 | | | محض بالوں کی آرائش اور چہرے کے میک اپ پر ماہِ ستمبر کے دوران چار ہزار سات سو سولہ ڈالر اور انچاس سینٹ کا بِل ادا کیا گیا۔ |
جب سے سارہ پیلن کو نائب صدارت کا امیدوار بنایا گیا ہے، ری بپلکن پارٹی اس کے میک اپ اور لباس پر ڈیڑھ لاکھ ڈالر خرچ چُکی ہے۔ بناؤ سنگھار کا یہ سلسلہ گذشتہ ماہ شروع ہوا جب نیو یارک کے ایک اِسٹور سے سارہ نے پارٹی کے خرچ پر انچاس ہزار چار سو پچیس ڈالر اور چوہتر سینٹ کی خریداری کی۔ کھوج لگانے والوں نے یہاں تک پتہ چلا لیا کہ محض بالوں کی آرائش اور چہرے کے میک اپ پر ماہِ ستمبر کے دوران چار ہزار سات سو سولہ ڈالر اور انچاس سینٹ کا بِل ادا کیا گیا۔ پارٹی کے ترجمان ذرائع ابلاغ پر آکر وضاحت کر چکے ہیں کہ انتخابی مہم کے لیے سارہ کے جو خصوصی لباس بنوائے جا رہے ہیں، وہ انتخابی ہنگامہ ختم ہوتے ہی خیرات میں دے دیئے جائیں گے۔ چنانچہ ان کے بقول اس موضوع پر اتنا شور و غل مچانے کی ضرورت نہیں ہے۔ امیدواروں کے لباس اور بناؤ سنگھار پر ہونے والے اخراجات امریکی ذرائع ابلاغ کا محبوب موضوع رہے ہیں۔ سن دو ہزار میں ڈیمو کریٹ صدارتی امیدوار الگور پر اعتراض کیا گیا تھا کہ انہوں نے صدارتی دوڑ میں آنے کے بعد مہنگا لباس پہننا شروع کردیا ہے اور سن 2006 میں ہیلری کلنٹن  | | | اعتراض کیا گیا کہ انھوں نے تین ہزار ڈالر کی مالیت کا لباس سلوایا ہے | پر اعتراض کیا گیا کہ انہوں نے تین ہزار ڈالر کی مالیت کا لباس سلوایا ہے۔ اسی طرح ڈیموکریٹ امیدوار جان ایڈورڈ پر اعتراض ہوا کہ انہوں نے آرائشِ گیسو پر چار ہزار ڈالر خرچ کر دیئے اور جان مکین نے کالے چمڑے کی ایک جیکٹ خریدی جسکی قیمت 520 ڈالر تھی۔ بارک اوباما کے لباس، جوتوں اور آرائشِ گیسو کے بارے میں بھی کھوجی بہت مصروف رہے ہیں لیکن انہیں ایسے اخراجات کا کوئی سراغ نہ مِل سکا جسے فضول خرچی کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ |