صدر کا انتخاب بھی، مرغیوں کی آزادی بھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چار نومبر کو جب امریکہ میں ووٹ ڈالے جائیں گے تو صرف جان مکین اور باراک اوباما کا سیاسی مستقبل ہی داؤ پر نہیں ہوگا۔ کئی ریاستوں میں اہم اور متنازعہ موضوعات پر ریفرینڈم بھی کرائے جارہے ہیں جن کے نتیجہ میں قوانین بدل سکتے ہیں۔ ان میں سے کئی موضوعات صدارتی انتخابات میں بھی بحث کا محور بنے رہے جیسے اسقاط حمل اور ہم جسنوں کے مابین شادیاں۔ سب سے اہم ریفرینڈم شاید کیلیفورنیا میں کرایا جارہا ہے جو اگر منظور ہوگیا تو شادیوں سے متعلق آئین کی شق کچھ اس طرح بدل دی جائے گی: ’ کیلیفورنیا میں صرف مرد اور عورت کے درمیان شادی کی اجازت ہے۔‘ یہ تجویز ہم جنس پرستوں کےدرمیان شادی کی مخالفت کرنے والوں نے پیش کی ہے۔ وہ کیلیفورنیا کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں جس کے تحت سن دو ہزار آٹھ میں ہم جنسوں کو آپس میں شادی کرنے کی اجازت دیدی گئی تھی۔ یہ لوگ اب آئین میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سےباہر ہو جائے۔ لیکن اس مرتبہ مقابلہ کانٹےکا ہے اور اونٹ کسی بھی کروٹ بیٹھ سکتا ہے۔ ان ہی خطوط پر فلوریڈا اور ایریزونا میں بھی ریفرینڈم کرائے جارہے ہیں۔ کیلیفورنیا میں ’براہ راست جمہوریت‘ کی لمبی روایت ہے یعنی بہت سے اہم یا متنازعہ معاملات پر قانون سازی کے لیے ریفرینڈم کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اس انتخاب کے دوران عوام سے یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے کہ آیا قابل تجدید توانائی کے اہداف میں اضافہ کیا جائے، اور فارم پر پالے جانے والے جانوروں کو اس انداز میں بند کرنے پر پابندی لگا دی جائے جس سے ان کو بآسانی حرکت کرنے میں دشواری پیش آتی ہو۔‘
اس مجوزہ قانون کا بنیادی مقصد دڑبوں کے اندر پولٹری فارمنگ پر پابندی لگانا ہے۔ وہ اسقاط حمل کے بارے میں بھی ایک اہم فیصلہ کریں گے جس کے تحت کمسن لڑکیاں اس وقت تک اسقاط نہیں کراسکیں گی جب تک ان کے والدین کو ان کی اس خواہش کے بارے میں اطلاع ملے ہوئے اڑتالیس گھنٹے نہیں گزر جاتے۔ تازہ ترین جائزوں کے مطابق چھیالیس فیصد لوگ اس تجویز کے حق میں ہیں جبکہ چوالس مخالف۔ بڑے اخبار بھی اس بحث میں اپنے موقف کی کھل کر وکالت کر رہے ہیں۔ لاس اینجیلیز ٹائمز کے مطابق ووٹروں کو اس مجوزہ قانون کو مسترد کر دینا چاہیے کیونکہ کمسن لڑکیاں اپنے والدین کو بتانے کے بجائے غیر قانونی طور پر اسقاط حمل کرانے کی کوشش کریں گی۔ ادھر اورینج کاؤنٹی رجسٹر کا کہنا ہےکہ والدین کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ ان کی بیٹی اسقاط کرانے والی ہے۔ اسقاط کا معاملہ جنوبی ڈکوٹا اور کولاراڈو میں بھی زیر غور ہے۔ جنوبی ڈکوٹا میں ماں کی صحت کو خطرے اور جنسی زیادتی کے معاملات کے علاوہ تمام حالات میں اسقاط پر پابندی عائد کرنے کی تجوویز ہے۔ اسقاط اور ہم جنسوں کی شادیوں کے علاوہ امیگریشن ایک ایسا موضوع ہے جس پر امریکہ میں بہت بحث ہوتی ہے۔ کچھ امریکیوں کو خدشہ ہے کہ امریکہ میں ہسپانویوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے انگریزی زبان رو بہ زوال ہے۔ لہذا اوریگان میں تجویز ہے کہ غیر ملکی طلبا کو زیادہ سے زیادہ دو برس ہی ان کی مادری زبان میں پڑھایا جائے، اس کے بعد نہیں۔ اور مسوری میں ان تمام حکومتی اجلاسوں کی سرکاری زبان انگریزی کردینے کی تجویز ہے جن میں حکومتی معاملات پر بتادلہ خیال ہو یا پالیسی وضع کی جائے۔ دونوں ہی تجاویز کے منظور ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ |
اسی بارے میں ’صدر کوئی بھی، بڑا چیلنج پاکستان‘01 November, 2008 | آس پاس پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس امریکی انتخاب محض کاسمیٹک تبدیلی؟22 October, 2008 | آس پاس پیٹریئس، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ31 October, 2008 | آس پاس مختلف مسائل، مختلف رائے28 October, 2008 | آس پاس امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت28 October, 2008 | آس پاس مکین کےحملوں سے ناراض25 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||