باراک اوباما یا جان مکین: فیصلے کا دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طویل ترین اور مہنگی ترین انتخابی مہم کے اختتام پر امریکی ووٹر منگل کو ملک کی تاریخ کے چوالیسویں صدر کو منتخب کرنے کے تیار ہیں۔ پولنگ صبح چھ بجے سے رات سات بجے تک جاری رہے گی، پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق نیو یارک سمیت بعض ریاستوں میں پولنگ تین بجے سہ پہر شروع ہوگی جبکہ کیلیفورنیا اور ایریزونا سمیت بعض مغربی کنارے کی ریاستوں میں پولنگ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے شروع ہوگی۔ آخری دن تک کیے جانے والے سروے کے مطابق ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوبامہ کو اپنے حریف ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار جان مکین پر بظاہر برتری حاصل ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انیس سو چونسٹھ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں حریف جماعتوں کے امیدواروں میں مقبولیت کے تناسب کا اتنا بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ یعنی باراک اوباما کو جان مکین پر مجموعی طور پر تقریباً چودہ فیصد سے زیادہ فوقیت حاصل ہے۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات کو ویسے تو ابتدا سے ہی تاریخ ساز قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن چار نومبر سن دو ہزار آٹھ کو ہونے والے اِن انتخابات کو خصوصی تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ امریکی انتخابات میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایک سیاہ فام امریکی صدارتی دوڑ میں نازمد ہوا ہو۔ باراک اوباما اگر منگل کو ہونے والا انتخابی مقابلہ جیت لیتے ہیں تو وہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر ہونے کا اعزاز حاصل کریں گے۔ بصورت دیگر ریپبلکن پارٹی کو تیسری بار فتح نصیب ہوگی اور اس کے ساتھ الاسکا کی گورنر سارا پیلن جو ریپبلیکن پارٹی کی نائب صدر کی امیدوار ہیں، انہیں امریکہ کی تاریخ کی پہلی خاتون نائب صدر ہونے کا اعزاز نصیب ہوگا۔ جو کہ مبینہ طور پر رجعت پسند سمجھی جانے والی ریپبلکن پارٹی کی روشن خیالی کاایک بڑا فیصلہ ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکی عوام، حالیہ اقتصادی بحران کی وجہ سے تنزلی کی کیفیت میں انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے قبل امریکی تاریخ میں کبھی بھی انتخابات کے موقع پر حکمران پارٹی اور اس کا صدر اس قدر غیر مقبول نہیں رہے جیسے آج کے صدر جارج ڈبلیو بش ہیں۔ باراک اوباما جنہوں نے بلاشبہ گزشتہ مہینوں میں ایک بڑی منظم اور مہنگی انتخابی مہم چلائی ہے، اگر جیت جاتے ہیں تو ان کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ صدر بش اور ان کی پالیسیوں سے لوگوں میں پائی جانےوالی مایوسی ہو گی۔ جیسا کہ صدر بش کی جماعت کے نامزد صدارتی امیدوار جان مکین کہتے رہے ہیں۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ صدر جارج بش کی غیر مقبول پالیسیوں نے جان مکین کی صدارتی مہم کو بھی انتہائی مشکل بنا دیا ہے اور انہوں نے صدر بش کی بعض پالیسیوں سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھنے کی بڑی کوشش بھی کی ہے لیکن کمبل ہے کہ ان کی جان ہی نہیں چھوڑ رہا ہے۔ ان انتخابات میں جو بھی کامیابی حاصل کرے، اُسے ملک کی تاریخ کے بدترین اقتصادی بحران سے نمٹنے کے علاوہ عراق اور افغانستان میں جاری جنگوں کے پیچیدہ معاملات کا سامنا بھی کرنا ہو گا اور ان کے لیے پاکستان کا نیا محاذ کھولنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ انتخابی مہم کے آخری دونوں میں امیدواروں نے انتہائی مصروف دن گزارا۔ جان مکین نے ملک کے طول و ارض میں ہزاروں میل کا سفر کر کے سات اہم ریاستوں کا دورہ کیا۔ جبکہ باراک اوباما نے فلوریڈا سمیت تین بڑی ریاستوں میں ووٹرز سے خطاب کیا۔ فلوریڈا میں جہاں سخت مقابلہ ہونے کی توقع ہے باراک اوباما کے حامیوں نے ان کا زبردست استقبال کیا۔ باراک اوبامہ نے اکیس ماہ پر طویل اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک لاکھ میل سے زیادہ کا سفر کیا، ستر کروڑ ڈالر خرچ کیئے اور کئی لاکھ لوگوں سے خطاب کیا۔ لیکن انہوں نے اپنی نانی کی وفات کی وجہ سے پولنگ شروع ہونے سے محض چند گھنٹے قبل مہم ترک کرنے کا غیر اعلانیہ فیصلہ کیا۔ | اسی بارے میں باراک اوبامہ کی نانی انتقال کر گئیں03 November, 2008 | آس پاس مکین کی حمایت میں ڈک چینی02 November, 2008 | آس پاس ’صدر کوئی بھی، بڑا چیلنج پاکستان‘01 November, 2008 | آس پاس پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس امریکی انتخاب محض کاسمیٹک تبدیلی؟22 October, 2008 | آس پاس پیٹریئس، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ31 October, 2008 | آس پاس امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت28 October, 2008 | آس پاس مکین کےحملوں سے ناراض25 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||