معرکے کہاں کہاں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو ہزار چار میں ڈیموکریٹکدو ہزار چار میں ریپبلیکن Flash map here. تعارفایلاباماالاسکاایریزوناآرکنساکیلیفورنیاکولوراڈوکنیکٹکٹڈی سیڈیلا ویئرفلوریڈاجورجیاہوائیآئی ڈاہوالینوائےانڈیاناآئیوواکنساسکینٹکیلوئیزیانامیئنمیری لینڈمیسے چیوسٹسمشیگنمِنیسوٹامِسیسپیمِسوریمونٹانانیبراسکانیواڈانیو ہیمشائرنیوجرسینیو میکسیکونیویارکنارتھ کیرولائنانارتھ ڈکوٹااوہائیو اوکلاہومااوریگونپینسلوینیاروڈ آئلینڈساؤتھ کیرولائناساؤتھ ڈکوٹاٹینیسیٹیکساسیوٹاورمونٹورجینیاواشنگٹنویسٹ ورجینیاوسکونسنویومنگ تعارفسپر ٹیوز ڈے ۔ جب چوبیس ریاستوں میں اس بات پر ووٹنگ ہو گی کہ وہ ڈیموکریٹس کا ساتھ دیں گی یا ریپبلکنز کا ۔ وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں ایک اہم سنگ میل ہوگا۔ سپر ٹیوز ڈے ریاستوں کے انتخابی معرکوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہمارا نقشہ استعمال کریں۔ دیگر ریاستوں پر کلک کر کے آپ مزید یہ جان سکتے ہیں کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا تو انتخابی جنگ کیا صورت اختیار کرے گی۔ ایلاباماالیکٹورل کالج ووٹ: 9 ایلاباما ان جنوبی ریاستوں میں سے ایک ہے جو کبھی ڈیموکریٹس کو منتخب کرتی تھیں لیکن اب ریپبلکن گڑھ بن چکی ہیں۔ یہاں سے لگاتار آٹھ مرتبہ ریپبلکن منتخب ہوئے ہیں اور دو ہزار آٹھ میں کسی غیر متوقع نتیجے کا امکان نہیں ہے۔ الاسکاالیکٹورل کالج ووٹ: 3 الاسکا روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کی حامی ریاست ہے اور انیس سو چونسٹھ میں لنڈن جانسن کے بعد سے اب تک کبھی بھی ڈیموکریٹس کویہاں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ دو ریپبلکن سیاست دانوں سینیٹر ٹیڈ سٹیونز اور کانگریسمین ڈان ینگ کے خلاف اس وقت مالی بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات ہورہی ہیں۔ تاہم سیرا پیلن کا نائب صدارت کے لیے امیدوار ہونا ریپبلکن پارٹی کے بارے میں کسی بھی منفی تاثر کو ختم کر سکتا ہے۔ ایریزوناالیکٹورل کالج ووٹ: 10 ایرِِزونا ریپبلکن پارٹی کا گڑھ ہوا کرتا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں یہاں سیاسی وابستگیاں بدلتی رہیں ہیں۔ ریاست نے انیس سو چھیانوے میں بل کلنٹن کو منتخب کیا تو سن دو ہزار اور دو ہزار چار میں جارج بش کو۔ چونکہ یہ جان مکین کی آْبائی ریاست ہے اس لیے دو ہزار آٹھ میں بھی ریپبلکنز کے پاس یہاں سے جیتنے کا اچھا موقع ہے۔ آرکنساالیکٹورل کالج ووٹ: 6 ریاست آرکنسا نے اپنے سابق گورنر بل کلنٹن کو انیس سو بانوے اور چھیانوے میں منتخب کیا، تاہم سن دو ہزار اور دو ہزار چار میں جارج بش کی حمایت کی۔ سن دو ہزار دو میں ایک سینیٹ سیٹ جیتنا اور دو ہزار چھ میں گورنری دوبارہ حاصل کرنا ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ کن اشارے ہیں۔ تاہم اگر ہیلیری کلنٹن ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار منتحبت ہوتیں تو باراک اوباما کے مقابلے ان کی جیت کے امکانات زیادہ ہوتے۔ کیلیفورنیاالیکٹورل کالج ووٹ: 55 آبادی کے لحاظ سے کیلیفورنیا امریکہ کی سب سے بڑی ریاست ہے اور اسی لیے دوسری ریاستوں کے مقابلے میں الیکٹورل کالج میں اس کے سب سے زیادہ ووٹ ہیں۔ انیس سو ستر اور اسی کی دہائیوں میں ریپبلکن گڑھ ہونے کے باوجود گزشتہ چار انتخابات میں ریاست سے ڈیموکریٹس منتخب ہوئے ہیں۔ کولوراڈو الیکٹورل کالج ووٹ: 9 کولوراڈو تاریخی طور پر ریپبلکن گڑھ رہا ہے، تاہم حالیہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کے حق میں جھکاؤ نظر آیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ویسٹ کوسٹ سے یہاں لوگوں کا آکر بس جانا بتایا گیا ہے۔ سن دو ہزار کے بعد سے ڈیموکریٹس ریاست سے ایوان نمائندگاں کی دو اور سینیٹ کی ایک سیٹ کے علاوہ یہاں کی گورنری بھی حاصل کرچکے ہیں۔ جس کی وجوہات میں شہری اور ہسپانوی آبادی میں مسلسل اضافہ شامل ہیں۔ تاہم ریپبلکنز تیزی سے بڑھتے کولوراڈو سپرِنگز کے علاقے میں بدستور مضبوط ہیں۔ یہ علاقہ مذہبی اور سماجی روایت پسندی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ڈیموکریٹس کے لیے تیزی سے بڑھتی ڈینور کی مضافات میں جیت ضروری ہے۔ باراک اوباما کی جیت کا انحصار کافی حد تک کولوراڈو جیسی مغربی ریاستوں میں فتح پر ہوگا۔ جو حالیہ انتخابات میں ان اہم ریاستوں میں شامل ہیں جن کے رحجانات میں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ کنیکٹکٹالیکٹورل کالج ووٹ: 7 کنیکٹکٹ نے سن دو ہزار اور دو ہزار چار میں ڈیموکریٹس کو منتخب کیا، تاہم اس سے قبل یہ ریاست ایک ڈاما ڈول ووٹر کی مانند رہی ہے۔. انیس سو ساٹھ کی دہائی میں ریاست نے ڈیموکریٹس کی حمایت کی تو ستر اور اسی کی دہائی میں ریپبلکنز کی۔ تاہم اس کے بعد سے صدارتی انتخابات میں یہاں ڈیموکریٹس جیتتے رہے ہیں جبکہ دو ہزار اور دو ہزار چھ میں یہاں گورنر ریپبلکنز کے چنے گئے۔ حالانکہ آزاد سینیٹر جو لائبرمین نے جان مکین کی حمایت کی ہے لیکن ریاست کو شاید ریپبلیکن کیمپ میں واپس لانے کے لیے یہ کافی نہ ہو۔ ڈی سیالیکٹورل کالج ووٹ: 3 ڈسٹرکٹ آف کولمبیا ایک مضبوط ڈیموکریٹ گڑھ ہے۔ آبادی کا بڑا حصہ اُن گروپوں پر مشتمل ہے جو باراک اوباما کے حامی ہیں، مثلاً سیاہ فام اور لبرل سفیدفام ۔ ڈیموکریٹک پرائمری میں اوباما نے یہاں سے پچھتر فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ دو ہزار چار میں جارج بش کے نو اعشاریہ تین فیصد ووٹوں تک پہنچنے کے لیے بھی جان مکین کو بڑی کوشش کرنا ہوگی۔ ڈیلا ویئرالیکٹورل کالج ووٹ: 3 ڈیلاویئر میں متنوع سماجی اور معاشی گروپ بڑی تعداد میں ہیں اور ماضی میں اس ریاست نے مسلسل بارہ مرتبہ اسی امیدوار کو منتخب کیا ہے جو آگے چل کر صدر منتخب ہوتے رہے ہیں۔ تاہم سن دو ہزار میں اس نے ایل گور کو چنا اور دو ہزار چار میں بھی ڈیموکریٹس کی حمایت کی۔ توقع کی جارہی ہے کہ ڈیلاویئر سے اس بار بھی ڈیموکریٹس جیت جائیں گے اور اگر ریاست نے ریپبلکنز کو چنا تو یہ ایک بڑی غیر متوقع تبدیلی ہوگی۔ فلوریڈا الیکٹورل کالج ووٹ: 27 نوے کی دہائی کے سخت مقابلوں کے بعد اور دو ہزار کے کانٹے دار مقابلے کے نتیجے میں ریپبلکن پارٹی فلوریڈا میں آخر کار سیاسی محاز پر دوبارہ قابض ہونے میں کامیاب ہوئی۔ کئی عدالتی اپیلوں، بار بار گنتیوں اور غائب ووٹوں کے پیچدہ عمل کے بعد فیصلے کے لیے سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی۔ تاہم دو ہزار چار میں جارج بش نے ’سن شائن سٹیٹ‘میں اپنی برتری میں اضافہ کیا اور ان کی پارٹی نے سینیٹ کی ایک سیٹ بھی جیت لی۔ پارٹی نے پھر دو ہزار چھ میں ریاست کی گورنری بھی حاصل کی۔ مالی بحران کے سبب فلوریڈا میں جان مکین کی واضح برتری غائب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ریاست میں معمر شہریوں کی تعداد اچھی خاصی ہے اور وہ بازار حصص میں مندی سے کافی پریشان رہے ہیں۔ ریاست پرگھروں کے قرضوں کی عدم ادائیگی سے پیدا ہونے والے بحران کا بھی سخت اثر پڑا ہے۔ تاہم سابق فوجیوں اور میامی کے گرد و نواح میں آباد کیوبا نژاد یا کیوبا سے آنے والے امریکیوں میں جان مکین کواچھی خاصی حمایت حاصل ہے۔ جورجیاالیکٹورل کالج ووٹ: 15 جورجیا کئی برس تک کبھی ڈیموکریٹس اور کبھی ریپیبلکنز کے پاس رہی۔ تاہم حالیہ کچھ انتخابات میں ریپبلکنز نے اس ریاست پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ گزشتہ چھ صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے صرف ایک مرتبہ جورجیا میں فتح حاصل کی ہے۔ جارج ڈبلیو بش نے سنہ دو ہزار کے انتخابات میں جورجیا میں با آسانی فتح حاصل کی تھی اور سنہ دو ہزار چار میں انہوں نے اپنی برتری میں سترہ فیصد تک اضافہ کر لیا۔ آج کل ریاست کے گورنر بھی ریپبلکن ہیں جبکہ سینیٹ میں یہاں کی دونوں نشستیں بھی ریپبلکنز ہی کے پاس ہیں۔ ہوائیالیکٹورل کالج ووٹ: 4 ہوائی کی ریاست تاریخی طور پر ڈیموکریٹس کے لیے محفوظ ترین ریاستوں میں سے ایک ہے اور امکانی طور پر اس الیکشن میں بھی انہی کے ہاتھ لگے گی۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ باراک اوباما یہاں پیدا ہوئے اور انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی یہیں حاصل کی۔ آئی ڈاہوالیکٹورل کالج ووٹ: 4 آئی ڈاہو امریکہ کی قدامت پسند ترین ریاستوں میں سے ایک ہے۔ لہذا ریپبلکنز کو یہاں اپنی برتری برقرار رکھنے میں مشکل پیش نہیں آنی چاہیے۔ جارج بش اس ریاست سے گزشتہ دونوں انتخابات میں بالترتیب چالیس فیصد اور اڑتیس فیصد کی برتری سے کامیاب ہوئے ہیں اور ریپبلکنز کو ریاست کی قانون سازی پر کافی وسیع کنٹرول حاصل ہے۔ الینوائےالیکٹورل کالج ووٹ: 21 الینوائے کو سنہ دو ہزار تک ایسی ریاست سمجھا جاتا رہا جہاں رجحانات سے نتیجے کا درست اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ریاست دونوں جماعتوں نے جیتی ہے ۔ البتہ پچھلے دو انتخابات میں اس ریاست کے ووٹروں کا جھکاؤ ڈیموکریٹس کی طرف رہا ہے۔ انہوں نے پہلے ایل گور کو فتح دلوائی اور پھر جان کیری کو۔ یہ رجحان یقینی طور پر اس برس بھی جاری رہنے کا امکان ہے کیونکہ یہیں سے باراک اوباما سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ انڈیاناالیکٹورل کالج ووٹ: 11 انڈیانا وسطی مغرب میں ان کئی ریاستوں کی طرح ہے جو ڈیموکریٹس یا ریپبلکنز کسی کی طرف بھی جا سکتی ہیں۔ لیکن روایتی طور پر یہ ریپبلکنز کا مضبوط گڑھ رہی ہے۔ اگرچہ مصنوعات سازی میں یہاں ملازمتوں کے بہت سے مواقع پیدا ہوئے ہیں لیکن یہاں کے ووٹروں نے انیس سو چونسٹھ سے اب تک ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کو فتح یاب نہیں کرایا۔ ڈیموکریٹس اس سال ریاست کے شمالی حصوں میں جہاں معاشی بدحالی نے بدتر حالات کو جنم دیا ہے، کافی محنت کر رہے ہیں اور رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں ڈیموکریٹس کی فتح ہو بھی سکتی ہے۔ آئیووا الیکٹورل کالج ووٹ: 7 آئیووا وہ ریاست ہے جہاں صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لیے ابتدائی طور پر سب سے پہلے رائے طلب کی گئی تھی۔ حالیہ انتخابات میں یہاں کے ووٹروں نے کبھی ایک کو تو کبھی دوسری پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔ ال گور یہاں سے سنہ دو ہزار میں کامیاب ہوئے جبکہ جارج بش سنہ دو ہزار چار میں فاتح رہے۔ التبہ دونوں مرتبہ جیتنے والے کو ہارنے والے پر محض معمولی برتری حاصل تھی۔ باراک اوباما کی صدارتی انتخاب کے لیے رسمی نامزدگی تک حتمی رسائی آئیووا ہی کی جیت سے شروع ہوئی تھی۔ جائزوں کے مطابق اب بھی انہی کو برتری حاصل ہے۔ یہ ریاست ان کی آبائی ریاست ایلینوئے سے ملحق ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ ریپبلیکنز سے یہ ریاست نومبر کے انتخابات میں واپس لے لیں گے۔ کنساسالیکٹورل کالج ووٹ: 6 کنساس جی جان سے ریپبلکنز کی حامی ریاست ہے اور ساٹھ برسوں میں صرف ایک دفعہ سنہ انیس سو چونسٹھ میں یہاں سے لنڈن بی جانسن جیتے تھے جو ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار تھے۔ سنہ دو ہزار دو میں کیتھلین سیبیلیئس حیران کن طور پر یہاں سے ڈیموکریٹ پارٹی کے گورنر کے امیدوار کے طور پر جیت گئیں۔ لیکن اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ریپبلکن ووٹر منقسم تھے۔ اس سال کے انتخابات میں بھی تقریباً یقینی ہے کہ کنساس کے ووٹر ریپبلکن پارٹی ہی کی حمایت کریں گے۔ کینٹکیالیکٹورل کالج ووٹ: 8 کینٹکی جارج بش کی صدارات میں ریپیبلکنز کے لیے بڑی مضبوط ریاست رہی ہے۔ لیکن اس سے قبل بل کلنٹن نے یہاں سے دو مرتبہ معمولی سی برتری کے ساتھ فتح حاصل کی تھی۔ ریاست کے گورنر ڈیموکریٹ پارٹی کے ہیں لیکن کینٹکی کی سیاسی ترجحیات کی نمائندگی اس کے دو ریپبلکن سینیٹرز اور اراکینِ کانگریس سے ہوتی ہے جن میں سے بہت سے ریپیبلکن پارٹی سے وابستہ ہیں۔ لوئیزیاناالیکٹورل کالج ووٹ: 9 لوئیزیانا جنوبی امریکہ کی وہ ریاست ہے جو ہمیشہ ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتی تھی۔ بل کلنٹن نے نوے کی دہائی میں یہاں سے دو مرتبہ کامیابی حاصل کی لیکن گزشتہ دو انتخابات کے دوران یہاں کے ووٹروں کا جھکاؤ ریپبلکنز کی طرف ہوا ہے۔ سنہ دو ہزار میں ایل گور اور سنہ دو ہزار چار میں جان کیری یہاں سے بری طرح ہارے ہیں۔ اس ریاست کے گورنر اور یہاں سے سینیٹ کی نشست دونوں ریپبلیکن پارٹی کے پاس ہیں۔ یہاں کی بڑی سیاہ فام آبادی باراک اوباما کے حق میں جاتی دکھائی نہیں دیتی۔ میئنالیکٹورل کالج ووٹ: 4 میئن کا اپنا ہی آزادنہ مزاج ہے۔ سنہ دو ہزار دو اور دو ہزار چار کے صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح کے اعتبار سے یہ ریاست امریکہ میں دوسرے نمبر پر تھی۔ یہاں سے پہلے ایل گور اور پھر جان کیری جیتے تھے۔ اس ریاست میں پارٹی تنظیم دوسری ریاستوں کے برعکس کمزور ہے۔ یہاں کے ووٹروں نے سنہ انیس سو بانوے سے اب تک ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی انتخاب کو ووٹ دیا ہے۔ اس ریاست کے بارے میں تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہاں شخصیت، پارٹی سے زیادہ اہم ہے۔ میئن ان دو ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں الیکٹورل کالج کے تمام ووٹ ریاست میں کامیابی کی بنیاد پر نہیں دیئے جاتے۔ میری لینڈالیکٹورل کالج ووٹ: 10 میری لینڈ ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے ایک محفوظ ریاست ہے جہاں پچھلے صدارتی انتخابات میں چار مرتبہ ڈیموکریٹ امیدوار پندرہ فیصد کی برتری سے فتح سے ہمکنار ہوئے ہیں۔ اس ریاست میں ڈیموکریٹ پارٹی کی مضبوطی کی ایک وجہ سیاہ فام اور اقلیتی آبادی کی ایک بڑی تعداد ہے۔ میری لینڈ امریکہ کی ان چند ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں اقلیتیں کل آبادی کی ایک تہائی سے زیادہ تعداد میں ہیں۔ میسے چیوسٹسالیکٹورل کالج ووٹ: 12 میسےچوسٹس امریکہ کے لبرل ڈیموکریٹس کی سیاسی اور روحانی آماجگاہ ہے۔ پچھلے پچاس برسوں میں اس ریاست کے ووٹروں نے صرف ایک مرتبہ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کو فتح دلوائی ہے۔ اس ریاست کے دونوں سینیٹر اور دس کے دس اراکینِ کانگریس ڈیموکریٹ ہیں۔ تاہم انیس سو اکانوے اور دو ہزار سات کے درمیانی عرصے میں اس ریاست میں گورنر کا عہدہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کے پاس رہا ہے جن میں سابق صدارتی امیدوار مٹ رومنی بھی شامل ہیں۔ مشیگن الیکٹورل کالج ووٹ: 17 مشِیگن میں حالیہ انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدواروں کا اثر کمزور ہوا ہے۔ اس ریاست میں سفید فام مزدور طبقے کے ووٹروں کو اپنا حامی بنانا باراک اوباما کی صلاحتیوں کا امتحان ہوگا۔ سنہ انیس سو اسی میں میشیگن کے مزدور طبقے نے اپنا نام ان فیصلہ کن ووٹروں کو دے دیا جنہوں نے بڑے پرجوش انداز میں ریپیبلکن پارٹی کے امیدوار رونلڈ ریگن کی حمایت کی تھی۔ ان ووٹروں کو’ریگن ڈیموکریٹس‘کہا جاتا تھا۔ لیکن مشیگن میں جان میکین کی پیشرفت کی کوششیں معاشی بحران کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہیں۔ اس صورتِ حال سے ریاست بری طرح متاثر ہوئی ہے اور جان میکین کو انتخابی مہم سے علیحدگی اختیار کرنی پڑی ہے۔ لہذا ایک طرح سے جان میکین نے اس ریاست میں ڈیموکریٹ پارٹی کے ہاتھوں شکست قبول کر لی ہے۔ مِنیسوٹا الیکٹورل کالج ووٹ: 10 منیسوٹا روایتی طور پر ڈیموکریٹس کے لیے ایک محفوظ ریاست رہی ہے۔ تاہم ریپبلکین امیدوار حالیہ صدارتی انتخابات میں یہاں اپنی کارکردگی بہتر کرتے رہے ہیں اس ریاست میں ووٹروں نے انیس سو بہتر سے مسلسل ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کو ووٹ دے کر منتخب کیا ہے۔ حتٰی کہ انیس سو چوراسی میں جب امریکہ کی ہر دوسری ریاست نے رونلڈ ریگن کو منتخب کیا تھا، منیسوٹا کے ووٹروں نے اس وقت بھی ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار کو ووٹ ڈالے تھے۔ لیکن ریپبلکنز کو بھی اس ریاست میں کچھ کامیابی ملی ہے۔ دو ہزار دو میں یہاں گورنر کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ ریپبلکنز کو اس ریاست سے سینیٹ کی بھی ایک سیٹ ملی ہے۔ منیسوٹا دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں ریپبلکنز کے لیے ایک اہم ٹارگٹ ہے۔ انہوں نے سینٹ پال میں پارٹی کا کنوینشن منعقد کیا ہے اور وہ یہاں کے آزادانہ سوچ رکھنے والے ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں کوشاں ہیں۔ لیکن کچھ عرصے سے ریاست کے ووٹروں کا جھکاؤ بظاہر ڈیموکریٹس کی طرف مائل بہ واپسی ہے۔ مِسیسپیالیکٹورل کالج ووٹ: 6 میسیسپی ریپبلکنز کا گڑھ ہے اور گزشتہ سات صدارتی انتخابات میں یہاں سے انہی کو ووٹ پڑا ہے۔ تاہم اس برس ان کے لیے مشکل یہ ہے کہ سمندری طوفان کترینہ کے بعد حکومت نے جو ردِ عمل ظاہر کیا تھا وہ کہیں الٹا نہ پڑ جائے۔ مِسوریالیکٹورل کالج ووٹ: 11 اپنے جغرافیائی حالات اور ثقافت کے باعث ریاست مِسوری اس لحاظ سے رجحان ساز ہے کہ سوائے ایک مرتبہ کے سنہ انیس سو چار سے آج تک ہر وہ امیدوار جو منصبِ صدارت تک پہنچا، اس ریاست میں بھی کامیاب ہوا ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کو سینیٹ اور ہاؤس میں برابر کی نمائندگی حاصل ہے۔ گورنر کا عہدہ کبھی ریپبلکنز کے پاس تو کبھی ڈیموکریٹس کے پاس رہا ہے۔ باراک اوباما کی یہاں کی سیاہ فام آبادی سے ووٹوں کی اپیل کے بعد جان میکین کے لیے اس ریاست کو بچائے رکھنا ذرا مشکل ہو سکتا ہے، خصوصا اگر وہ قدامت پسند عیسائیوں کو اپنی حمایت پر آمادہ کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ یہاں دو بڑے انتخابی معرکے بڑے شہروں سینٹ لوئیس اور کنساس سٹی کے نواح میں ہوں گے۔ مونٹاناالیکٹورل کالج ووٹ: 3 مونٹانا ایک ایسی ریاست ہے جہاں واضح حکومت مخالف جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔ روایتی طور پر اس ریاست کے ووٹروں کی ہمدردیاں محدود حکومت کے ریپبلکن پیغام کے ساتھ ہوتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں روایت پسند ڈیموکریٹس نے اپنے سینیٹر میکس باؤکس کی مقبولیت کا فائدہ اٹھا کر گورنر کا عہدہ اور سینیٹ کی نشست حاصل کی ہے، اور اپنی پوزیشن بہتر بنائی ہے۔ تاہم سنہ دو ہزار آٹھ کے صدارتی انتخابات میں یہاں کے ووٹر شاید ریپبلکن امیدوار ہی کو ووٹ دیں گے۔ نیبراسکاالیکٹورل کالج ووٹ: 5 نیبراسکا مذہبی قدامت پرستوں کا گڑھ ہے جنہوں نے سنہ انیس سو چونسٹھ سے اب تک ہر انتخاب میں ریپبلکن امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔ سنہ دو ہزار چار میں جارج بش اپنی ہی پارٹی کے جنگ مخالف سینیٹر سے تینتیس فیصد کی برتری سے جیتے تھے۔ اس بار بھی یہ ریاست ریپبلیکن امیدوار ہی کو ووٹ دے گی۔ نیواڈاالیکٹورل کالج ووٹ: 5 صدارتی انتخابات میں ریاست نیواڈا کے ووٹروں نے صدر رونلڈ ریگن کی پہلی فتح کے بعد سے اب تک جس کو بھی ووٹ دیا ہے وہ ہمیشہ صدر بنا ہے۔ سنہ دو ہزار چار میں صدر بش یہاں سے معمولی سے برتری سے جیتے تھے۔ اس بار یہاں کے ووٹر کسی بھی طرف جھک سکتے ہیں۔ باراک اوباما کو یہاں کی وسیع اور بڑھتی ہوئی ہسپانوی آبادی سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ یہ ریاست مکان خریدنے کے لیے قرضوں کی عدم ادائگی سے پیدا ہونے والے بحران(سب پرائم کرائسز)کی وجہ سے کافی متاثر ہوئی ہے۔ جان میکین کو امید ہے کہ انہیں اس ریاست کے آزادانہ، حکومت مخالف رویے اور ان کی آبائی ریاست ایریزونا سے قربت کی وجہ سے فائدہ ہوگا۔ نیو ہیمشائر الیکٹورل کالج ووٹ : 4 نیوہمشائر ایک لبرل ریاست ہے اور کئی برسوں سے یہاں کے ووٹروں کا ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے کا حیران کن رجحان ہے۔ سنہ انیس سو بانوے اور چھیانوے کے الیکشن میں یہاں کے ووٹروں نے ڈیموکریٹ امیدواروں کو ووٹ دیا لیکن سنہ دو ہزار میں انہی ووٹروں نے صدر بش کی حمایت کی اور ان کی جماعت کے دو اراکین کو ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب کیا۔ سنہ دو ہزار چار میں یہاں سے صدر بش کے مخالف امیدوار جان کیری فتحیاب ہوئے جبکہ سنہ دو ہزار چھ کے وسطی مدت کے انتخابات میں ہمشائر کے ووٹروں نے ریپبلکن پارٹی کے دونوں اراکینِ کانگریس کو ووٹ نہیں ڈالے اور ان کی جگہ ڈیموکریٹ امیدوار کو جیت دلائی۔ اس ریاست میں ڈیموکریٹ پارٹی کو جو حمایت ملی ہے وہ نومبر کے انتخابات میں دوسری طرف بھی سکتی ہے۔ یہاں جان میکین کافی عرصے سے بہت مقبول ہیں اور رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس گرینائٹ ریاست کے الکیٹورل کالج کے ووٹ دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ نیوجرسیالیکٹورل کالج ووٹ: 15 کسی زمانے میں نیو جرسی ایک مارجنل ریاست ہوا کرتی تھی، مگر اسی کی دہائی میں اس نے ریپبلکن گڑھ کی صورت اختیار کر لی۔ تاہم حالیہ سالوں میں یہ ڈیموکریٹس کے لیے کافی حد تک ایک محفوظ ریاست بن چکی ہے۔ سن دو ہزار میں الگور یہاں سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے اور بعد میں جان کیری اور سینیٹر بوب میننڈیز اور اوپر تلے ڈیموکریٹ گورنروں کی کامیابی یہاں ڈیموکریٹس کی حمایت کو ظاہر ہوئی ہے۔ نیو میکسیکو الیکٹورل کالج ووٹ: 5 نیو میکسیکو میں گزشتہ دو صدارتی انتخابات میں جیت کا فیصلہ بڑی معمولی برتری سے ہوا ہے۔ سن دو ہزار کے انتخابات میں الگور نے تین سو چھیاسٹھ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ صدر بش نے گزشتہ انتخابات میں یہاں سے چھ ہزار سے کم ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی۔ فی الحال ریاست کی کانگریس میں نمائندگی تقریباً برابر ہے، اگرچہ دو ہزار آٹھ میں ڈیموکریٹس کا پلہ بھاری ہو سکتا ہے۔ ریاست سے ہر دلعزیز گورنر بِل رچرڈسن کا تعلق بھی ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ سیاسی لحاظ سے ریاست جغرافیائی خطوط پر بٹی ہوئی ہے۔ جہاں ریاست کے شمال میں شہری آبادی میں ڈیموکریٹک پارٹی بہت مقبول ہے، وہیں ٹیکساس کی سرحد پر جنوب مشرقی علاقوں میں ریپبلکنز کا پلہ بھاری ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس بار نیو میکسیکو کی بھاری ہسپانوی آبادی باراک اوبامہ کو فائدہ پہنچائے گی۔ ڈیموکریٹس ممکنہ طور پر یہاں سے سینیٹ کی ایک سیٹ بھی لے جا سکتی ہے۔ نیویارکالیکٹورل کالج ووٹ: 31 ریاست نیو یارک روایتی طور پر ڈیموکریٹس حمایت رکھنے والے نیو یارک سٹی اور ریپبلکنز کے حامی نیم شہری اور بالائی علاقوں میں تقسیم ہے۔. تاہم حالیہ سالوں میں ڈیموکریٹس پوری ریاست میں حاوی ہو چکے ہیں۔ الگور اور جان کیری دونوں نے ریاست نیو یارک سے آسانی سے کامیابی حاصل کی تھی اور اگر اس بار ڈیموکریٹس یہاں سے نہ جیت سکے تو یہ ایک بڑی غیرمعمولی بات ہو گی۔ نارتھ کیرولائناالیکٹورل کالج ووٹ: 15 ریپبلکنز سن انیس سو اسی سے ریاست نارتھ کیرولائنا سے کامیابی حاصل کرتے آ رہے ہیں لیکن اب یہاں مقابلہ انتہائی سخت دکھائی دیتا ہے۔ باراک اوبامہ نے ریاست شمالی کیرولائنا میں ووٹروں تک پہنچنے کے لیے انتہائی سخت مہم چلائی ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ ریاست کی ایفرو امریکن آبادی کی خاصی حمایت حاصل کر سکیں گے۔ یہ ریاست ملک نے جنوب میں واقع متمول ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں روایتی کپڑے کی صنعت کی جگہ یونیورسٹی میں قائم ریسرچ سنٹروں نے لے لی ہے۔ نارتھ ڈکوٹاالیکٹورل کالج ووٹ: 3 ریاست نارتھ ڈکوٹا نے بیسویں صدی میں صرف تین بار صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی حمایت کی ہے اور آج ریپبلکز کی پوزیشن انتہائی مضبوط ہے، خاص طور پر ریاست کے مغربی حصہ میں۔ سن دو ہزار چار میں صدر بش نے ریاست شمالی ڈکوٹا سے ستائیس فیصد کی برتری کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم حالیہ سالوں میں صدارتی انتخابات کے علاوہ ریاست نارتھ ڈکوٹا نے ایک منقسم شخصیت ظاہر کرنا شروع کر دی ہے۔ ریاست نے بے شک رچرڈ نکسن سے لے کر اب تک ہر صدارتی انتخاب میں ریپبلکن امیدوار کے لیے ووٹ کیا ہو لیکن سن انیس ستاسی سے لیکر اب تک صرف ڈیموکریٹ امیدوار کو ہی رکن کانگریس منتخب کیا ہے۔ اوہائیو الیکٹورل کالج ووٹ: 20 گزشتہ سالوں کی طرح سن دو ہزار آٹھ میں بھی اوہائیو کانٹے کے مقابلوں والی ریاست ہو گی۔ سن دو ہزار اور دو ہزار چار میں صدر بش نے یہاں سے معمولی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی، تاہم اس بار ڈیموکریٹس ریاست اوہائیو سے کامیابی کے لیے زیادہ پراُمید ہیں۔ سن دو ہزار چھ میں ڈیموکریٹس نے اوہائیو سے نہ صرف گورنر کے انتخاب میں کامیابی حاصل کی بلکہ ایک سینیٹ کی اور ایک کانگریس کی سیٹ بھی جیتی جس سے اس بار ان کے کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اوہائیو کا انتخابی معرکہ صرف اس لیے ہی اہم نہیں کہ یہاں کے الیکٹورل کالج ووٹ بیس ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ اسے جدید امریکہ کی شبیہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ باراک اوبامہ کو اوہائیو کے سفید فام فیکٹری مزدوروں کی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا لیکن رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ معاشی بحران انہیں ڈیمو کریٹک خیمے میں دھکیل رہا ہے۔ اس تناظر میں ریاست اوہائیو میں مقابلہ انتہائی سخت ہو گیا ہے۔ اوکلاہوماالیکٹورل کالج ووٹ: 7 ریاست اوکلاہوما نے گزشتہ پچاس سال میں ایک صدارتی انتخاب کو چھوڑ کر ہمیشہ ریپبلکنز کو کامیابی دلائی ہے۔ سن انیس سو چونسٹھ میں یہاں سے لنڈن جانسن نے کامیابی حاصل کی تھی۔ سن دو ہزار چھ میں ہونے والے کانگریس انتخابات میں ریپبلکنز نے اوکلاہوما میں اپنی برتری برقرار رکھی تھی اور انہیں موجودہ انتخابات جیتنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیے۔ اوریگونالیکٹورل کالج ووٹ: 7 سن دو ہزار تک اوریگون کو ایک ڈیموکریٹک ریاست کے طور پر دیکھا جاتا تھا، جب ایل گور نے سات ہزار ووٹوں کی برتری سے جارج بش کو ہرایا تھا۔ تاہم رالف نیڈر کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے جان کیری نے گزشتہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد سے سینیٹ اور دیگر انتخابات میں کامیابی نے ڈیموکریٹک برتری پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ پینسلوینیا الیکٹورل کالج ووٹ: 21 پنسلوینیا حالیہ صدارتی انتخابات میں ایک اہم انتخابی میدان رہا ہے اور امید ہے کہ یہ سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں بھی اس کی اہمیت کم نہیں ہو گی۔ سن دو ہزار کے انتخابات میں ایل گور اور سن دو ہزار چار کے الیکشن میں جان کیری نے بہت کم ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی۔ سن دو ہزار چار کے بعد سے ڈیموکریٹس نے ریاست میں اپنی لیڈ کو بہتر بنانا شروع کر دیا تھا۔ سن دو ہزار چھ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیمو کریٹس نے نہ صرف ریپبلکن سینیٹر کو شکست دی بلکہ ریپبلکز سے چار کانگریس کی نشستیں بھی جیتیں جس سے ریاست میں ان کے کانگریس ارکان کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ موجودہ ڈیموکریٹ گورنر ایڈ رینڈل نے بھی آسانی سے اپنی کامیابی کا سلسلہ جاری رکھا۔ جان مکین ریاست سے سماجی طور پر کنزرویٹو ڈیموکریٹک ووٹروں کو جیتنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں، لیکن معاشی بحران نے پنسلوینیا کو سخت متاثر کیا ہے اور اب باراک اوباما کو رائے عامہ کے جائزوں میں کافی برتری حاصل ہے۔ روڈ آئلینڈالیکٹورل کالج ووٹ: 4 روڈ آئلینڈ کو صدارتی اور کانگریس انتخابات کے سلسلے میں ایک محفوظ ڈیموکریٹ ریاست قرار دیا جاسکتا ہے، باوجود اس کے کہ یہاں سے ماضی میں ریپبلکن گورنر کامیاب ہوئے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ دو صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدواروں کو قومی سطح پرناکامی کا سامنا کرنا پڑا تاہم انہوں نے انتیس فیصد اور اکیس فیصد ووٹ سے ریاست روڈ آئلینڈ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں روڈ آئلینڈ کو ڈیموکریٹس کے لیے یقینی طور پر ایک محفوظ ریاست ہے۔ ساؤتھ کیرولائناالیکٹورل کالج ووٹ: 8 جنوبی امریکہ کی دیگر ریاستوں کی طرح، چالیس سال پہلے ڈیموکریٹس کا گڑھ سمجھی جانے والی ریاست جنوبی کیرولائنا اب ریپبلکنز کے گڑھ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جارج بش دونوں بار یہاں سے سولہ اور سترہ فیصد کے مارجن سے جیتے تھے اور اس بار بھی یقینی طور پر یہاں ریپبلکنز کی پوزیشن بہت مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ ساؤتھ ڈکوٹاالیکٹورل کالج ووٹ: 3 جنوبی ڈکوٹا ایک مکمل طور پر ریپبلکن ریاست ہے اور یہاں کے ووٹروں نے سن انیس سو سے لیکر اب تک صدارتی انتخابات میں صرف تین بار ڈیموکریٹ امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔ ریاست سے ڈیموکریٹک پارٹی کا ایک سینیٹر اور ایوانِ نمائندگان کا اکلوتا رکن ہے۔ دوسری طرف سے ریاست سے دوسرا سینیٹر اور گورنر ریپبلکنز کا ہے۔ حالیہ انتخابات میں ریاست کے ووٹرز یقینی طور پر جان مکین کی حمایت کریں گے۔ ٹینیسیالیکٹورل کالج ووٹ: 11 بِل کلنٹن کی معمولی فرق سے کامیابی کے بعد سے ریاست ٹینیسی ریپبلکنز کی طرف سرکتی جا رہی ہے۔ اس کا سب سے واضح مظاہرہ اس وقت ہوا جب ایل گور سن دو ہزار میں اپنی آبائی ریاست ہونے کے باوجود یہاں سے جیتنے میں ناکام رہے۔ ریاست کے نو میں سے پانچ ارکان کانگریس کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے لیکن دونوں سینیٹر ریپبلکنز ہیں۔ توقع ہے کہ موجودہ انتخابات میں ریاست ٹینیسی ریپبلکنز کی حمایت کرے گی۔ ٹیکساسالیکٹورل کالج ووٹ: 34 ٹیکساس امریکہ کی دوسری سب سے بڑی ریاست ہے اور الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد کے لحاظ کے اس کا دوسرا نمبر ہے۔ ریاست نے رونالڈ ریگن سے لیکر اب تک ہر ریپبلکن صدارتی امیدوار کا ساتھ دیا ہے۔ جارج بش صدر بننے سے پہلے ریاست ٹیکساس کے گورنر ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے بیس فیصد کے مارجن سے کامیابی حاصل کر کے پارٹی کی پوزیشن اور مضبوط کر دی تھی۔ یوٹاالیکٹورل کالج ووٹ: 5 یوٹا سیاسی لحاظ سے ایک کنزرویٹو ریاست ہے اور گزشتہ دونوں انتخابات میں صدر بش یہاں سے سب سے بڑے مارجن سے جیتے تھے۔ سن دو ہزار چار میں ان کی جیت کا مارجن چھیالیس فیصد تھا۔ ورمونٹالیکٹورل کالج ووٹ: 3 ورمونٹ امریکہ کی سب سے لبرل ریاست ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت آزاد سینیٹر برنی سینڈرز کا انتخاب ہے۔ وہ ایسے منفرد امریکی سیاستدان ہیں جو خود کو سوشلسٹ کہتے ہیں۔ ریاست ورمونٹ کے ریپبلکنز بھی دیگر ریاستوں کےڈیموکریٹس سے زیادہ لبرل ہیں۔ اسی وجہ سے ریاست ورمونٹ کے بارے میں خیال ہے کہ سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں یقینی طور پر ڈیموکریٹس کا ساتھ دے گی۔ ورجینیا الیکٹورل کالج ووٹ: 13 سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں ریاست ورجینیا میں سب سے دلچسپ انتخابی معرکہ دیکھنے میں آئے گا۔ جنوب کی دیگر ریاستوں کی طرح، ریاست ورجینیا خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے ستر کی دہائی تک مکمل طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ رہی ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی کی سول رائٹس کے متعلق اصلاحات سے ناراض ہو یہ ریپبلکنز کا گڑھ بن گئی۔ لیکن واشگٹن ڈی سی کے مضافات میں واقع سر سبز آبادیوں اور شمالی ورجینیا میں آبادی میں اضافے کی وجہ سے ڈیموکریٹک پارٹی حالیہ کامیابیوں سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اب یہاں دونوں پارٹیوں کو برابر کی حمایت حاصل ہے۔ ریاست سے دو سابق گورنروں کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے تھا اور سن دو ہزار چھ میں کنزرویٹو ڈیموکریٹ جِم ویب نے ورجینیا کی ایک سینیٹ کی نشست جیتی تھی اور سن دو ہزار آٹھ میں دوسری نشست پر بھی ڈیموکریٹس کی کامیابی یقینی ہے۔ باراک اوباما نے ورجینیا میں بہت زور شور سے انتخابی مہم چلائی ہے اور افریقی امریکی اور تعلیم یافتہ سفید فام ووٹروں کی حمایت کے بعد وہ اب سینیٹر جان مکین کے برابر پہنچ چکے ہیں۔ دریں اثنا اگر جان مکین ورجینیا میں کامیابی حاصل نہ کر سکے تو ان کے وائٹ ہاؤس پہنچنا بہت مشکل ہو گا۔ واشنگٹنالیکٹورل کالج ووٹ: 11 واشنگٹن ایک مکمل طور پر ڈیموکریٹ ریاست ہے، اگرچہ ریپبلکنز نے حالیہ سالوں میں چند علاقوں میں حمایت حاصل کر لی ہے اور انہوں نے سن دو ہزار چار میں گورنر کے انتخاب میں ڈیمو کریٹس کا سخت مقابلہ کیا تھا۔ تاہم واشنگٹن نے رونالڈ ریگن کے بعد سے کسی بھی ریپبلکن صدارتی امیدوار کی حمایت نہیں کی۔ ویسٹ ورجینیاالیکٹورل کالج ووٹ: 5 ویسٹ ورجینیا تہذیبی طور سے ایک کنزرویٹو ریاست ہے لیکن سن انیس سو تیس سے لیکر دو ہزار تک اس پر ڈیموکریٹس کا غلبہ رہا ہے، جب اس نے صدر بش کی حمایت کی تھی۔ امید ہے کہ حالیہ انتخابات میں یہاں سے جان مکین کی جیت ہو گی۔ باراک اوباما کو یہاں سے پرائمری انتخابات میں ہلیری کلنٹن کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وسکونسن الیکٹورل کالج ووٹ: 10 وسکونسن ڈیموکریٹس کے لیے محفوظ ریاست ہونی چاہییے۔ ریاست کا گورنر ڈیموکریٹ ہے جبکہ دو سینیٹروں اور آدھے ارکان کانگریس کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ ریاست وسکونسن نے سن انیس سو بانوے اور انیس سو چھیانوے میں بِل کلنٹن کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا تھا۔ لیکن سن دو ہزار اور دو ہزار چار میں الگور اور جان کیری نے معمولی فرق سے ریاست وسکونسن سے کامیابی حاصل کی۔ اسی وجہ سے جان مکین اس بار یہاں سے الیکشن جیتنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق باراک اوباما ریاست وسکونسن میں بہت مقبول ہیں جو ان کی آبائی ریاست اِلینوائے کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ بات انہیں آسان جیت کی امید دلاتی ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||