امریکی انتخاب: نوجوانوں کا بڑا دھماکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویسے تو کہتے ہیں کہ امریکہ ہے ہی نوجوانوں کا لیکن حالیہ تاریخی انتخابات میں نوجوان ووٹروں میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے ۔سیاسی پنڈتوں نے اسے امریکی سیاست میں نوجوانوں کا بڑا دھماکہ قرار دیا ہے۔ گذشتہ آٹھ سالوں میں امریکہ میں نوجوان ووٹروں کا بڑا ٹرن آؤٹ ہوا ہے جسکی ایک وجہ امریکی نوجوان ووٹروں کو متحرک کرنے میں ڈیموکریٹک پارٹی کا بڑا کردار سمجھا جا رہا ہے جسکی شروعات دو ہزار چار میں ہی ہو چکی تھی۔ سنہ دو ہزار چار نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی کے باراک اوباما کے امریکی سینیٹ میں منتخب ہونے کا سال ہے بلکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں انٹرنیٹ پر ایکٹرانک سوشل نیٹ ورکنگ کے نوجوانوں میں بہت بڑے ذریعے 'فیس بُک' کی بنیاد پڑنے کا بھی سال ہے۔ لیکن بہت کم لوگوں کو پتہ ہوگا کہ 'فیس بُک' کے بانیوں میں سے ایک باراک اوباما کا شاگرد تھا اور دو ہزار آٹھ میں بھی انکی حالیہ انتخابی مہم کی ٹیکنالوجی کے ذرائع کے استعمال کی تمام حکمت عملی اور اسکے ذریعے نوجوان ووٹروں کو متحرک کرنے کا معمار بتایا جاتا ہے۔ امریکہ میں نوجوان ووٹر اٹھارہ سے لیکر انتیس سال کے عمر تک کو مانا جاتا ہے یہ حق اسے امریکی آئین دیتا ہے جسے چھبیسویں ترمیم کہا جاتا ہے جو قانون انیس سواکہتر میں پاس ہوا تھا اور جسکے تحت اٹھارہ، انیس اور بیس سال کے نوجوانوں کو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا تھا۔ انیس سو اکہتر سے قبل اٹھارہ، انیس اور بیس سال کے نوجوانوں کو امریکی انتخابات میں ووٹ کا حق نہیں تھا جس کیلیے امریکہ میں نوجوانوں کو ووٹ کے حق کی تحریک تو کسی نہ کسی طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد سے چلتی آئی تھی۔ انیس سو ستر کی دہائي میں امریکہ میں ویتنام جنگ مخالف تحریک اور نوجوانوں میں بہت بڑے فکری اور سماجی ابھار آۓ ہوۓ تھے اور انیس سو بہتر کے انتخابات میں امریکہ میں پہلی بار نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ گو دو ہزار چار کے انتخابات ميں پھر امریکہ میں نوجوان ووٹروں کا غیر معمولی ٹرن آئوٹ انچاس فی صد تھا۔ لیکن دو ہزار سے لیکر دو ہزار چار کے انتخابات تک نوجوان ووٹر ڈیموکریٹک پارٹی کے ہارجانے والے امیدوار کو ووٹ دیتے رہے تھے۔ سنہ دو ہزار کے انتخابات میں نوجوان ووٹروں کی بڑی تعداد نے ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار ایل گور اور دو ہزار چار میں جان کیری کو ووٹ دیا تھا۔ لیکن دو ہزار آٹھ جسے شروع ہوتے ہی امریکی ہفتہ روزہ ٹائم میگزین نے ' نوجوان ووٹر کا سال ' قرار دیا تھا، لاکھوں کی تعداد میں نوجوان ووٹروں کو باراک اوبامہ نے اپنی طرف کھینچا ہے اور انکی مہم کا بڑا اکھاڑہ امریکی یونیورسٹیاں اور کالج رہے ہیں۔ لیکن اسکے علاوہ افریقی امریکی نزاد اور لاطینی نوجوان ووٹروں نے لاکھوں کی تعداد میں خود کو ڈیموکریٹک ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ کروایا ہے۔ باراک اوباما جو خود بھی شکاگو یونیورسٹی میں قانون پڑھاتے رہے ہیں فری کالج، تعلیم اور روزگار پر انکی مہم میں تقریروں اور پروگرام نے نوجوان ووٹروں کو انکے حریف جان مکین کے مقابلے میں زبردست متاثر کیا ہے۔ معرف تنک ٹینک پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، حالیہ دو ہزار آثھ کے انتخابات میں نوجوانوں کی دلچسپی اور جوش و خروش کا ستاون فی صد ہے جو گذشتہ دو ہزار چار میں فقط چوالیس فی صد تھا۔ پولنگ سٹشنوں پر نوجوان ووٹروں کا زبردست رش دیھکنے میں آیا ہے اور پولنگ سٹشنوں سے باہر نوجوان ووٹروں سے بات چیت میں لگتا ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت باراک اوبامہ کو ووٹ دینے نکلی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف نیویارک شہر میں سترہ ہزار نوجوانوں نے خود کو ڈیموکریٹک ووٹر کے طور پر رجسٹر کروایا ہے۔ لیکن رپورٹوں کےمطابق، کولورڈو اور فلوریڈا ریاستیں جہاں نوجوان ووٹروں کی تعداد کم ہے باراک اوباما کو مشکلات سامنا ہے- | اسی بارے میں ووٹروں پر ریپبلیکن کی گرفت کمزور04 November, 2008 | صفحۂ اول بلیک امریکہ اوباما سے کیا چاہتا ہے؟03 November, 2008 | صفحۂ اول ٹیکسی ڈرائیور کیا کہتے ہیں03 November, 2008 | صفحۂ اول ہیلو سارا، میں ’سرکوزی‘ ہوں!02 November, 2008 | آس پاس مکین کی حمایت میں ڈک چینی02 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||