BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 October, 2008, 08:22 GMT 13:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نسلی امتیاز کا خطرہ ابھی باقی ہے

امریکی الیکشن
سیاہ فام ووٹر اوباما کی بھر پور حمایت کر رہے ہیں
امریکہ میں آجکل ’ہیلووین‘ کی تیاری چل رہی ہے یعنی وہ تہوار جب ڈراؤنے مکھوٹے اور پوشاک پہن کر بچے اور بڑے گھر گھر چاکلیٹ مانگنے جاتے ہیں۔

اکتیس اکتوبر کو سڑکوں پر عجب ہی سماں ہوگا۔ لوگ طرح طرح کے ’کاسٹیوم‘ پہن کر گھروں سے نکلیں گے، جس نے چاکلیٹ دی وہ بچ گیا جس نے آناکانی کی اسے ڈارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

لیکن آجکل یہاں کی سیاست میں بھی ہیلووین کا ہی ماحول نظر آرہا ہے۔ کئی علاقوں میں ووٹروں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یا پھر پہلے سے موجود خوف کو ہوا دی جارہی ہے۔

اور لوگوں کو ڈارنے کے لیے جو نام لیے جا رہے ہیں وہ تو مختلف ہیں لیکن اشارہ ایک ہی طرف ہے۔ یعنی سیاہ فام، مسلمان، دہشت گرد یا پھر باراک اوباما۔

ریپبلکن پارٹی کے جلسوں میں آنے والے کئی لوگوں نے کبھی نعرے بازی سے تو کبھی فقرے کس کر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ اوباما مسلمان ہیں اور دہشت گرد بھی۔

 یہ نام شاید کچھ لوگوں کو صدام حسین کی یاد دلاتا ہے، دوسرا یہ دکھاتا ہے کہ باراک اوباما یہاں کے لوگوں سے الگ ہیں، ان کی سوچ الگ ہے، ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا
جان گبز، مبصر

کچھ دیر کے لیے تو شاید ان نعروں کو چند ناسمجھ لوگوں کا غصہ کہہ کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے لیکن کئی مقامات پر ریپبلکن پارٹی کے پلیٹ فارم سے پارٹی قائدین نے بھی اس طرح کی باتوں کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔

پینسلوینیا ریاست میں ریپبلکن پارٹی کےایک اعلی اہلکار بل پلیٹ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ ذرا سوچئے، پانچ نومبرکی صبح آپ جب سو کر اٹھیں گےاور خبروں میں سنیں گے کہ باراک حسین اوباما آپ کے صدر بن گئے ہیں تو آپ کو کیسا لگے گا؟‘

لیکن اگر کسی کے نام کے ساتھ حسین جڑا ہوا ہے تو اس میں ڈرنے یا ڈرانے والی ایسی کیا بات ہے؟

اوباما کے قتل کی سازش میں دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سینٹر فار امریکن پراگریس نامی تھنک ٹینک سے وابستہ شان گبز کے خیال میں بار بار حسین کا ذکر کرنے کے پیچھے دو مقاصد کارفرما ہیں۔

’یہ نام شاید کچھ لوگوں کو صدام حسین کی یاد دلاتا ہے، دوسرا یہ دکھاتا ہے کہ باراک اوباما یہاں کے لوگوں سے الگ ہیں، ان کی سوچ الگ ہے، ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔‘

جس طبقے سے وہ مخاطب ہیں، اسے وہائٹ ہاؤس میں ایک سیاہ فام صدر کو قبول کرنے میں ہی تھوڑی پریشانی ہوتی ہے، اور اگر وہ مسلمان بھی ہو تو پریشانی خوف میں بدل جاتی ہے۔‘

اور یہ حملے اوباما کی جانب سے کئی مرتبہ یہ واضح کیے جانے کے باوجود جاری ہیں کہ وہ مسلمان نہیں عیسائی ہیں۔

کئی ریپبلکن پارٹیوں میں کھل کر اس خوف کا اظہار کیا جارہا ہے۔ کوئی انہیں عرب سمجھتا ہے تو کسی کو ڈر ہے کہ وہ ملک کے دشمنوں کا ساتھ دیں گے۔

اگرچہ جان مکین نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے لیکن کئی قدامت پسند ریپبلکن رہنما ہیں جو اس خوف کو غلط نہیں مانتے۔

عیسائی قدامت پسند ادارے ’امریکن ویلیوز‘ کے سربراہ گیری بوئر کا ریپبلکن ووٹروں میں کافی اثرو رسوخ ہے اور وہ کھل کر کہہ رہے ہیں کہ اوباما کے بارے میں جو خدشات ہیں وہ بے بنیاد نہیں۔

’کسے معلوم ہے کہ اوباما کا تعلق شدت پسند اسلام سے نہیں تھا۔ وہ انڈونیشیا کے ایک مدرسے میں پڑھ چکے ہیں، کسی کو نہیں معلوم کہ انہیں کیسی تعلیم دی گئی۔وہاں تعلیم حاصل کرنے والے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مدرسہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے وہ مدرسے جہاں دی جانے والی تعلیم آج دنیا میں تشویش پیدا کر رہی ہے۔‘

اس طرح کی سوچ اور بھی کئی حلقوں میں نظر آتی ہے۔ لیکن جب تمام جائزوں کے مطابق اوباما مکین سے آگے چل رہے ہیں، تو ظاہر ہے کہ انہیں ہر رنگ و نسل کے لوگ ووٹ دے رہے ہوں گے، پھر انہیں کس بات کی فکر ہوسکتی ہے؟

بریڈلی افیکٹ کی۔ یعنی وہ ووٹر جو جائزوں میں ان کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں پولنگ والے دن سفید فام امیدوار کی حمایت تو نہیں کر بیٹھیں گے۔

پروفیسر راجن آنند اوباما کی انتخابی مہم سے وابستہ ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس خطرے کو پوری طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ میں آج بھی جب کچھ ووٹر پولنگ بوتھ میں داخل ہوں گے تو باراک اوباما کے نام اور ان کے رنگ اور نسل کو بھلا نہیں پائیں گے۔

نیت کا فتور
وعدہ سیاہ فام کو ووٹ سفید فام کو
فائل فوٹوامریکی انتخابات
امریکی معیشت، ابھرتے اوبامہ، ڈوبتے مکین
مسلمان نشانے پر
مکین کے حامیوں کا نشانہ: مسلمان ساتھی
جان مکین مکین کی مہم
پیچھے ہیں مگر مکین کاجوش جذبہ برقرار
’سیاہ فام ساتھ ہیں‘
’اوباما کو سیاہ فام آبادی کی زبردست حمایت‘
 باراک اوبامہ بی بی سی سروے
بیرونی دنیا میں مکین سے زیادہ اوباما مقبول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد