عراق میں اہم القاعدہ رہنما ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے عراق کے شمالی شہر موصل میں ایک آپریشن کے دوران عراق میں القاعدہ کے نمبر دو کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے ابو قصورہ کے نام سے جانے جانے والے اس شخص کا تعلق مراکش سے تھا۔ ایک بیان میں کہاگیا کہ ابو قصورہ جون دو ہزار سات میں سینیئر کمانڈر بنے اور ان کے افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کی اعلی قیادت سے تعلقات تھے۔ امریکی ترجمان کے مطابق ابو قصورہ القاعدہ کے ایک ’کمانڈ اور کنٹرول‘ مرکز پر پانچ اکتوبر کو حملے میں ہلاک ہونے والے پانچ شدت پسندوں میں شامل تھے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ابو قصورہ ایک پرکشش رہنما تھے اور ان کی ہلاکت سے القاعدہ کی کارروائیوں کو بڑا دھچکا لگے گا۔ اگر ابو قصورہ کی ہلاکت کی تصدیق ہوجاتی ہے تو وہ امریکیوں کے مطابق عراق میں گزشتہ تین روز میں ہلاک ہونے والے القاعدہ کے دوسرے اہم رہنما ہونگے۔ اس سے قبل امریکی فوج نے ماہرالزبیدی نامی شدت پسند رہنما کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا۔ | اسی بارے میں بغداد کا سینئر بمبار ہلاک:امریکہ05 October, 2008 | آس پاس القاعدہ مخالف ملیشیا، تنخواہ عراق کا ذمہ01 October, 2008 | آس پاس عراق:’طاقت،وسائل کی جنگ جاری‘01 October, 2008 | آس پاس عراق: موصل میں خودکش حملہ05 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||