امریکی انتخابات، تبدیلی کا انتظار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایریزونا کے دارالحکومت فینکس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر پہنچا تو سیاہ فام بچے کتبوں پر لکھے اوباما کے نام میں رنگ بھر رہے تھے۔ نو سالہ جان وہائٹ سے پوچھا کہ اوباما کون ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’مجھے پتہ نہیں ہے۔‘ لیکن ساتھ بیٹھی ہوئیں حاملہ والدہ نے کان میں کھسر پسر کی تو جان نے کہا کہ ’ہاں مجھے یاد آیا یہ امریکہ کے صدر کا انتخاب لڑ رہے ہیں‘۔ جان کی والدہ سے تعارف ہوا۔۔۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا نام لوپیسیا اور عمر ترتالیس برس ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ اس ملک میں پہلی بار ایک سیاہ فام شحص صدر بننےوالا ہے۔ جب انہیں یاد دلایا کہ ابھی تو انتخاب ہونا باقی ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہاں لیکن مجھے اوبامہ کی جیت کا یقین ہے کیونکہ ہمارے ہم خیال لوگ بہت زیادہ سرگرم ہیں۔‘ سڑک کنارے چھوٹے سے مکان میں واقع اوباما کا دفتر ان کے رضا کاروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور لوگ اپنے جاننے والوں کو فون کرکے ووٹ مانگتے نظر آئے۔
مکان کی کسی بھی دیوار پر کوئی جگہ خالی نظر نہیں آئی۔ کہیں اوباما کی تصاویر تو کہیں کتبے اور بینر لکھے ہوئے ہیں۔ دفتر میں زیادہ تر رضاکار نوجوان خواتین نظر آئیں۔ ووٹر فہرستیں جگہ جگہ پھیلی ہوئیں ہیں اور لوگ آتے ہیں اپنے ووٹ اور پولنگ کے بارے میں تفصیلات لیتے اور اوباما کی تصاویر والے بیجز خریدتے اور چلے جاتے۔ اوباما کی ایک حامی سیاہ فام طویل القامت نیسلا حُسان نے کہا کہ ’ہم تبدیلی چاہتے ہیں، لوگ تبدیلی چاہتے ہیں، امریکہ تبدیلی چاہتا ہے اس لیے ہم جیتیں گے۔‘ دفتر سے باہر آیا تو ایک سیاہ فام شخص نے اپنی گاڑی کی ڈکی کھول کر دکھائی جس میں اوباما کی تصویر والی شرٹ ٹنگی ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اوباما کے حامی ہیں اور ان کی تصاویر والی قمیضیں اور بیجز بیچ کر ایک طرف اپنی جماعت کی خدمت کر رہے ہیں تو دوسری طرف اپنا روزگار بھی کرتے ہیں۔ کیلیفورنیا کے مختلف شہروں اور ایریزونا کے مختلف علاقوں میں جانے کے بعد اس بات کا احساس ہوا کہ ڈیموکریٹس کے حامی زیادہ تر نوجوان نسل کے لوگ ہیں اور ان میں سیاہ فام آبادی بہت سرگرم ہے۔ اوباما کے الیکشن آفس سے نکل کر ٹیکسی پکڑی اور ریپبلکن کے دفتر پہنچا۔ ایک بڑی عمارت میں ایک ہال نما دفتر میں لوگ کام میں مصروف ہیں لیکن وہ چہل پہل یا ہلہ گلہ نہیں جو ڈیموکریٹس کے دفتر میں نظر آیا۔ دفتر میں داخل ہوتے ہی دو افراد نے گھیر لیا اور ایسا لگا جیسا کہ کوئی جاسوس ان کے دفتر میں آگیا ہو۔ تعارف کرانے پر ایک کونے میں بیٹھی کِم سیباؤ سے ملوایا گیا اور انہوں نے کہا کہ ’دیکھیے ابھی ہم اپنے کام میں مصروف ہیں، آپ شام کو آئیں۔‘ ان سے الیکشن کی تیاریوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ دیکھیں کچھ معاملات خفیہ ہوتے ہیں اور ہم معلومات نہیں دے سکتے۔ |
اسی بارے میں ہیلو سارا، میں ’سرکوزی‘ ہوں!02 November, 2008 | آس پاس مکین کی حمایت میں ڈک چینی02 November, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||