سارہ پیلن بندوق بھی چلاتی ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ نے فلم شعلے تو دیکھی ہوگی اور اگر نہیں دیکھی تو پھر گھوڑے پر سوار، کمر میں دو دو پستول لٹکے ہوئے کاؤ بوائے اور وائیلڈ ویسٹ پر بنی کچھ فلموں میں سے کوئی ایک تو دیکھی ہوگی۔ امریکہ کے صدارتی انتخاب کی مہم کے لیے بی بی سی کی بس پر سوار جب میں اری زونا کے ریگستانی علاقوں سے گزرا تو ناگ فنی کی جھاڑیاں اور پتھریلے پہاڑ نظر آئے ۔ اسی کے درمیان نظر آیا بسا ہوا چھوٹا سا شہر ٹونبسٹن جسے دیکھ کر لگا میں ایسی ہی فلموں کے سیٹ پر پہنچ گیا ہوں۔ لوگ بڑے بڑے ہیٹ، چست پتلون گھٹنوں تک بوٹ اور چوڑی بیلٹ پہنے گھوم رہے تھے۔ بندوق کی وہاں کئی دکانیں ہیں اور صرف اپنا امریکی ڈرائیونگ لائسنس دکھا کر آپ بندوق خرید سکتے ہیں۔ یہاں کے اداکار باہر سے آئے لوگوں کو اس شہر کی تاریخ سے واقف کراتے ہیں جو تقریبا سوا سو برس پرانا ہے اور’ کورل گن فائٹ‘ کے نام سے تاریخ میں درج ہے۔ کہتے ہیں سنہ اٹھار سو اکیاسی کی یہ جنگ بھی پیسے والے ریپبلکن اور ڈیمو کریٹک کاؤبوائز گينگز کے درمیان شہر میں سیاسی دبدبہ قائم کرنے کے لیے تھی۔ ان دنوں ہفتے میں تقریبا بیس لوگ گولیوں کا نشانہ بنتے تھے۔
وقت بدل گیا ہے لیکن امریکہ کے وائلڈ ویسٹ کہلائے جانے والے ان علاقوں میں بندوق سے محبت کم نہیں ہوئی ہے۔ جم نیو بیرو کی بندوق کی دکان ہے اور گزشتہ دس ماہ میں وہ سو بندوقیں فروخت کر چکے ہیں۔ ان کے پاس دو سو ڈالر سے لے کر سولہ سو ڈالر تک کی قیمت کی بندوق ہے۔ اس شہر کی آبادی مشکل سے پندرہ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ان انتخابات میں ان کے لیے سب سے اہم موضوع کیا ہے؟ ان کا جواب تھا’ بندوقیں‘ کہنے لگے کہ ملک کے قانون نے ہمیں بندوق رکھنے کا حق دیا ہے اور یہ بر قرار رہنا چاہیے۔ انہیں صدارتی امید وار میں جان مکین سے زیادہ دلچسپی ہے۔
اس شہر میں بندوقوں کی آواز خاموش نہیں کرائی جا سکتی اور ظاہر ہے اس کا فائدہ جان مکین کو ہوگا کیونکہ یہاں کے مرد ہی نہیں بلکہ خواتین کو بھی بندوقوں سے لگاؤ ہے۔ فونیکس میں رہنے والی کیرال رو کام سے واپس آکر شام کو ٹارگیٹ شوٹنگ پر نکل پڑتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہاں اس کا شوق شروع سے رہا ہے۔ پہلے لوگ اسے زندہ رہنے کے لیے رکھتے تھے اور اب یہ امریکی روایت کا حصہ بن چکی ہے۔ یہ وہ امریکہ ہے جہاں خاندان، چرچ، ملک اور فوج کی بڑی اہمیت ہے اور بندوق اسی سوچ اور زندگي کاحصہ ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس میں جان مکین نے سارا پیلن کو اپنا نائب صدارتی امید وار پیش کر کے جوش بھر دیا ہے۔ کیونکہ سارہ پیلن گھر چلاتی ہیں، چرج جاتی ہیں اور بندوق بھی چلاتی ہیں۔ اس ماحول میں باراک اوبامہ بندوق کے حق میں بات کریں یا اس کے خلاف، ایسی تصویریں ان کے ٹکٹ پر نظر نہیں آسکتیں۔ | اسی بارے میں بی بی سی کا انتخابی سفر15 September, 2008 | آس پاس اوباما امریکہ سے باہر اتنے مقبول کیوں؟27 August, 2008 | آس پاس سارہ پیلن کون ہیں؟30 August, 2008 | آس پاس ’اخلاقی حیثیت بحال کرواؤں گا‘29 August, 2008 | آس پاس اوباما مکین سے زیادہ پسندیدہ10 September, 2008 | آس پاس اوباما نے صحافی سے معافی مانگ لی15 May, 2008 | پاکستان اولمپک گیمز: بش بیجنگ جائیں گے03 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||