ایریزونا کی رنگ بدلتی ریاست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کو کیلیفورنیا سے ایریزونا پہنچا، جہاں موسم قدرے گرم ہے۔ ایریزونا ریپبلکن پارٹی کی حامی ریاست سمجھی جاتی ہے۔ انیس سو بانوے سے لے کر سن دو ہزار چار کے درمیان ہونے والے چار صدارتی انتخابات میں سے تین بار اس ریاست سے ریپبلکن پارٹی نے میدان مارا۔ جبکہ سابق صدر بل کلنٹن کی دوسری مدتِ صدارت یعنی انیس سو چھیانوے کے انتخابات میں اس ریاست نے ریپبلکن کے بجائے ڈیموکریٹس کو ووٹ دیے۔ ایریزونا ریپبلکن پارٹی کے امیدوار بہتر سالہ سابق فوجی جان مکین کی آبائی ریاست ہے۔ پہلے اس ریاست کے آٹھ صدارتی ووٹ ہوا کرتے تھے لیکن سن دو ہزار چار کے صدارتی انتخاب میں مردم شماری کے اعتبار سے ان کے دو ووٹ بڑھے اور اب ان کے دس ووٹ ہیں۔ ایریزونا کے چھہتر فیصد آبادی انگریزی بولنے والوں کی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر یہاں ہسپانوی بولنے والے رہتے ہیں جن کی تعداد ساڑھے انیس فیصد کے قریب ہے۔ تیسری یہاں کی بڑی زبان نیویجو ہے جو دو فیصد لوگ بولتے ہیں۔
ریپبلکن کے امیدوار جان مکین کو یقین ہے کہ چار نومبر کے مجوزہ صدارتی انتحاب میں وہ ایروزونا سے کامیاب ہوجائیں گے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق وہ اپنی نائب صدر کی نامزد امیدوار سارہ پالن کے ہمراہ نتائج اس ریاست کے دارالحکومت فینکس میں بیٹھ کر دیکھیں گے۔ تاحال ایروزونا میں جان مکین کو اپنے سیاسی حریف باراک اوبامہ پر سات پوائنٹ کی برتری حاصل ہے۔ جان مکین سابق ہالی ووڈ کے اداکار اور کیلیفورنیا کے گورنر آرنلڈ شوارزنگر کے ہمراہ اہم ریاست اوہائیو میں اپنی انتخابی مہم میں مصروف رہے۔ ریاست اوہائیو کے پہلے اکیس صدارتی ووٹ تھے جو سن دو ہزار چار میں کم ہوکر بیس ہوگئے ہیں۔ اوہائیو سے بل کلنٹن کو دونوں بار ووٹ ملے جبکہ اس کے بعد جب صدر بش میدان میں آئے تو دونوں بار اس ریاست کی اکثریت نے انہیں جتوا دیا۔ اس بار سروے کے مطابق اوہائیو میں ڈیمو کریٹس کے امیدوار باراک اوبامہ کو آٹھ پوائنٹ کی جان مکین پر سبقت حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ جان مکین یہاں آخری وقت میں اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں۔ اکثر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جان مکین نے اوہائیو کے عوام کے ذہن تبدیل کرنے کا کوئی معجزہ کر دکھایا تو وہ ایک بار پھر سخت مقابلے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں اور بصورت دیگر ان کی ہار یقینی ہوجائےگی۔ | اسی بارے میں ’کیلیفورنیا: جوش و خروش نہیں‘28 October, 2008 | صفحۂ اول امریکہ: ریپبلکن معجزے کے منتظر30 October, 2008 | صفحۂ اول سارا پیلن سے فائدہ کم نقصان زیادہ31 October, 2008 | صفحۂ اول ’پاکستان: اصل خطرہ انڈیا نہیں‘01 November, 2008 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||