہیں اور افریقی امریکی متوسط طبقہ مستحکم ہورہا ہے۔ یہاں افریقی امریکی نسل کے محنت کشوں سے لیکر ڈاکٹر، وکیل اور جج، ہر قسم کے لوگ بستے ہیں۔ بڑے بوڑھے جو پیدا تو جنوب میں ہوئے لیکن ’سیگریگیشن‘ اور شہری حقوق کی تحریک کے پر تشدد دنوں میں نقل مکانی کرکے مشرقی ساحل پر آبسے۔ یہاں ہر شخص اوباما کی محبت میں گرفتار ہے۔ برک چرچ شہر کے ایک چوراہے پر کھڑے پالین نامی ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ ’صرف میں ایک کیا پوری دنیا اوباما کی منتظر ہے‘۔ ’’اگر اوباما صدر منتخب نہ ہوا تو بہت برا ہوگا۔ ’بہت برا‘ سمجھے میرا مطلب کیا ہے-‘‘ نیویارک، نیوجرسی اور کانٹے کے مقابلے والی ریاست پینسلوینیا میں پالین کی طرح بہت سے لوگ ’بہت برا ہوگا‘ کا خدشہ اظہار کر رہے ہیں۔ ’بہت برا ہوگا، افرا تفری ہوگی اور دنگا فساد ہوگا‘۔ اسطرح کے باتیں گورے ہوں کہ سیاہ فام، کئي لوگوں کو کہتے سنا۔ لیکن امریکہ کے جنوب میں پیدا ہونیوالی کیرول (جو اپنا آخری نام نہیں بتانا چاہتی تھیں) کا کہنا تھا کہ ’ کجھ بھی نہیں ہوگا‘۔ کیرول افریقی امریکی نژاد ہیں جو انیس سو چوالیس میں جنوب میں پیدا ہوئی تھیں اور امریکہ کے شمال میں نیوجرسی آکر بس گئیں۔
کیرول کہتی ہیں’میں ساری عمر ڈیموکریٹ رہی ہوں لیکن مجھے اس بات سے نفرت ہے کہ میں سفید فام صدارتی امیدوار کو ووٹ دیتی آئي ہوں۔ تم میری طرف سے لکھ کر سب کو یہ بتائو کہ اب امریکہ میں سیاہ فام صدارتی امیدوار ہے اور وہ ہارورڈ یونیورسٹی کا گریجوئٹ ہے۔ وہ سفید فاموں کے تعلیمی سسٹم میں سے آيا ہے۔ اسے سیاہ فام اور سفید فام دونوں نے امیدوار چنا ہے۔ اسکے پاس اپنی مہم چلانے کیلیے سیاہ فام لوگوں کا پیسہ نہیں، اسکے پاس سفید فام لوگوں کا دیا ہوا پیسہ ہے۔‘ ’ کسی کا دماغ چل گیا ہوگا جو ریپبلیکنزکو ووٹ دے گا،‘ کیرول نے کہا۔ چوراسی سال کی نینسی اطالوی نژاد ہیں اور علاقے میں ان سفید فاموں کی اس چھوٹی سے اقلیت سے تعلق رکھتی ہے جو انیس سو سڑسٹھ کے زبردست نسلی فسادات میں نقل مکانی کر کے جانے سے کسی مجبوری سے رہ گئے تھے۔ نیینسی کہہ رہی تھیں: ’انیس سو سڑسٹھ سے پیشتر ایسٹ اورنج میں شاذو نادر ہی سیاہ فام آبادی تھی۔‘ نیننسی نے اپنا پہلا ووٹ صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کو دیا تھا اور وہ ساری عمر ڈیموکریٹ رہی ہیں پر وہ کہتی ہیں کہ ’اس بار میں اوباما اور مکین دونوں میں سے کسی کو ووٹ نہیں دوں گي کیونکہ دونوں امیدوار مسلسل جھوٹ بولے جارہے ہیں۔‘ لیکن شہر کے ایک ممتاز افریقی امریکی ڈاکٹر، جو آزاد ووٹر ہیں، اور چار ماہ قبل اسی جگہ مجھ سے کہتے تھے کہ ’امریکہ سیاہ فام صدر کو منتخب کرنے کیلیے تیار نہیں‘ اب اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھ سے کہہ رہے تھے: ’تاریخ بدل رہی ہے- بش اور چینی کو انسانیت کیخلاف جرائم کے ارتکاب میں جیل میں ہونا چاہیے۔‘ پھر اس ڈاکٹر نے کہا ’لیکن ٹام بریڈلی اثر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ینعی سفید فام ووٹر جائزوں میں سیاہ فام امیدوار کی حمایت کا دعوی کرنے کے باوجود آخری وقت میں اپنے ہی رنگ کے امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں۔‘ | اسی بارے میں اوباما کی حامی 106 سالہ راہبہ13 October, 2008 | آس پاس پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس اوبامہ: سارہ پیلن کا الزام مسترد06 October, 2008 | آس پاس صدارتی بحث میں کون جیتا؟27 September, 2008 | آس پاس امریکی انتخاب - نیو میکسیکو کا پلڑا بھاری19 September, 2008 | آس پاس بی بی سی کا انتخابی سفر15 September, 2008 | آس پاس اوباما مکین سے زیادہ پسندیدہ10 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||