اوباما کیونکر جیت گیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو برس پہلے تک امریکہ کے سیاسی میدان میں اوباما دُھول کے ایک ذرّے کی طرح گمنام تھا لیکن اس نے اور اس کے ساتھیوں نے انتہائی مُنظم انتخابی مہم کے ذریعے دیکھتے ہی دیکھتے نا ممکن کو ممکن میں تبدیل کردیا۔ یقیناً ملکی اور عالمی صورتِ حال بھی اُن کی ممدومعاون ثابت ہوئی اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس انتخابی مہم کے دوران اخراجات میں کہیں بھی کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا لیکن یہ شاہ خرچی اس لیے ممکن ہوئی کہ اوباما نے اپنی مہم کیلئے وفاقی فنڈ سے مشروط مالی امداد نہیں لی تھی بلکہ چندے کے لیے پرائیویٹ عطیہ دینے والوں پر انحصار کیا تھا۔ اس زِیرک منصوبہ بندی اور محتاط اندازِ کار پر اوباما کو اُن کی مخالف ری پبلکن پارٹی نے بھی داد دی ہے۔ عطیات کی شکل میں اتنی بڑی رقم اکٹھی کرنے کے لیے اوباما کی ٹیم نے انٹرنیٹ پر چندہ وصولی کا ایک وسیع نظام متعارف کرایا جسکے ذریعے ساڑھے چھ سو ملین ڈالر کے عطیات جمع ہوگئے۔ چونکہ ٹیلی ویژن پر اپنی پارٹی اور اسکے منصوبوں کی تشہیر کے لیے بہت بڑی رقم درکار تھی اس لیے اوباما کے ساتھیوں نے شروع ہی سے رقم اکٹھی کرنے کے لیے نئے اور نرالے طریقے آزمائے۔ اس سلسلے میں جدید ٹیکنالوجی اور عوام کی نفسیات سے گہری واقفیت نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ جتنے چندے اوباما نے اس انتخابی مہم کے دوران اکٹھے کیے ہیں اتنی رقم تو 2004 میں دونوں صدارتی امیدوار مِل کر بھی جمع نہیں کر سکے تھے۔
پیسے کی اس ریل پیل نے اوباما کو اِس قابل بنایا کہ جن ریاستوں میں کانٹے کا مقابلہ چل رہا تھا وہاں وہ کھُلے بندوں اپنی تشہیر پر پیسہ خرچ کر سکیں، چنانچہ بعض ریاستوں میں اوباما کے تشہیری اخراجات مکین سے چار گنا زیادہ تھے۔ یہ اخراجات محض ٹیلی ویژن کی سکرین پر نمودار ہونے کے لیے نہیں تھے بلکہ اِن کے ذریعے آن لائن اشتہارات جاری کئے گئے حتیٰ کہ بچوں کی ویڈیوگیمز کے آگے پیچھے بھی پارٹی کا تشہیری مواد شامل کیا گیا۔ اوباما کی جیت میں ایک اہم عنصر عوام کو رائے دہی کے لئے گھروں سے باہر لانا بھی تھا۔ امریکہ میں غیر سفید باشندے عموماً ووٹنگ میں دلچسپی نہیں لیتے۔ بعض ریاستوں میں سیاہ فام ووٹروں کا تناسب محض بیس فی صد کے قریب ہوتا ہے۔ عدم دلچسپی کے شکار اِن افراد کو پولنگ بوتھ تک چلنے اور ووٹ ڈالنے کے لیے قائل کرنا ایک ایسا مِشن تھا جس میں اوباما کے ساتھی سرخ رُو ہوئے کیونکہ انہوں نے الیکشن کے عمل سے بیزار لوگوں کو رجسٹریشن پر مائل کرنے کے لیے کافی پہلے سے تحریک چلا رکھی تھی اور صرف ریاست فلوریڈا ہی میں اُن کی کوششوں سے تین لاکھ نئے ووٹروں کا اندراج ہوگیا۔ تاہم اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ اس جِیت میں سب سے اہم کردار خود باراک اوباما کی شخصیت کا تھا جو کہ محنت مشقت کر کے ترقی کرنے والے کروڑوں امریکیوں کا آئیڈیل بن گئے۔
ذاتی زندگی میں بھی وہ سیدھے سادے گھریلو انسان ہیں جن کے پاس صرف ایک مکان ہے جس میں وہ بیوی بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارتے ہیں جبکہ اُن کے مدِ مقابل جان مکین نے اپنی وفاشعار بیوی کو طلاق دے دی تھی جو جنگِ ویت نام کے کڑے ایّام میں شوہر کی واپسی کا انتظار کرتی رہی تھی۔ جان مکین نے اُسے چھوڑ کر ایک مال دار عورت سے شادی کر لی اور آج انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ اُن کی ملکیت میں کتنے مکانات ہیں اور کہاں کہاں واقع ہیں۔ باراک اوباما نے امریکی آبادی کے مختلف طبقات میں مقبولیت حاصل کی۔ سیاہ فاموں نے تو خیر انہیں ووٹ دیئے ہی، وہ نوجوان نسل میں بھی مقبول رہے اور ہسپانوی نژاد آبادی کے ساتھ ساتھ یہودی آبادی نے بھی اُن پر اعتماد کیا۔ اُن کےمدِ مقابل جان مکین محض یہی راگ الاپتے رہے کہ ٹیکسوں میں چھوٹ دُوں گا لیکن اوباما نے ملک کی مجموعی اقتصادی حالت کو بحث کا موضوع بنایا اور امریکی عوام جو آٹھ برس سے بُش کی اقتصادی اور معاشی پالیسیوں کی چکّی میں پِس رہے تھے فوراً اوباما کی طرف متوجہ ہوئے۔ آخر میں جان مکین کے پاس لے دے کر ایک ہی نکتہ رہ گیا تھا کہ انھیں جنگ کے میدانوں اور خارجہ پالیسی کے ایوانوں کا وسیع تجربہ ہے لیکن اسکا منہ توڑ جواب اوباما نے یہ دیا کہ محض تجربہ کافی نہیں ہوتا، اس تجربے سے کشید کی ہوئی بصیرت اصل چیز ہے کیونکہ یہی بصیرت آپکو کڑے لمحات میں صحیح فیصلوں کو قوت عطا کرتی ہے۔ باراک اوباما نے اپنی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ اُن امریکی صدور سے یقیناً مختلف نظر آتے ہیں جن کی تصویریں امریکی ڈالر کے کرنسی نوٹوں پر شائع ہوتی ہیں۔ ازراہِ تفنّن کی جانے والی یہ بات اب سنجیدگی کے پیرہن میں اُن کی انفرادیت بن کر منظرِ عام پر آنے والی ہے اور امریکی عوام کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں لوگ اس انفرادیت کا عملی اور افادی اطلاق دیکھنے کے منتظر معلوم ہوتے ہیں۔ |
اسی بارے میں تبدیلی آ گئی ہے: باراک اوباما05 November, 2008 | صفحۂ اول شکست تسلیم کرتا ہوں: مکین05 November, 2008 | آس پاس اوباما کی جیت، ایشیائی حصص میں اضافہ05 November, 2008 | صفحۂ اول امریکی ووٹروں نے تاریخ لکھ دی، باراک اوباما صدر، نئی صبح کا وعدہ05 November, 2008 | صفحۂ اول انتخابات، صدر بش اور ان کی وراثت04 November, 2008 | صفحۂ اول امریکی الیکشن اور غلاموں کی فروخت03 November, 2008 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||