’پاکستان: اصل خطرہ انڈیا نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں آئندہ منگل کو ہونیوالے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ اگرچہ انڈیا پاکستان کا روایتی حریف ہے لیکن پاکستان کی سلامتی کو اصل خطرہ دہشتگردی سے ہے۔ اوبامہ ، جنہیں امریکہ میں اب تک رائے عامہ کے تمام جائزوں کے مطابق اپنے ریپبلیکن پارٹی کے حریف جان مکین پر سبقت حاصل ہے ، جمعہ کی شام سی این این ٹیلییوژن نیٹ ورک کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر منتخب ہونے کے بعد طالبان کے اندر سب سے اعتدال پسند دھڑے سے مذاکرات کر سکتے ہیں- انہوں نے کہا کہ ان کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد وہ جتنا جلد سے جلد ممکن ہوسکا خلیج گوانتانامو کیوبا کا قید خانہ بند کرنے کا اعلان کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ بش انتظامیہ کی پالیسی کے خلاف ہیں جس میں انہوں نے (صدر بش) ڈکٹیٹر مشرف کی حمایت کی تھی جنہوں نے اپنے لوگوں کے جمہوری حقوق کو پامال کیاہوا تھا- انہوں نے کہا وہ پاکستان میں موجودہ جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور عہدہ صدارت سنبھالنے کی صورت میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ان سے (پاکستان کی موجودہ حکومت سے ) تعاون جاری رہے گا۔ سینیٹر باراک اوبامہ نے کہا کہ وہ حکومت پاکستان سے اس بات پر بھی تعاون چاہیں گے کہ مشرف حکومت کو دی گئی گيارہ بلین ڈالر کی امداد کا کیا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ پاکستان کو غیر فوجی امداد دے گے جس کی پاکستان کو اپنے لوگوں کی غربت، اور ناخواندگی ختم کرنے کے لیے سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے مخصوص حالات میں وہ طالبان کے اندر سب سے معتدل گروہ سے مذاکرات کرنے کو تیار ہونگے کیونکہ امریکہ کا اول دشمن القاعدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب ہونے پر وہ اسامہ بن لادن کو ہر حال میں پکڑیں گو اور ضروری ہوا تو ان پر سزائے موت کا اطلاق کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عراق اور افعانستان میں امریکی افواج کےکمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریئس کی تجویز سے متفق ہیں کہ طالبان کے اندر اہم لیکن سب سے اعتدال پسند گروپ سے مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔ سینیٹر باراک اوبامہ نے کہا کہ امریکہ کی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ القاعدہ سے ہے اور القاعدہ کو تنہا کرنے کے لیے طالبان کے اعتدال پسند لوگوں سے مذاکرات میں کوئی عار نہیں۔ سینیٹر باراک اوبامہ نے کہا کہ وہ امریکہ کی صدارت کے عہدہ سنبھالنے کی تقریب کے بعد جتنا جلد ممکن ہوسکا خلیج گوانتانامو کا امریکی قید خانہ ختم کر دینے کا اعلان کریں گے، لیکن انہوں نے کہا اس سے پہلے وہ وہاں قید تمام لوگوں کے مقدمات کا جائزہ لیں گے اور جو مبینہ دہشتگرد ہونگے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کیلیے دوسری عدالتوں میں ان پر مقدمے چلائے جائيں گے۔ | اسی بارے میں ’صدر کوئی بھی، بڑا چیلنج پاکستان‘01 November, 2008 | آس پاس پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس امریکی انتخاب محض کاسمیٹک تبدیلی؟22 October, 2008 | آس پاس پیٹریئس، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ31 October, 2008 | آس پاس مختلف مسائل، مختلف رائے28 October, 2008 | آس پاس امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت28 October, 2008 | آس پاس مکین کےحملوں سے ناراض25 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||