انتخابی مہم آخری مرحلے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدارتی انتخابات کی مہم کے آخری مراحل میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدوار ان ریاستوں پر توجہ مرکوز کیئے ہوئے ہیں جن میں کسی کو بھی واضح سبقت حاصل نہیں ہے۔ ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار جان مکین پینسلوینیا میں دو جلسوں سے خطاب کریں گے جبکہ باراک اوباما اوہایو میں تین انتخابی ریلیوں میں تقریر کریں گے۔ نائب صدر کے لیے ریپبلکن پارٹی کی امیدوار سارا پیلن بھی اوہایو ہی میں ہیں اور وہ بھی تین جلسوں سے خطاب کر رہی ہیں۔ سن دو ہزار چار کے انتخاب میں اوہایوں نے بہت معمولی فرق سے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار صدر جارج بش کو جتایا تھا اور اگر جان مکین کو وہائٹ ہاؤس تک پہنچنا ہے تو ان کے لیے اس ریاست کو جیتنا لازمی ہے۔ اوہایو کے بیس الیکٹورل ووٹ ہیں اور انتخابی جائزوں کے مطابق وہاں دونوں امیدواروں کے درمیان اتنا کم فرق ہے کہ کامیابی کسی کے بھی ہاتھ لگ سکتی ہے۔ پینسلوینیا کے اکیس الیکٹورل ووٹ ہیں اور گزشتہ انتخابات میں وہاں ڈیموکریٹک پارٹی کامیاب رہی تھی۔ انتخابی تجزیہ نگاروں کے مطاق اگر باراک اوباما پینسلوینیا میں کامیابی حاصل نہیں کرتے تو ان کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
سنیچر کو دونوں امیدواروں نے ان ریاستوں میں وقت لگایا جو روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کا ساتھ دیتے ہیں۔ اور اسی دوران جان مکین نے ایک مزاحیہ شو کے لیے بھی وقت نکالا جو سارا پیلن پر اپنے ظنزیہ پروگراموں کے لیے بہت مشہور ہوگیا ہے۔سیٹرڈے نائٹ لائیو میں حصہ لیتےہوئے جان مکین نے کہا کہ ان کے پاس اب انتخابی مہم پر خرچ کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں اس لیے وہ ٹی وی پر ایسی مصنوعات بیچنا شروع کر رہے ہیں جو ان کی انتخابی مہم سے وابستہ ہیں! اس سے قبل ورجینیا میں پرچار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ ہم ابھی بھی یہ انتخاب جیت سکتے ہیں، اور جیتیں گے۔‘ ادھر مسٹر اوباما نے ریڈیو پر ووٹروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر منگل کو آپ مجھے اپنا ووٹ دیتے ہیں تو ہم نہ صرف یہ الیکشن جیتیں گے بلکہ ملکر ہم اس ملک اور پوری دنیا کو بدلیں گے۔‘ ایک انتخابی جائزے کے مطابق مسٹر اوباما کی لیڈ کم ہوئی ہے لیکن باقی جائزوں کے مطابق انہیں نو سے دس پوائنٹس کی سبقت حاصل ہے۔ امریکہ میں الیکشن عہدیداران کو توقع ہے کہ تیرہ کروڑ لوگ حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو انیس سو ساٹھ کے بعد سے کسی بھی الیکشن میں یہ سب سے زیادہ پولنگ ہوگی۔ | اسی بارے میں ’صدر کوئی بھی، بڑا چیلنج پاکستان‘01 November, 2008 | آس پاس پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس امریکی انتخاب محض کاسمیٹک تبدیلی؟22 October, 2008 | آس پاس پیٹریئس، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ31 October, 2008 | آس پاس مختلف مسائل، مختلف رائے28 October, 2008 | آس پاس امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت28 October, 2008 | آس پاس مکین کےحملوں سے ناراض25 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||