امریکی الیکشن اور غلاموں کی فروخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں یوں تو ہر چار سال بعد یہ انتخابی میلہ لگتا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر کو کام کرنے کے لئے درمیان کے دو برس ہی ملتےہیں، کیونکہ پہلا سال خیمے گاڑنے میں اور آخری برس خیمے اکھاڑنے (یا انھیں اکھڑنے سے بچانے میں) صرف ہوجاتاہے۔ ہر جمہوری ملک کی طرح امریکہ میں بھی مخالف سیاسی امیدواروں پر طعنے کسے جاتے ہیں، انھیں ماضی کے کرتوت یاد دلائے جاتے ہیں اور اُن کی بچپن کی غلط کاریوں یا جوشِ جوانی کے زمانے کی کوئی تصویر یا ویڈیو ہاتھ آجائے تو سمجھئے کہ سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ میڈیا والوں کے بھی مزے ہوگئے۔ ریپبلکن امیدوار جان مکین نے جوش ایمانداری میں کہیں اتنا کہہ دیا تھا کہ اقتصادی امور میں انہیں کوئی مہارت حاصل نہیں۔ اب جب بھی معاشی بحران کی بات ہوتی ہے تو میڈیا اور باراک اوباما بار بار اس بات کو دہراتے ہیں۔ اُدھر باراک اوباما اپنی انتخابی مہم کے دوران خاصے محتاط رہے اور کوئی ایسا بیان دینے سے گریز ہی کیا جو ہل منِ مزید کے نعرے لگانے والے میڈیا کے پاپی پیٹ کا ایندھن بنے۔ تاہم اِس احتیاط کے نتیجے میں وہ میڈیا کے شکنجے میں آنے سے کاملاً محفوظ نہ رہ سکے، چنانچہ کبھی اُن کے حسب نسب پر، کبھی اُن کے مبینہ اسلامی پس منظر پر، کبھی اُن کی دولت دشمنی پر اور کبھی ان کے اندازِ گفتار پر ہلکی پھلکی چوٹیں ہوتی رہیں۔۔۔ جب کوئی ٹھوس مواد ان کے خلاف نہ ملا تو اِسی بات پر بحث چل نکلی کہ باراک اوباما کو تو’ پاکستان‘ کہنا بھی نہیں آتا، یہ صدارت کیسے کریں گے۔
راقم نے ایک امریکی اینکر پرسن کو یہ کہتے بھی سنا کہ ملک کا نام اچھا بھلا چلیئے یہاں تک بھی بات سمجھ میں آتی ہے کہ واول آوازوں کی ادائیگی کا ڈھنگ ہر لسانی گروہ میں الگ الگ ہوتاہے، لیکن چند روز قبل یہ تنبیہ بھی نظر سے گزری کہ افغانستان کی زبان ( دری) میں اس سیاہ فام صدارتی امیدوار کے نام کا مطلب ہے کہ’ وہ ہمارے ساتھ ہے‘ (او – با – ما) اور جو شخص یوں اعلانیہ طور پر افغانوں کا ساتھ دے رہا ہے وہ امریکہ کی صدارت کیا کرے گا؟ تفّنن برطرف، ریاست ساؤتھ کیرولائنا کے کسی دِل جلے سیاہ فام، یا بد نِیّت سفید فام نے ماضی کا ایک گڑا مردہ اکھاڑ کر یوں چوراہے میں لا کھڑا کیا ہے کہ اس کے تعفّن سے دُور دُور تک کی آبادی پریشان دکھائی دیتی ہے۔ یعنی 1833 کا ایک اشتہار انٹر نیٹ پر جاری کردیا ہے جس میں ہٹے کٹّے حبشی غلاموں کی فروخت کا مژدہ سنایا گیا ہے۔ اس اشتہار میں رچرڈ کلیجٹ نامی ایک گورا امریکی اعلان کرتا ہے کہ منگل پانچ مارچ سن 1833 کو ریاست ساؤتھ کیرولائنا کی ایک بڑی منڈی میں سیاہ فام غلاموں کی سرِ عام بولی لگے گی۔ وہ بتاتا ہےکہ یہ تنو مند حبشی گھریلو کام بھی کر سکتے ہیں اور اِن سے کھیتوں میں بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ البتہ خریدار کو آدھے پیسے نقد ادا کرنے پڑیں گے اور بقیہ ایک یا دو برس کی قسطوں میں ادا کیے جاسکتے ہیں جسکا سُود یومِ فروخت سے واجب الادا ہوگا۔ زیرِ فروخت غلاموں اور لونڈیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے مُشتہر کہتا ہے: ’ ایک صحت مند کالی عورت جو کھانا پکانے کے علاوہ کپڑے دھونا اور استری کرنا بھی جانتی ہے، چار بچّوں کی ماں ہے: تیرہ سالہ بیٹی، سات سالہ بیٹی، پانچ سالہ بیٹا اور گیارہ ماہ کا شیر خوار۔ اِن میں سے دو بچّے ماں کے ساتھ ہی فروخت کردیئے جائیں گے جبکہ باقی دو بچوں کا سودا الگ ہوگا، تاہم خریدار کی مرضی کو مقدم گردانا جائے گا۔‘
آگے چل کر مشتہر ایک تیس سالہ تنو مند غلام کا ذکر کرتا ہے جسکی پچیس سالہ بیوی اور دو بیٹیاں بعمر بارہ سال اور پانچ سال برائے فروخت موجود ہیں۔ مشتہر بتاتا ہے کہ مرد آپکی گھوڑا گاڑی چلا سکتا ہے اور اسکی بیوی گھریلو کام کرسکتی ہے، جبکہ بچّوں کو کسی بھی کام کی تربیت دی جاسکتی ہے۔ اشتہار دینے والا دعوٰی کرتا ہے کہ ان چار سیاہ فاموں کے اُسے بارہ سو پچاس ڈالر پیش کئے گئے تھے جو کہ اس نے قبول نہیں کئے کیونکہ مال اس سے زیادہ قیمت کا ہے۔ مشتہر واضح کرتا ہے کہ وہ اِن سیاہ فاموں کو کسی جسمانی نقص، کمزوری یا بیماری کی وجہ سے فروخت نہیں کر رہا ہے کیونکہ یہ سب ہٹے کٹّے اور صحت مند کارکن ہیں۔ انھیں فروخت کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس کے پاس ضرورت سے زیادہ غلام اکٹھے ہوگئے ہیں اور وہ اچھی قیمت ملنے پر فالتو غلاموں سے، اُن کے بیوی بچّوں سمیت، فراغت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ڈیڑھ دو سو برس پہلے امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں اسطرح کا اشتہار کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج سن 2008 میں ساؤتھ کیرولائنا کے کسی باشندے کو اپنی تاریخ کا یہ شرم ناک باب کھولنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ کیا سفید فام صدارتی امیدوار جان مک کین کا کوئی نسل پرست ووٹر یہ کہہ رہا ہے کہ دیکھو جن حبشیوں کو ہم کل تک مع بیوی بچّوں کے شہر کے بڑے چوک میں بولی لگا کر فروخت کیا کرتے تھے، آج وہ ہم پر حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔۔۔ یا باراک اوباما کا کوئی خوش فہم دوست امریکیوں سے کہہ رہا ہے: |
اسی بارے میں خارجی امور کے ماہر جو بائڈن 28 October, 2008 | آس پاس ’کیلیفورنیا: جوش و خروش نہیں‘28 October, 2008 | آس پاس اوباما قتل سازش: ملزم عدالت میں28 October, 2008 | آس پاس امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت28 October, 2008 | آس پاس تہلکہ مچانے والے اوباما28 October, 2008 | آس پاس خطروں کی کھلاڑی سارہ پیلن28 October, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||