امریکی ووٹروں نے تاریخ لکھ دی، باراک اوباما صدر، نئی صبح کا وعدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے تاریخ ساز صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق باراک اوباما کو جنہیں جیتنے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹ درکار تھے،ماہرین کے اندازوں کے مطابق انہیں 349 الیکٹورل ووٹ ملیں گے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان پر بھی اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ اوباما بیس جنوری کو عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ نصف شب کے قریب جب یہ واضح ہو گیا کہ امریکہ میں نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے تو سینتالیس سالہ باراک اوباما نے شکاگو میں ایک بہت بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’طویل عرصے بعد ہی سہی لیکن آج امریکہ میں تبدیلی آ گئی ہے۔‘ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے باراک اوباما کو ٹیلی فون پر مبارک باد دی اور انہیں ہر طرح کی حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے اپنے ووٹروں سے بھی کہا کہ وہ اختلافات بھلا دیں اور نئے صدر کی حمایت کریں۔ زیادہ تر ریاستوں میں ابھی ووٹوں کی گنتتی جاری ہے لیکن رجحانات کی بنیاد پر اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ جان مکین پر وہائٹ ہاؤس کے راستے بند ہوگئے ہیں۔ اوباما کی کامیابی کو امریکہ میں سیاہ اور سفید فاموں کے درمیان تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جارہا ہے۔ جان مکین کے لیے ضروری تھا کہ اپنے امکانات زندہ رکھنے کے لیے وہ پینسلوینیا اور اوہایو میں کامیابی حاصل کریں لیکن دونوں ریاستوں نے اپنا فیصلہ اوباما کے حق میں سنایا۔
ان خبروں کے بعد کہ اوباما فلوریڈا، ورجنیا اور کولوراڈومیں بھی جیت گئے ہیں، ڈیموکریٹ کیمپ میں زبردست ہلچل مچ گئی اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ تینوں ریاستیں دو ہزار چار کے انتخاب میں صدر بش نے جیتی تھیں۔ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح چھ بجے تک باراک اوباما نے 51 فیصد سے زیادہ جبکہ ان کے حریف جان مکین نے 47 فیصد پاپولر ووٹ حاصل کیے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ووٹروں کے لیے بہت بڑا مسئلہ معیشت تھا۔ کئی ریاستوں میں ٹرن آؤٹ بہت زیادہ رہا۔ مبصرین کے مطابق اس انتخاب میں ’بریڈلی افیکٹ‘ کا کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔ یعنی یہ خطرہ بے بنیاد ثابت ہوا کہ کچھ سفید فام ووٹر جو انتخابی جائزوں میں اوباما کی حمایت کی بات کر رہے تھے، وہ بالآخر سفیدفام امیدوار کو ووٹ دیں گے۔
ایوانِ نمائندگان میں 435 نشستوں اور سینٹ کی سو میں سے 35 نشستوں پر انتخاب ہوا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کو امید ہے کہ وہ سینٹ میں اپنی اکثریت کو 60 ووٹوں تک بڑھا لے گی۔ کچھ علاقوں سے ووٹنگ کے دوران معمولی دشواریوں اور تکنیکی خرابیوں کی بھی اطلاعات آئیں لیکن ان پر جلدی ہی قابو پا لیا گیا۔ پولنگ سے قبل انتخابی جائزوں کے مطابق باراک اوباما کو جان مکین پر تقریباً دس پوائنٹس کی سبقت حاصل تھی لیکن جان مکین کا اصرار تھا کہ وہ جیت سکتے ہیں۔ نامہ نگار جیمس کماراسوامی کے مطابق باراک اوباما کو سبقت ضرور حاصل تھی لیکن ان کی کامیابای کا دارومدار کافی حد تک اس بات پر تھا کہ سفید فام ووٹروں نے اپنا فیصلہ کرتے وقت کس حد تک ان کی جلد کے رنگ کو نظر انداز کیا۔
امریکی تاریخ کی اس طویل ترین اور سب سے مہنگی انتخابی مہم نے ووٹروں میں زبردست جوش و خروش پیدا کیا ہے اور ماہرین کے مطابق ساٹھ کی دہائی میں جان ایف کینیڈی کے انتخاب کے بعد سے ایسا انتخابی ماحول پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد باراک اوباما نے کہا کہ’ انتخابی سفر تو اب ختم ہو جائےگا، لیکن اپنی بیٹیوں کے ساتھ ووٹ ڈالنا، یہ میرے لیے ایک اہم بات تھی۔‘ | اسی بارے میں باراک اوبامہ کی نانی انتقال کر گئیں03 November, 2008 | آس پاس مکین کی حمایت میں ڈک چینی02 November, 2008 | آس پاس ’صدر کوئی بھی، بڑا چیلنج پاکستان‘01 November, 2008 | آس پاس پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس امریکی انتخاب محض کاسمیٹک تبدیلی؟22 October, 2008 | آس پاس پیٹریئس، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ31 October, 2008 | آس پاس امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت28 October, 2008 | آس پاس مکین کےحملوں سے ناراض25 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||