BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 October, 2008, 13:19 GMT 18:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیٹریئس، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ
جنرل ڈیوڈ پیٹریئس
عراق، افغانستان، پاکستان اور ایران جیسے ممالک کی ذمہ دار ہوں گے
جنرل ڈیوڈ پیٹریئس امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ مقرر کیے گئے ہیں اور وہ اکتیس اکتوبر سے مشرق وسطیٰ اور زیادہ تر ایشیا میں امریکی فوج کی سربراہی کریں گے۔

عراق، افغانستان، پاکستان اور ایران جیسے ممالک ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس عراق میں امریکی فوج کہ سربراہ تھے اور وہاں بہتر ہوتی ہوئی صورتحال کا سہرا ان کے سر جاتا ہے۔

جنرل ڈیوڈ پیٹریئس کی کمانڈ سنبھالنے کی تقریب کی صدارت امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کریں گے۔

بی بی سی کے راب واٹسن کا کہنا ہے کہ جنرل پیٹریئس کی زیادہ توجہ عراق اور افغانستان پر ہو گی۔

عراق میں جنرل پٹریئس کو امریکی افواج میں کمی کرنے کے عمل کو دیکھنا ہو گا۔ یاد رہے کہ انہوں نے فوج میں جلد کمی کی مخالفت کی ہے۔

ان ہی کے کمانڈ میں عراق میں فوج میں اضافہ کیا گیا اور تشدد زدہ علاقوں میں تقریباً تیس ہزار فوجی تعینات کیے گئے۔ ان کی کمانڈ میں امریکی فوجی اڈوں سے نکل کر گنجان آباد علاقوں میں داخل ہوئے اور اس وقت سے حالات میں بہتری آئی۔

افغانستان کے حوالے سے وہ پہلے ہی حکمت عملی میں تبدیلی کے حق میں ہیں۔ ان کے حکمت عملی میں طالبان سے بات چیت شامل ہے۔

افغانستان کی صورتحال میں بہتری ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہوگی۔

جنوبی ایشیا کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل پیٹریئس طالبان کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔ ’امریکہ طالبان سے مذاکرات نہیں کرے گا۔ تاہم افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کی بات چیت کی پالیسی ہے اور امریکہ اس پالیسی کی حمایت کرے گا۔‘

انوں نے کہا ’یہ افواہیں ہیں کچھ طالبان کمانڈر ہتھیار ڈالنے کو تیار ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ بسیں اغوا کرتے رہتے ہیں اور سر قلم کرتے رہتے ہیں۔‘

جنرل پیٹریئس نے جب فروری سن دوہزار سات میں کثیر القومی افواج کی کمانڈ سنبھالی توانہیں صدر بش کی عراق پالیسی میں آخری اُمید کے طور پر دیکھا جانے لگا تھا اور اُس وقت کے حالات میں بہترین کمانڈر بھی۔

پیٹریئس کے بارے میں اب کہا جارہا ہے کہ کیا وہ اپنی عراق پالیسی کی کامیابی کا تجربہ افغانستان میں بھی کریں گے۔

پیٹرس نے پرنسٹن یونیورسٹی سے عالمی امور میں پی ایچ ڈی کی ہے۔

جنرل پیٹریئس کے اثر رسوخ کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں آئےگی ۔ مگر یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اوباما ہوں یا مکین وہ دونوں کے چہیتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد