انتخابی مہم کے بارے میں راز داری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی حکمران جماعت ریپبلیکن کے ایریزونا کے دارالحکومت فینکس میں واقع دفتر پہنچا وہاں موجود درجن بھر لوگ ایسے گھورتے رہے کہ جیسا کوئی ڈیموکریٹس کا جاسوس ان کے ہاں نمودار ہوا ہو۔ ایک نوجوان آیا اور علیک سلیک کے بعد انہوں نے دفترکی انچارج کِم سیبووا سے ملوایا۔ مس سیبووا سے انتحابی تیاریوں کے متعلق بات کرنا چاہی تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کی کسی سرگرمی کے متعلق فی الحال کچھ نہیں بتاسکتیں۔ جب ان سے دفتر کے اندر لگے بینرز اور کتبوں کی تصاویر بنانے کی اجازت چاہی تو بھی انہوں نے معذرت کرلی اور کہا کہ ’اس وقت ہمارا اہم اور رازدارانہ کام ہو رہا ہے۔‘ میں نے ان سے دوبارہ درخواست کی کہ دفتر میں لٹکے ہوئے بینر اور لگی ہوئی تصاویر کے فوٹو کھینچنے میں کیا مسئلہ ہے تو انہوں نے شائستگی سے کہا کہ پلیز بحث نہ کریں۔ میرے ذہن میں اچانک طالبان کا خیال آیا جو تصاویر بنانے کی مخالفت کرتے ہیں۔ پھر سوچا کہ میں تو طالبان سے ہزاروں میل دور دنیا کے اکیلے سپر پاور امریکہ میں ہوں یہاں ایسا کیوں؟ ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔
مس کم سیبووا نے شام پانچ بجے آنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس وقت آپ سے بات بھی ہوگی اور تصاویر بھی بنالیجیئے گا۔ اس روز تو دیے گئے وقت پر نہ جاسکا لیکن اگلے روز جب پہنچا تو مس کِم سیبووا تو نہیں ملیں لیکن کمیلا سٹرونگن سے ملاقات ہوئی۔ دفتر میں اس وقت بھی درجن بھر لوگ کام میں مصروف تھے اور وہ ایک کونے میں لے گئیں جہاں بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریپبلیکن ایریزونا سے جیت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایریزونا سے ان کی جماعت کی جیت یقینی ہے اس لیے کہ صدارتی امیدوار جان مکین کی یہ آبائی ریاست ہے۔ انہوں نے اپنے دفتر میں محدود تصاویر بنانے کی اجازت دی اور میں نے چند تصاویر اتارنے کے بعد ایک کونے میں جان مکین کی بطور نیوی پائلٹ آویزاں تصویر کی تصویر اتاری۔ جان مکین ویتنام میں کئی سال بطور جنگی قیدی بھی رہے اور وہ امریکہ کے پہلے بہتر سالہ صدارتی امیدوار ہیں۔ ایک میز پر ایک خاتون جو اپنے بچے کے ہمراہ کام کر رہی تھیں ان کی تصویر بنانا چاہی تو کمیلا نے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ پلیز نہیں ۔چند سیکنڈ کے بعد متعلقہ خاتون نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟۔ جب انہیں قصہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ پلیز بنالیں اور وہ فوٹو بناتے وقت تک مسکراتی رہیں۔ کمیلا سے پوچھا کہ آج کل میں کوئی جلسہ جلوس ہوناہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں ایک جلوس اتوار کو نکلنا ہے لیکن اس کے وقت اور جگہ کے بارے میں آپ کو بعد میں مطلع کریں گے۔ اتوار کی صبح گیارہ بجے ان کا فون آیا کہ ریپبلیکن کا ایک جلوس فینکس میں اٹھائیسویں سٹریٹ میں نکل چکا ہے اور آپ فوری پہنچیں۔ میں نے ٹیکسی پکڑی اور فون کے تقریبا آدھ گھنٹے کے اندر متعلقہ جگہ پہنچا تو ریپبلیکن پارٹی کے دو کارکن ملے انہوں نے کہا کہ جلوس تو ختم ہوگیا۔
میں نے کمیلا کو فون کیا کہ آخر یہ ان کی کون سی پالیسی ہے کہ عین وقت پر اطلاع دی جاتی ہے تو انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی وہ مصروف ہیں اور بعد میں فارغ ہوکر بات کریں گی۔ امریکہ کی حکمران ریپبلیکن پارٹی نے چار نومبر کے مجوزہ صدارتی انتخاب کے بارے میں نہ جانے کیوں خفیہ اور رازداری والی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ ان کی پالیسی کے بارے میں تو ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان میں ضیاءالحق کے دور میں کمیونسٹ پارٹی اپنے پروگرامز کو خفیہ رکھتی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||