BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 October, 2008, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تہلکہ مچانے والے اوباما
اوباما
سینتالیس سالہ بارک اوباما کو سنہ دو ہزار چار کی ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں کی گئی تقریر میں قومی اور عالمی شہرت ملی
’راک سٹار‘ اور ’بیچ بیب‘ جیسے القاب عام طور پر امریکی سینیٹر کے لیے استعمال نہیں کیے جاتے لیکن پھر اوباما کی طرح کسی اور سینیٹر نے امریکہ میں تہلکہ بھی نہیں مچایا۔

سینتالیس سالہ بارک اوباما کو سنہ دو ہزار چار کے ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں کی گئی تقریر میں قومی اور عالمی شہرت ملی جس میں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے امریکی روایات کی بات کی۔

باراک اوباما انیس سو اکسٹھ میں امریکی ریاست ہوائی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا تعلق کینیا سے جبکہ والدہ کا ہوائی سے تھا۔

والدین کی ملاقات دوران طالب علمی ہوائی یونیورسٹی میں ہوئی جہاں پر ان کے والد سکالرشپ پر پڑھنے آئے ہوئے تھے۔

والدین کی علیحدگی اور طلاق کے بعد اوباما اپنی والدہ کے ساتھ امریکہ اور کچھ عرصے کے لیے انڈونیشیا میں رہے کیونکہ ان کے سوتیلے باپ کا تعلق انڈونیشیا سے تھا۔

امریکی سینیٹ انتخابات میں جیت کے چند ماہ بعد وہ میڈیا کی پسندیدہ شخصیت بن گئے۔ انہوں نے دو کتابیں بھی لکھی ہیں۔

انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی لاء سکول سے تعلیم حاصل کی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں وہ ہارورڈ لاء ریویو کے پہلے سیاہ فام امریکی صدر بنے۔

انہوں نے شکاگو میں پہلے سماجی پرورگراموں میں اور پھر بطور وکیل کام کیا۔ وہ آٹھ سال تک ریاست الینوائے کی سیاست میں سرگرم رہے اور سنہ دو ہزار چار میں وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے۔

اوباما کی اہلیہ میشیل رابنسن بھی وکیل ہیں اور پرنسٹن اور ہارورڈ کی پڑھی ہوئی ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں جن کی عمریں نو اور چھ سال ہیں۔

باراک اوباما کو مبینہ طور پر قتل کرنے کی سازش میں بھی کی گئی۔ حکام کے مطابق پال سکیلیسمین اور ڈینیئل کووارٹ نے ’قتل کی سازش کی جس کے تحت درجنوں سیاہ فام افراد کو ہلاک کیا جانا تھا اور باراک اوباما کو قتل کرنا سازش کا منتہائے مقصود تھا۔‘

باراک اوباما نے پچھلے سال فروری میں امریکی صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اوباما
اوباما نے پچھلے سال فروری میں امریکی صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا

اوباما کو اوپرا ونفری کی حمایت بھی حاصل ہوئی جنہوں نے اوباما سے کہا کہ وہ صدر کے لیے امیدوار ہونے کا اعلان ان کے پروگرام میں کریں۔

سنہ دو ہزار سات میں ساؤتھ کیرولائنا میں ان کے جلسے میں تیس ہزار افراد نے شرکت کی جن کا کہنا تھا کہ وہ بہت ایماندار معلوم ہوتے ہیں۔

اوباما نے فنڈ اکٹھے کرنے کے بھی تمام ریکارڈ توڑ دیے جب انہوں نے نہ صرف انٹرنیٹ سے چھوٹی مقدار میں فنڈز اکٹھے کیے بلکہ بڑی کمپنیوں سے بھی فنڈز حاصل کیے۔

سینیٹر اوباما دو دہائی تک شکاگو میں ٹرینٹی یونائیٹڈ چرچ جاتے رہے لیکن سنہ دو ہزار آٹھ میں میں یہ وابستگی اس وقت ختم کی جب وہاں کے پادری نے متنازعہ بیان دیا۔

ٹرینٹی یونائیٹڈ چرچ کے پادری ریورینڈ جیریمیا نے ستمبر گیارہ کے حملوں کے بعد کہا تھا کہ سیاہ فام افراد کو کم تر سمجھنے کے لیے خدا امریکہ پر عذاب لائے۔

اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے اوباما نے نسلی مسئلے کو براہ راست حل کرنے کی کوشش کی۔ ’اس مسئلے پر غصہ موجود ہے اور بہت شدید ہے۔ اس پر آنکھیں بند کر لینے سے یہ مسئلہ ختم نہیں ہو گا اور نہ ہی اس کی بنیادی وجہ معلوم کیے بغیر نسلی امتیاز پر تنقید کرنا عقلمندی ہے۔‘

بارک اوباما نے شروع ہی سے عراق جنگ کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اس مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے۔

بارک اوباما ایران کے ساتھ ’نجی جارحانہ حکمت عملی‘ کے حق میں ہیں۔ وہ غیر مشروط طور پر ایران کے رہنماؤں سے ملنے کے حق میں ہیں۔

اوباما اکثر مذاق کرتے ہیں کہ لوگ ان کا نام درست نہیں لیتے کیونکہ کچھ لوگ ’الاباما‘ کہتے ہیں تو کچھ ’یو ماما‘۔

’سیاہ فام ساتھ ہیں‘
’اوباما کو سیاہ فام آبادی کی زبردست حمایت‘
باراک اوباما کی دادی’صدر اوباما‘
کینیا’صدر اوباما‘ کے استقبال کی تیاریاں شروع
 باراک اوبامہ بی بی سی سروے
بیرونی دنیا میں مکین سے زیادہ اوباما مقبول
میکین اور اوبامااوبامہ پیچھے کیوں؟
جان میکین نے باراک اوباما پر سبقت پا لی
براک اوبامااوباما کی معذرت
خاتون صحافی کو ’سویٹی‘ کہنے ہر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد