BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 November, 2008, 21:02 GMT 02:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوباما کی مقبولیت میں اضافہ

ووٹ کی وہ پرچی جس سے امریکی قوم کا مستقبل وابستہ ہے
چار نومبر کو امریکہ کے مجوزہ صدارتی انتخابات کا جیسے جیسے وقت قریب آرہا ہے تو ڈیموکریٹس کے امیدوار باراک اوباما کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے اتوار کو جاری کردہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق باراک اوباما کو اپنے سیاسی حریف جان مکین پر بارہ پوائنٹ کی سبقت حاصل ہوگئی ہے۔

ٹی وی چینلز پر جاری مختلف مباحثوں میں بعض ماہرین اوباما کو امریکہ کے نئے صدر کے لیے فیورٹ قرار دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے اوہائیو اور فلوریڈا میں تو مقابلہ سخت ہوگا ہی لیکن ایریزونا سمیت بعض ایسی ریاستیں جہاں ریپبلکن پارٹی ہی جیتتی ہے وہاں بھی اپ سیٹ ہوسکتا ہے۔

ایریزونا جو ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین کی آبائی ریاست ہے وہاں سے انیس سو چھیانوے میں ڈیموکریٹس جیتے تھے لیکن انیس سو بانوے، سن دو ہزار اور دو ہزار چار میں ریپبلکن امیدوار ہی جیتا تھا۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایریزونا کے صدارتی ووٹ تو دس ہیں لیکن اب کی بار اگر اوباما نے ریاست جیت لی تو جہاں یہ جان مکین کے لیے سیاسی رسوائی کا سبب بنے گا وہاں ریپلکن پارٹی اور ان کے حامیوں کے لیے ایک بہت بڑا دھچکہ ہوگا۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ سابق صدر بل کلنٹن اور باراک اوباما کی پرائمری کی سطح پر حریف ہلیری کلنٹن کی جانب سے اوباما کی انتخابی مہم میں شرکت سے اوبامہ کو کافی فائدہ پہچنا ہے اور ان کی مقبولیت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بھی بنا ہے۔

لیکن اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ چار نومبر کے صدارتی انتخاب میں اوباما کی مقبولیت کی بڑی وجہ حکمران ریپبلکن پارٹی کی مبینہ غلط پالیسیاں ہیں، جن پر خود ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین بھی کھلے عام تنقید کر رہے ہیں۔

امریکی انتخابات میں رائے عامہ کے جائزوں کو کافی اہمیت دی جاتی ہے لیکن پھر بھی ان کی بنیاد پر وثوق سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

نیلے رنگ والے ڈیموکریٹس کی ایک اور اہم علامت گدھا ہے جبکہ سرخ رنگ والی ریپبلکن پارٹی کا نشان ہاتھی ہے۔ لیکن جو بیلٹ پیپر شائع ہوئے ہیں ان میں امیدواروں کے یہ انتخابی نشان نہیں ہیں۔

بیلٹ پیپر میں امیدواروں کے ناموں کے سامنے تیر کے نشان ہیں جنہیں ووٹ دیتے وقت ملانا ہوتا ہے۔ صدارتی الیکشن کے بیلٹ پیپر ہر ریاست اور اس کے ہر شہر کے بارے مختلف شائع کیے جاتے ہیں۔

ایک ہی بیلٹ پیپر پر جہاں ایوان نمائندگاں کے اراکین کا انتخاب بھی ہوتا ہے وہاں ریاستی اسمبلی اور تعلیمی اداروں کے بورڈ کے اراکین بھی منتخب کیے جاتے ہیں۔

 سارا پیلن مکین کے امکانات
پیلن سے فائدے کے بجائے نقصان پہنچ رہا ہے
 سارا پیلن مکین کے امکانات
پیلن سے فائدے کے بجائے نقصان پہنچ رہا ہے
سیاہ فاموں میں جوش
ایریزونا، پارٹی دفاتر میں اعجاز مہر نےکیا دیکھا؟
سیاہ فاموں میں جوش
ایریزونا، پارٹی دفاتر میں اعجاز مہر نےکیا دیکھا؟
آخری دو دن
انتخابی مہم آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے
آخری دو دن
انتخابی مہم آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے
جنگ کے ہیرو جان مکین تصاویر میں
’جنگ کے ہیرو، راست گو‘ جان مکین
جنگ کے ہیرو جان مکین تصاویر میں
’جنگ کے ہیرو، راست گو‘ جان مکین
’سرکوزی‘ سے بات
فرضی ’سرکوزی‘ کی سارا پیلن سے فون پر بات
’سرکوزی‘ سے بات
فرضی ’سرکوزی‘ کی سارا پیلن سے فون پر بات
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد