BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 November, 2008, 16:20 GMT 21:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اب تک سے آگے: جائزے اور انتخاب

امیدواروں کی مقبولیت کے جائزے کئی بار اوپر نیچے ہوتے رہے لیکن اب معاملہ انتخابی برتری کا ہے جو چار سال پر محیط ہو گی

منگل کا امریکی انتخابی معرکہ امریکی تاریخ کی طویل اور مہنگی ترین انتخابی جنگ بتائی جا رہی ہے۔ اکیس ماہ پہلے شروع ہونے والے اس پیچیدہ انتخابی عمل میں گو پہلے دن سے ہی خاصی گرما گرمی اور مارا ماری رہی لیکن حقیقی مقابلہ اس سال اٹھائیس اگست کو شروع ہوا جب دونوں بڑی جماعتوں نے اپنے اپنے صدارتی امیدواروں کو نامزد کیا۔

اٹھائیس اگست کو امریکی شہر ڈینور میں ہونے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے قومی کنونشن میں سیاہ فام باراک اوباما نے لگ بھگ پچھتر ہزار لوگوں کی تالیوں کی گونج میں اپنی نامزدگی قبول کرتے ہوئے کہا، ’جو پچھلے آٹھ سال میں ہوا، ہم اس سے بہت بہتر ملک ہیں۔‘

دو ہی دن بعد ریپبلکن پارٹی کے جان میکین نے امریکی ریاست الاسکا کی گورنر سارا پیلن کو اپنا نائب صدارتی امیدوار چنا اور پھر چار ستمبر کو ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی قبول کرتے ہوئے انہوں نے سارا پیلن کی تعریف میں کہا کہ انہیں اس سے بہتر انتخابی ساتھی نہیں مل سکتا تھا۔ اس دوران باراک اوباما جو بائڈن کو اپنا انتخابی ساتھی یا نائب چن چکے تھے۔

اس وقت تک امریکہ میں کیے جانے والے زیادہ تر سروے دونوں امیدواروں کی مقبولیت کو تقریباً برابر بتا رہے تھے۔ گیلپ اور راسموسن کے مطابق اوباما کی مقبولیت جان میکین کے مقابلے میں تین سے چار فیصد زیادہ تھی جبکہ واشنگٹن پوسٹ اور اپسوس کے سروے کے مطابق ان کی مقبولیت اس وقت تقریباً برابر تھی۔

سارا پالن کے آنے کا فرق
 جونہی جان مکین اور سارا پیلن کی انتخابی جوڑی بنی، ریپبلکن پارٹی کی مقبولیت کا گراف تیزی سے چڑھنے لگا اور چند ہی روز میں اوباما اور جو بائڈن کی مقبولیت سے چار سے پانچ فیصد آگے نکل گیا

تاہم جونہی جان مکین اور سارا پیلن کی انتخابی جوڑی بنی، ریپبلکن پارٹی کی مقبولیت کا گراف تیزی سے چڑھنے لگا اور چند ہی روز میں اوباما اور جو بائڈن کی مقبولیت سے چار سے پانچ فیصد آگے نکل گیا۔

لیکن اس کے فوراً بعد رپبلکن امیدواروں کے ستارے گردش میں آئے۔ سارہ پالن پر الزام لگا کہ اس نے اپنی بہن کے سابقہ شوہر کو نوکری سے نکوالنے کے لیے ایک اعلٰی اہلکار پر دباؤ ڈالا اور پھر اس کے انکار کے بعد اس اہلکار کو ہی نوکری سے برطرف کر دیا۔

انیس ستمبر تک ڈیموکریٹک امیدوار ایک بار پھر انتخابی سروے میں واضح برتری حاصل کر چکے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب عالمی مالیاتی بحران مغربی معیشتوں پر اثرانداز ہونے لگے تھا۔

انیس ستمبر کو ہی صدر جارج بش نے قرقی کی طرف بڑھتے ہوئے امریکی بنکوں کی بحالی کے لیے سات سو ارب ڈالر کے امدادی پلان کا اعلان کیا۔ اس پلان پر دونوں جماعتوں کے امیدوار کوئی واضح رائے نہ دے سکے جس سے ان کی مقبولیت میں فرق بھی گھٹتا ہوا نہ ہونے کے برابر ہو گیا۔

لیکن جوں جوں عالمی مالیاتی بحران کے اثرات واضح ہونا شروع ہوئے، اس کے ساتھ ساتھ ڈیموکریٹک امیدواروں کی مقبولیت کے گراف چڑھنے لگے۔ چھبیس ستمبر سے پندرہ اکتوبر تک تین صدارتی مباحثے ہوئے اور ہر ایک کے بعد باراک اوباما کی مقبولیت بڑھتی گئی۔

انیس اکتوبر کو امریکہ کے سابق وزیر خارجہ کولن پاول نے بھی باراک اوباما کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ پاول دنیا بھر میں اپنی اعتدال پسند سوچ کے لیے جانے جاتے ہیں اور ان کی حمایت اوباما کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے لیے اور بھی ٹانک ثابت ہوئی۔

سارا پالن، ہار سنگھار، ویب سائٹ
 ایک امریکی ویب سائٹ نے انکشاف کیا کہ نامزدگی کے بعد رپبلکن پارٹی نے سارہ پالن کے ہار سنگھار پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر کا خرچہ کیا ہے جو ایک اوسط امریکی گھرانے کی سالانہ آمدنی سے بھی دوگنا ہے

اور رہی سہی کثر سارا پیلن کے ہار سنگھار سے متعلق ایک سکینڈل نے پوری کر دی۔ ایک امریکی ویب سائٹ نے انکشاف کیا کہ نامزدگی کے بعد رپبلکن پارٹی نے سارا پیلن کے ہار سنگھار پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر کا خرچہ کیا ہے جو ایک اوسط امریکی گھرانے کی سالانہ آمدنی سے بھی دوگنا ہے۔ معاشی مشکلات کا شکار ایک عام امریکی ووٹر کو یہ بات سخت ناگوار گزری۔ یہاں تک کہ بہت سی خواتین جو اس سے پہلے سارا پیلن کو رول ماڈل کہہ رہی تھیں ان سے متنفر نظر آئیں۔

یوں چار نومبر کا امریکی انتخابی معرکہ شروع ہونے سے قبل مختلف گروہوں کی جانب سے کیے گئے سروے باراک اوباما کو جان میکین کے مقابلے میں دس سے بارہ فیصد زیادہ مقبول بتانے لگے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ سروے میں دیکھی جانے والی واضح برتری انتخابی برتری میں بدلتی ہے یا نہیں۔

ووٹامریکی انتخابات
صدارتی انتخابی مہم ختم، پولنگ آج
اوباما اور مکینپیشن گوئیاں
تجزیہ کاروں کی اوباما کی فتح کی پیشن گوئی
غلامی کا دور
ڈیڑھ صدی پہلے امریکہ میں غلامی عام تھی
امریکی ڈرائیور
کیا کہتے ہیں امریکی ٹیکسی ڈرائیور
اوبامایکساں مواقع
بلیک امریکہ اوباما سے کیا چاہتا ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد