مکین کے علاقوں میں اوبامہ کی مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی انتخابات میں ایک طرف جہاں باراک اوبامہ کو رائے شماری کے تقریبا سبھی جائزوں میں مسلسل برتری حاصل ہے، وہیں دوسری جانب انہوں نے اپنے حریف جان مکین کے روایتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر اشتہاری مہم بھی شروع کردی ہے۔ ریاست اریزونا میں، جو کہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین کی آبائی ریاست ہے، وہاں باراک اوبامہ نے بڑے پیمانے پر اشتہارات جاری کیے ہیں۔ جورجیا اور شمالی ڈکوٹا میں بھی ڈیموکریٹِک پارٹی کے امیدوار نے بڑے پیمانے پر اشتہارات جاری کیے ہیں۔ امریکی صدارت کے لیے چار نومبر کو ووٹِنگ ہوگی لیکن امریکی ووٹر پوسٹل بیلٹ اور قبل از وقت ہونے والی ووٹنگ کے ذریعے پہلے سے ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں۔ جمعہ تک ریاست جورجیا میں اکتیس فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا جس کے بارے میں باراک اوبامہ کے مشیر مثبت امیدیں رکھتے ہیں۔ دریں اثناء ریاست کیلیفورنیا کے گورنر اور سابق ہالی وُڈ اداکار آرنلڈ شوارزنیگر نے ریاست اوہائیو میں جان مکین کی انتخابی مہم حصہ لیا اور صدارت کے لیے ان کی حمایت کی۔ آرنلڈ شوارزنیگر نے کہا: ’سینیٹ میں اپنے حریف کی خدمت کے مقابلے میں جان مکین نے (قیدی کی حیثیت سے جنگی) کیمپ میں اس ملک کی طویل خدمت کی ہے۔‘ ادھر ڈیموکریٹِک امیدوار باراک اوبامہ نے آئیوا اور انڈیانا میں انتخابی ریلیوں میں شریک بڑے ہجوم سے خطاب کیا ہے۔ اوبامہ نے اپنے حامیوں کو آگاہ کیا کہ جان مکین انتخابی مہم کے آخری دنوں میں ان پر اپنی تنقید میں شدید اضافہ کرسکتے ہیں۔
دریں اثناء سابق امریکی صدر الگور نے ریاست فلوریڈا میں باراک اوبامہ کے حق میں انتخابی مہم میں شرکت کی ہے۔ فلوریڈا میں کانٹے کی ٹکر ہے اور یہ ریاست کسی بھی امیدوار کے حق میں جاسکتی ہے۔ سن دو ہزار میں فلوریڈا میں اپنی شکست کا ذکر کرتے ہوئے الگور نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ باراک اوبامہ کی حمایت کریں۔ باراک اوبامہ جورجیا اور شمالی ڈکوٹا میں بھی اشتہاری مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں ریاستوں نے گزشتہ انتخابات میں ریپلکن پارٹی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ایک اشتہار میں کہا گیا ہے کہ جان مکین صدر جارج بش کی پالیسیاں جاری رکھیں گے۔ جبکہ دوسرے اشتہار میں سیاسی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا گیا اور اس بات کی بھی تشہیر کی گئی ہے کہ ریپبلِکن پارٹی کے سیاستدان اور سابق وزیر خارجہ کولن پاول نے بھی باراک اوبامہ کی حمایت کی ہے۔ رائے شماری کے تمام جائزوں سے لگتا ہے کہ باراک اوبامہ کو جان مکین پر مسلسل سبقت حاصل ہے۔ سی این این، ٹائم اور اوپینین ریسرچ نامی اداروں کے ایک مشترکہ جائزے کے مطابق ان لوگوں میں اوبامہ کو پانچ فیصد کی سبقت حاصل ہے جن کے بارے میں امید کی جارہی ہے کہ وہ ووٹ ڈالیں گے۔ اسی جائزے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی صدارت کے تیسرے امیدوار باب بار کو بھی چار فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ اور یہ بات امریکی صدارت کے نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
دیگر جائزوں میں بھی کچھ اسی طرح کی سبقت باراک اوبامہ کو حاصل ہے لیکن ایسے تمام جائزوں کے اوسط کے مطابق جان مکین باراک اوبامہ سے لگ بھگ چھ فیصد پیچھے ہیں۔ جان مکین کے انتخابی مینیجر رِک ڈیوِس نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے امیدوار آخری دنوں میں کامیاب رہیں گے۔ رِک ڈیوِس کا کہنا تھا کہ جان مکین کی یہ روایتی شبیہ کہ وہ انڈر ڈاگ (کمزور) ہیں جو آخر میں کامیاب رہتے ہیں، ثابت ہوگی۔ رِک ڈیوِس نے یاد دہانی کرائی کے ریپبلِکن پارٹی کے پرائمری انتخابات کے آغاز میں جان مکین کو کمزور امیدوار سمجھا گیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے کامیابی حاصل کی اور صدارت کے امیدوار بنے۔ ریاست اوہائیو میں ایک انتخابی مہم کے دوران جان میکین نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کی مہم کو ایک نئی طاقت مل رہی ہے۔ انہوں نے ووٹروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی ریاست فیصلہ کن ثابت ہوگی اور آپ یہ فیصلہ کریں گے کہ صدر کون بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باراک اوبامہ بائیں بازو کی سیاست کررہے ہیں جو ٹیکس بڑھاتے ہیں۔ نیو یارک کے سابق میئر روڈی جولیانی نے بھی جان مکین کے حق میں انتخابی مہم میں شرکت کی اور ووٹروں سے کہا کہ جان میکین عام امریکیوں کے امیدوار ہیں۔ جولیانی نے کہا کہ جان مکین آپ کے ٹیکس کم رکھیں گے اور معیشت کو بہتر کریں گے۔ ریاست پینسلونیا میں ریپلِکن جماعت کی جانب سے نائب صدارت کی امیدوار سارہ پیلِن نے بھی اپنی انتخابی مہم میں معیشت پر توجہ مرکوز رکھی اور باراک اوبامہ پر تنقید کی کہ وہ ٹیکس بڑھانا چاہتے ہیں۔ دریں اثناء باراک اوبامہ نے پانچ ملین ڈالر کی لاگت پر امریکی ٹیلی ویژن پر ایک تیس منٹ کے اشتہار کے ذریعے امریکی عوام کو خطاب کیا۔ امریکی صدارت کے انتخاب میں صرف تین دن باقی ہیں۔ جان مکین نے بھی ووٹروں سے مالی امداد کی اپیل کی ہے۔ رائے شماری کے جائزوں کے مطابق امریکہ کی ان بڑی ریاستوں میں جو صدارتی انتخابات کا فیصلہ کن نتیجہ دے سکتی ہیں جان مکین اور باراک اوبامہ کی حمایت میں کافی کم فرق ہے۔ |
اسی بارے میں خارجی امور کے ماہر جو بائڈن 28 October, 2008 | آس پاس ’کیلیفورنیا: جوش و خروش نہیں‘28 October, 2008 | آس پاس اوباما قتل سازش: ملزم عدالت میں28 October, 2008 | آس پاس امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت28 October, 2008 | آس پاس تہلکہ مچانے والے اوباما28 October, 2008 | آس پاس خطروں کی کھلاڑی سارہ پیلن28 October, 2008 | آس پاس اہم ریاستوں میں کیا نیلا، کیا لال29 October, 2008 | آس پاس ’صدر کوئی بھی، بڑا چیلنج پاکستان‘01 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||