BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 October, 2008, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وعدہ کالے سے ووٹ گورے کو
بریڈلی ایفکٹ کے تحت سفید فام ووٹروں کی پولنگ بوتھ میں جا کر نیت بدل جاتی ہے
امریکی الیکشن کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور اس گہما گہمی میں آجکل ذرائع ابلاغ پر جو لفظ بار بار سننے کو مِل رہا ہے، وہ ہے وائلڈر ایفکٹ یا عملِ وائلڈر ہے کیا چیز؟

قصّہ یوں ہے کہ بیس برس پہلے ایک سیاہ فام امیدوار ڈگلس وائلڈر نے ریاست ورجینیا کے گورنر کا انتخاب لڑا ۔ بظاہر اسے ریاستی عوام کی بہت حمایت حاصل تھی اور رائے عامہ کے جائزوں میں اسے سفید فام امیدوار کے مقابل نو فیصد ووٹوں کی برتری حاصل تھی لیکن جس روز الیکشن ہوا یہ برتری بالکل ناپید ہوگئی اور ڈگلس وائلڈر محض گِنتی کے چند ووٹوں سے جیتے۔ آخر وہ نو فی صد کی برتری عین وقت پر کہاں غائب ہوگئی تھی؟

تجزیہ کاروں نے بعد میں کھوج لگائی کہ بہت سے سفید فام رائے دہندگان سرِعام تو کہتے ہیں کہ ہم سیاہ فام امیدوار کو ووٹ دیں گے لیکن ووٹنگ بُوتھ میں داخل ہوتے ہی اُن کی نیت بدل جاتی ہے اور وہ اپنا ووٹ سفید فام امیدوار کے حق میں ڈال دیتے ہیں۔

اِسی عمل کی ایک مثال 1982 میں اس وقت دیکھی گئی جبب کیلی فورنیا کے سیاہ فام میئر ٹام بریڈلی نے ریاستی گورنر کا انتخاب لڑا۔ الیکشن سے ایک دِن پہلے تک عوامی جائزوں میں انھیں اپنے سفید فام مدِمقابل پر بہت واضح برتری حاصل تھی لیکن اگلے روز جب الیکشن ہوا تو سفید فام امیدوار جیت گیا۔ چنانچہ اچانک کایا کلپ کے اس عمل کو بریڈلی ایفکٹ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

آجکل اِس کایا کلپ کا قصّہ اس لئے پھر سے تازہ ہوگیا ہے کہ صدارتی انتخاب میں سیاہ فام امیدوار باراک اوباما کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے اور عوامی جائزوں کے مطابق انھی کو امریکہ کا آئندہ صدر بننا چاہیئے لیکن عملِ بریڈلی یا عملِ وائلڈر کو سامنے رکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سیاہ فام امیدوار کے حق میں جانے والے سفید فام ووٹ عین آخری وقت میں اپنا راستہ تبدیل کرسکتے ہیں۔

اوپر کی دو مثالوں کے علاوہ اسکی تصدیق ایک اور الیکشن سے بھی ہوتی ہے۔ 1989 میں جب سیاہ فام ڈگلس وائلڈر محض گِنتی کے چند ووٹوں کی اکثریت سے ورجینیا کے گورنر بنے تو اُسی سال اُن کے ایک سیاہ فام ساتھی نے نیویارک کے میئر کا الیکشن بھی جیت لیا، لیکن یہ جیت بھی شکست کی سرحدوں کو چھُو رہی تھی حالانکہ الیکشن سے کچھ پہلے تک سیاہ فام امیدوار کو اٹھارہ پوائنٹ کی برتری حاصل تھی لیکن عین الیکشن کے وقت یہ برتری گھٹتے گھٹتے صرف دو پوائنٹ کی رہ گئی۔

کیلیفورنیا کے پروفیسر چارلس ہینری نے اس انتخابی کایا کلپ پر خاصی تحقیق کی ہے اور انکا کہنا ہے کہ جب تک باراک اوباما کو دس بارہ پوائنٹ کی برتری حاصل نہ ہو انھیں اپنی فتح کا یقین نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ کچھ سفید فام ووٹر آخری وقت میں راستہ بدل سکتے ہیں، لیکن خود مِسٹر وائلڈر، جو آجکل رچمنڈ اور ورجینیا کے میئر ہیں، کہتے ہیں کہ باراک اوباما کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ امریکیوں کی اکثریت اب گورے کالے کے چکّر سے نِکل چُکی ہے اور بہت کم ایسے لوگ رہ گئے ہیں جو ابھی تک رنگ و نسل کی بنیاد پر اپنا ووٹ استعمال کرتے ہوں۔

مسٹر وائلڈر نے تو یہاں تک کہا کہ اس بار کے انتخاب میں عملِ بریڈلی کی ایک بالکل متضاد صورتِ حال دیکھنے میں آئے گی اور ری بپلکن پارٹی کے کچھ ایسے حامی جو کھلے عام سیاہ فام اوباما کی حمایت نہیں کرسکتے، جب پولنگ بوتھ میں جائیں گے تو اوباما ہی کو ووٹ دیں گے۔

تاہم ٹیلی ویژن پر قدامت پسند گوروں اور جوشیلے کالوں کی جانب سے جو مواد پیش کیا جارہا ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امریکہ میں نسلی امتیاز کا مسئلہ قریب اِلاختتام ہے۔ البتہ رائے عامہ کے تازہ جائزے اس طرف ضرور نشان دہی کر رہے ہیں کہ نسلی مناقشے میں اب اتنا دم خم نہیں کہ ماضی کی طرح وہ انتخابی فیصلوں پر اثر انداز ہونے والا اہم ترین عنصر بن کر ابھرے

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد