BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 November, 2008, 00:24 GMT 05:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صدر کوئی بھی، بڑا چیلنج پاکستان‘

باراک اوبامہ اور جان مکین
’اگرچہ صدارتی مباحثوں میں جان مکین نے اوبامہ سے ذرا سا مختلف موقف اختیار کیا ہے لیکن وہ بھی وہی کریں گے جو اوبامہ نے کہا ہے‘
امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر اسٹیون کک نے کہا ہے کہ آئندہ منگل کو ہونے والے انتخابات میں منتخب ہوکر آنے والے صدر کے لیے امریکی خارجہ پالیسی میں سب سے بڑا چیلنج پاکستان ہوگا- انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کوئي بھی منتخب ہو کر آئے اس سے قطع نظر کہ اسامہ بن لادن کہاں ہے ان کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاع پا کر امریکہ حملہ کرے گا-

واشنگٹن میں امریکی تھِنک ٹینک کونسل آن فارن افیئرز میں مڈ ایسٹرن اسٹڈیز کے سینئر فیلو اسٹیون کک غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ’امریکی انتخابات کے بعد امریکی عالمی پالیسی‘ پر ایک بریفنگ کے دوران بی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی طرف سے نیویارک سے وڈیو سکرین پر پوچھے جانے والے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے-

کک نے کہا کہ امریکی اسامہ بن لادن کی ٹوہ میں لگے ہوئے ہیں اور آخر کار وہ اسے ڈھونڈ ہی نکال لیں گے اور پھر انصاف کے کٹہرے تک بھی لے آئيں گے۔ انہوں نے کہا صدر کوئی بھی ہو اسے ڈھونڈہ نکالنے کی امریکی پالسی وہی رہنے کا امکان ہے۔

اسٹیون کک نے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ کے لیے خارجہ پالسی میں سب سے بڑا چیلینج یہ ہوگا کہ پاکستان کے بارے میں کیا کیا جائے- امریکی پالسیوں کے اس ماہر نے کہا ’فرینکلی بتاؤں کہ مجھے پاکستان پر بش انتظامیہ کی پالیسی کبھی سمجھ میں نہیں آئي۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ بش انتظامیہ نے پاکستان میں آدھا تیتر آدھا بٹیر والی صورتحال پیدا کیے رکھی۔‘

حال ہی میں ان کی مصر، ترکی اور الجزائر کی فوج اور حکومتوں پر لکھی ہوئی کتاب ’رولنگ ناٹ گورنننگ‘ کے مصنف اسٹیون کک نے کہا کہ ’ہماری پاکستان کی پالیسی مصر کے لیے اختیار کی ہوئی روایتی پالسی کی طرح تھی۔ مگر ہمیں پاکستان میں یا تو مشرف کی حمایت کرنی چاہیے تھی یا جمہوری تبدیلی کی، نہ کہ دونوں کی نیم حمایت کی پالیسی اختیار کیے رکھتے۔‘

کک نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ نئے منتخب ہوکر آنے والے صدر پاکستان کی طرف امریکی پالسیوں پر نئی لیکن کڑی نگاہ دوڑائیں گے، خاص طور موجودہ پالیسی کو جو کہ ’ہاٹ پرسوٹ‘ والی پالیسی نہیں بلکہ عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں کی اطلاعات پر آگے پيچھے کارروائياں کرتے رہنے کی پالیسی ہے، اور یہ بھی کہ اس پالیسی سے کس حد تک پاکستان کا استحکام متاثر ہوا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کچھ پاکستان کی طرف موجودہ پالیسی سے پاکستان کی حکومت کو بھی بہت مشکلات کا سامنا ہے اور امریکی حکومت کو بھی-

اسٹیون کک نے کہا کہ اگرچہ صدارتی مباحثوں میں جان مکین نے اوبامہ سے ذرا سا مختلف موقف لیا ہے لیکن وہ بھی وہی کریں گے جو اوبامہ نے کہا ہے-

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عراق، ایران، اور عرب اسرائیل تنازعے سے بھی زیادہ اہم ترین مسئلہ نئے صدر کے لیے پاکستان اور افغانستان ہوں گے۔

اسی بارے میں
مختلف مسائل، مختلف رائے
28 October, 2008 | آس پاس
مکین کےحملوں سے ناراض
25 October, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد