ہیلو سارا، میں ’سرکوزی‘ ہوں! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں نائب صدر کے عہدے کے لیے ریپبلیکن امیدوار سارا پیلین اس وقت دھوکہ کھا گئیں جب کینیڈا کے ایک مزاحیہ ریڈیو فنکار نے فرانس کے صدر نکولا سرکوزی بن کر ان سے فون پر بات کی۔ فون پر چھ منٹ تک چلنے والی یہ گفتگو مونٹریال ریڈیو پر ایک پروگرام پر نشر کی گئی۔ مزاحیہ فنکار مارک اینٹوئنے اوڈیٹ نے سارا پیلین کو یہ کہہ کر فون کیا کہ وہ فرانس کے صدر نکولا سرکوزی بول رہے ہیں۔ سارا پیلین نے چھ منٹ تک فرضی نکولا سرکوزی سے بات کی اور اس گفتگو میں ان کی اہلیہ کارلا برونی کی خوبصورتی سے لیکر فرانسیسی صدر کے ساتھ شکار پر جانے کے منصوبے تک پر بات چیت ہوئی۔ اور یہ ساری گفتگو ریڈیو پر نشر کی گئی۔ محترمہ پیلن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پیلین اس فون سے تھوڑی محظوظ ہوئی ہیں۔ اس فون کال کے دوران اوڈیٹ نےسارا پیلن سے یہ بھی کہا کہ وہ ایک امریکہ کی صدر بن سکتی ہیں۔پیلن نے ہنستے ہوئے کہا شاید اب سے آٹھ برس بعد وہ صدر بن سکتی ہیں۔
اوڈیٹ نے پیلن سے یہ بھی کہا کہ انہیں اچھا لگے گا اگر وہ اور پیلن ہیلی کاپٹر پر سوار ہوکر شکار کرنے جائیں۔ پیلین نے جواب دیا کہ انہیں شکار کرنے میں بہت مزا آتا ہے۔ لیکن آڈیٹ نے کہا کہ وہ شکار پر جانا تو پسند کریں گے لیکن شرط یہ ہے کہ امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی انکے ساتھ نہ جائیں۔ مسٹر چینی نے 2006 میں شکار کرتے وقت اپنے ہی ایک ساتھی کے گولی مار دی تھی۔ سارا پیلن نے جواب دیا کہ وہ گولی چلاتے وقت احتیاط سے کام لیں گی۔ مسٹر اوڈیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ دیھکنا چاہتے تھے کہ کیا پیلن کا یہ کہنا درست ہے کہ امریکی میڈیا انکے ساتھ صحیح طور پر پیش نہیں آتا۔ اوڈیٹ نے مزید کہا ’ ہم نے امریکی خارجہ پالیسی پر بھی ان سے بات چیت کرنے کی کوشش کی۔ اور بات چیت ریڈیو پر نشر کرنے لائق تھی۔ ‘ |
اسی بارے میں ’کیلیفورنیا: جوش و خروش نہیں‘28 October, 2008 | آس پاس جان مکین کا سیاسی سفر 28 October, 2008 | آس پاس امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت28 October, 2008 | آس پاس تہلکہ مچانے والے اوباما28 October, 2008 | آس پاس اوباما قتل سازش: ملزم عدالت میں28 October, 2008 | آس پاس خطروں کی کھلاڑی سارہ پیلن28 October, 2008 | آس پاس مختلف مسائل، مختلف رائے28 October, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||