ووٹروں پر ریپبلیکن کی گرفت کمزور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں صداراتی انتخابات میں روایتی طور پر ریپبلیکن ریاست وِرجینیا میں لاکھوں لوگوں نے ڈیموکریٹک امیدوار سینیٹر باراک اوباما کی انتخابی مہم کی آخری ریلی میں شرکت کی ہے۔ دوسری طرف رائے عامہ کے تمام جائزوں اور انتخاباتی پنڈتوں نے بھی منگل چار نومبر کو ہونے والے انتخابات میں سینیٹر باراک اوباما کی بھاری اکثریت اور کانٹے کے مقابلے والی ریپبلیکن یا سرخ ریاستوں کو نیلے یا ڈیموکریٹ میں بدل جانے کی پیشن گـوئیاں کی ہیں۔ جبکہ ڈیموکریٹ پارٹی کے منجھے ہوئے سیاستدان ہاورڈ ڈین نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹس کی طرف سے ممکنہ طور پر جیتی جانے والی ان ریاستوں میں ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار سینٹر باراک اوباما کی اپنی رہائشی ریاست ایریزونا بھی شامل ہے۔ پیر کی شب ریپبلیکن اثر رسوخ والی ریاست ورجینیا کے ایک چھوٹے شہر میں اپنی مہم کی آخری ریلی میں شریک انتہائي پُرجوش ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر باراک اوباما نے کہا کہ امریکہ تبدیلی سے صرف ایک رات دور ہے۔ سینیٹر اوباما نے اکیس ماہ قبل شروع کی جانے والی اپنی انتخابی مہم کی آخری رات کو ’طوفان کی رات‘ کہا۔ مقامی میڈیا کے مطابق امریکہ کے چھوٹے لیکن سفید فام اکثریت کے روایتی ریپلیکن حمایت کے شہروں میں اب اوباما کی حمایت کی جا رہی ہے جسکی وجہ انکا دیا ہوا ٹیکس اور پلان اور معیشت ہے۔ ورجینیا کی باراک اوباما کی ریلی کو امریکہ میں انتخاباتی مہم کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی ریلی قرار دیا جا رہا ہے جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ہے۔ دوسری طرف منجھے ہوئے مبصرین چار نومبر کے ان انتخابات میں ریپبلیکن جماعت کی واضح طور ممکنہ ہار کو صدر جارج بش کی شکست قرار دے رہے ہیں۔ امریکی سیاسی اور ميڈیا پنڈت مغربی ریپبلیکن ریاستوں کو جان مکین کے ہاتھ سے نکل جانے کو ان کے لیے حال ہی میں نائب صدر ڈک چینی کیطرف سے کی جانے والی حمایت کے اعلان سے جوڑ رہے ہیں کیونکہ بقول ان پنڈتوں کے اکثر امریکی ووٹروں میں بش انتظامیہ کے خلاف غصہ موجود ہے۔ جب گذشتہ شب سی این این کے لیری کنگ لائیو میں مدعو جان مکین کی اہلیہ سنڈی مکین سے ڈک چینی کی طرف سے حمایت کے متعلق سوال پوچھا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ریپبلیکن پارٹی کی موجودہ پوزیشن دو جنگوں اور پھر اچانک حال ہی میں آنیوالے معشیت کے بحران کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس امر کا زبردست فائدہ اٹھانے کیلیے ڈیموکریٹ پارٹی نے زبردست حکمت عملی سے انتخابی مہم چلائي ہے۔ دوسری طرف اسی پروگرام میں ڈیموکریٹک پارٹی کے نیشنل کنونشن کمیٹی کے سربراہ ہارورڈ ڈین نے کہا ہے کہ ان کی پیشین گوئی ہے کہ وائٹ ہاؤس کا راستہ امریکی مغربی ریاستوں یعنی نیو مکیسیکو، کولاراڈو، انڈیانا اور جان مکین کی رہائشی ریاست اریزونا سے ہوتا ہوا جاتا ہے۔ سینیٹر جان مکین نے پیر کے روز سات ریاستوں کا دورہ کیا جن میں کولوراڈو اور نارتھ کیرولائنا شامل ہیں۔ جان مکین کی مہم کے آخری دن ان کی ریلیوں میں شریک ہونے والوں کی تعداد چند ہزار تھی۔ مقامی امریکی میڈیا کے مطابق جان مکین کا پورا زور اب پینسلوانیا کے سفید فام اور اب تک فیصلہ نہ کرسکنے والے ووٹروں پر ہے لیکن وہ اس سے اپنا وائٹ ہاؤس کی طرف راستہ بنانے سے بہت پیچھےہیں۔ جان مکین کو ان ریاستوں میں زبردست مشکلات کا سامنا ہے جن ریاستوں سے دو ہزار اور دو ہزار چار میں صدر بش بڑے فرق سے جیت کر آئے تھے۔ |
اسی بارے میں پیشن گوئی: مکین 247، اوباما 29104 November, 2008 | آس پاس باراک اوبامہ یا جان مکین: فیصلے کا دن04 November, 2008 | آس پاس باراک اوباما کی نانی انتقال کر گئیں04 November, 2008 | آس پاس مکین کی حمایت میں ڈک چینی02 November, 2008 | آس پاس اوبامہ کی مقبولیت میں اضافہ02 November, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||