BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 November, 2008, 21:05 GMT 02:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹیکسی ڈرائیور کیا کہتے ہیں

اوبامہ کی انتخابی مہم کا نعرہ ہے تبدیلی
ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مکین کی آبائی ریاست ایریزونا کے دارالحکومت فینکس میں صدارتی انتحابات کے بارے میں ٹیکسی ڈرائیورز کے تاثرات عام لوگوں سے ذرا مختلف سننے کو ملے ہیں۔

تریسٹھ لاکھ اڑتیس ہزار آبادی والی اس ریاست میں گزشتہ پانچ روز کے اندر کئی ٹیکسی ڈرائیورز سے بات چیت کا موقع ملا اور بیشتر ڈیموکریٹس کے امیدورا باراک اوبامہ کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔

ایک خاتون ڈرائیور جو ییلو کیب چلاتی ہیں انہوں نے کہا کہ وہ اوبامہ کو اس لیے ووٹ دینا چاہتی ہیں کیونکہ وہ عام آدمی کا بھلا چاہتا ہے اور صحت کی سہولیات پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

انہیں کوئی فکر نہیں کہ اوبامہ کی عراق، افغانستان اور پاکستان کے بارے میں کیا پالیسی ہوگی بلکہ ان کا کہنا ہے کہ عام امریکی شہریوں کے لیے کیا نئی سہولیات ملیں گی۔

ایک ٹیکسی ڈرائیور سٹیوو استفھان نے کہا کہ وہ ریپبلکن کے حامی ہیں اور چار نومبر کو اپنا ووٹ جان مکین کو دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شامی نسل کے عراقی ہیں لیکن عرب نہیں۔

ان کے مطابق دس برس امریکی ریاست مشی گن میں گزارنے کے بعد اٹھائیس برسوں سے ایریزونا میں ہیں۔ ان کے مطابق ریبلپکن مذہبی لوگ ہیں اس لیے وہ ان کے حامی ہیں۔

ایک مقامی امریکی ڈرائیور نے کہا کہ وہ ووٹ تو اوبامہ کو دیں گے لیکن انہیں فکر ہے کہ امریکہ میں کہیں سوشل ازم نہ آجائے۔

سوشل ازم میں کیا خرابی ہے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’آپ کیوبا کو دیکھ لیں۔۔ اس نظام کی خرابی یہ ہے کہ جو زیادہ محنت کرے گا اُسے بھی وہ ہی کچھ ملے گا جو نکمہ ہوگا اُسے بھی وہی کچھ ملے گا۔۔ تو پھر کام کرنے کا فائدہ کیا۔‘

ایک سیاہ فام ڈرائیور کارنیلیس نے کہا کہ ’میرا ووٹ تویقینی طور پر اوبامہ کو ہی جائے گا۔۔ کیونکہ امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار کوئی سیاہ فام صدر بنے گا۔‘

ایک میکسیکن نے کہا کہ وہ باراک اوبامہ کو ووٹ دیں گے کیونکہ ان کے پاس امیگرینٹس یا تارکین وطن کے لیے اچھا پروگرام ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ایریزونا میں ریپبلکن پارٹی کے دور میں کرپشن بڑھ گئی ہے اور معاشی حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ کئی میکسیکن کو واپس جانا پڑ رہا ہے۔

جان ایلن نامی ایک ڈرائیور جو اپنی گاڑی میں میکڈونلڈ کا برگر کھا رہے تھے، جب ان سے پوچھا کہ وہ کسے ووٹ دیں گے تو انہوں نے کہا کہ ’کسی کو بھی نہیں،۔ ان کے مطابق جان مکین آئے یا اوبامہ اس سے ان جیسے عام آدمی کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

امریکہ کے صدارتی انتخاب کے بارے میں دنیا کے بیشتر ممالک کی ترجیحات اور تشویش اپنی جگہ لیکن ان ٹیکسی ڈرائیورز جیسے کئی اور بھی امریکن ایسے ہوں گے جنہیں کوئی پرواہ نہیں کہ ان کے ملک کا صدر کون ہوگا۔

یہ باالکل ایسا ہے جیسے پاکستان کے کسی میخانے میں بیٹھے موالی کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ پاکستان کا صدر پرویز مشرف ہے یا آصف علی زرداری۔

اوبامایکساں مواقع
بلیک امریکہ اوباما سے کیا چاہتا ہے؟
کیسی راز داری؟
ریپبلیکن مہم کے بارے میں راز دارانہ رویہ
مرغیوں کی آزادی
صدارتی انتخاب، مرغیوں کی آزادی بھی ممکن
غلامی کا دور
ڈیڑھ صدی پہلے امریکہ میں غلامی عام تھی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد