خطروں کی کھلاڑی سارہ پیلن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الاسکا کی پہلی اور کم عمر گورنر سارہ پیلن کے لیے کچھ نیا کرنا اب ایک نئی بات نہیں۔انہیں گورنری کے دو سالہ دور میں اصلاحات متعارف کروانے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ سنہ 2008 کے صدارتی انتخاب کی دوڑ میں انہیں بطور اپنی نائب کے متعارف کرواتے ہوئے ریپبلکن صدارتی امیدوار جان مکین نے کہا کہ سارہ ایک بااصول اور رحم دل خاتون ہیں جن میں مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ خاتون امیدوار ہونے کی بناء پر سارہ پیلن کا انتخاب جان مکین کی انتخابی مہم کو تقویت بخشے گا اور وہ ان ڈیموکریٹ ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہیں گی جو کہ ہلیری کلنٹن کے صدارتی امیدوار کی دوڑ سے باہر ہونے سے دلبرداشتہ ہو گئے ہیں۔ سارہ پیلن کو ان کے مضبوط سماجی اور قدرے قدامت پسند رویے کی وجہ سے بھی پہچانا جاتا ہے۔وہ اسقاطِ حمل کی مخالف کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وہ نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کی تاحیات ممبر بھی ہیں۔ تاہم پیلن کی سترہ سالہ بیٹی برسٹل کے حمل کے بارے میں ریپبلکن نیشنل کنونشن کے اجلاس کے آغاز میں بحث ہوتی رہی۔ کئی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ آیا ریپبلکن جماعت نے سارہ کے بارے میں تحقیقات ٹھیک طرح کی تھیں یا نہیں۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ الاسکا میں پیلن نے ایک وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ وہ پیلن کے خلاف لگائے گئے اختیارات کا ناجائز استعمال اور گورنر بننے کے بعد معاشی اصلاحات پر کی گئی تنقید کا جواب دے سکیں۔ مکین کی مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ پیلن کی جانچ کی گئی تھی۔ پیلن پہلی خاتون ہیں جن کو ریپبلکن جماعت نے نائب صدر کے لیے نامزد کیا ہے۔ ان سے قبل ڈیموکریت جماعت نے انیس سو چوراسی میں جیرالڈین فرارو کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ سابق ملکہ حسن سارہ پیلن کو شکار اور مچھلی پکڑنے کا شوق ہے۔ بیس سال سے شادی شدہ ہیں اور انہوں نے اپنے پانچویں بچے کو اپریل میں جنم دیا جو کہ ’ڈاؤنز سنڈروم‘ کا شکار ہے۔ ان کے بڑے بیٹے نے پچھلے سال فوج میں نوکری کی اور اگلے ماہ ان کی تعیناتی عراق میں ہونی ہے۔
وہ اپنے آپ کو ایک عام امریکی خاتون کے طور پر ووٹرز کے سامنے پیش کرنے میں بھی کامیاب رہی ہیں۔ ریپبلکنز کی جانب سے نامزدگی کے موقع پر بھی سارہ نے کہا کہ وہ سیاست کے میدان میں آنے سے قبل ’الاسکا کی ایک عام سی ماں‘ تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا تمام کیریئر کو ایک ہی خواہش سے تحریک ملتی رہی ہے اور وہ ہے’ سب سے پہلے عوام‘۔ الاسکا کی گورنر کی حیثیت سے بھی سارہ نے کئی نسلی اصلاحات متعارف کروائیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ صحیح اور عوام کے لیے مفید عمل کی خاطر سیاسی خطرات کا سامنا کرنے کو بھی تیار رہیں۔ سارہ پیلن الاسکا نیشنل گارڈز کی بھی سربراہ ہیں اور جان مکین کے مطابق یہ اس بات کا مظہر ہے کہ ’وہ جانتی ہیں کہ ہماری قوم کی رہنمائی کے لیے کیا چیز درکار ہے‘۔ تاہم اس سب کے باوجود ناقدین کا کہنا ہے کہ قومی اور عالمی سطح کے تجربے کی کمی کی وجہ سے سارہ نائب صدارت کے لیے ایک موزوں امیدوار نہیں ہیں۔ پیلن نے غیرملکی سفر بہت کم کیے ہیں۔ وہ کینیڈا کے علاوہ کویت اور جرمنی گئی ہیں جہاں انہوں نے امریکی فوجیوں سے ملاقات کی۔ انہیں الاسکا میں رشوت ستانی سے نمٹنے کے لیے بھی جانا جاتا ہے اور اس کی ایک بڑی مثال 2003 میں سارہ کا بطور ممبر الاسکا تیل و گیس کمیشن ریاست ریپبلکنز کے اعمال کی تحقیقات کروانا ہے۔ تاہم اس وقت خود بھی ایک سٹیٹ پبلک سیفٹی کمشنر کی برخاستگی پر ان کے خلاف ایک انکوائری چل رہی ہے۔ الاسکا کی گورنر منتخب ہونے سے قبل سارہ وسیلا نامی شہر کی کونسل ممبر اور 1996 سے 2002 تک اسی شہر کی میئر رہ چکی ہیں۔ 1987 میں اڈاہو یونیورسٹی سے صحافت اور سیاسیات میں ڈگری حاصل کرنے والی سارہ سیاست میں آنے سے قبل نہ صرف ٹیلیویژن پر کھیلوں کی خبریں پڑھتی رہی ہیں بلکہ وہ اپنے آبائی شہر میں ہونے والے مقابلۂ حسن کی فاتح بھی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||