| | ہمارے سامنے آنے والے چیلنجز ہمارے دور کے سب سے بڑے چیلنجز ہیں |
امریکہ کے نومنتخب صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ ان کی انتخابی جیت تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنے خاندان اور نو منتخب نائب صدر جو بائڈن کے ہمراہ شکاگو کے گرینڈ پارک میں ہزاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا یہ سفر بڑے عرصے سے جاری تھا اور آج رات امریکہ میں تبدیلی کی وہ گھڑی آ پہنچی ہے۔ اپنے خطاب میں سینیٹر اوباما نے کہا: ’اگر کسی کو ذرا بھی شبہ ہے کہ امریکہ میں ہر چیز ممکن نہیں ہے، جس کو یہ حیرانی ہے کہ آج کل کے دور میں بھی ہمارے آباؤ اجداد کا خواب زندہ ہے، جس کو ہماری جمہوریت کی طاقت پر شک ہے، آج کی رات اس کے لیے جواب ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ جان مکین نے انہیں ’انتہائی فراخدلانہ‘ انداز میں کال کیا ہے۔ انہوں نے جان مکین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایک بہادر اور مخلص رہنما ہیں۔‘ ’انہوں نے امریکہ کے لیے ایسی قربانیاں دی ہیں جن کے متعلق ہم میں سے اکثر سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔‘ انہوں نے اپنے خاندان کے لیے محبت بھرے الفاظ ادا کیے اور اپنی بیٹیوں سے کہا: ’ساشا اور ملیا، میں تم سے اتنا پیار کرتا ہوں کہ تم سوچ بھی نہیں سکتیں۔ اور اب تمہیں نیا پپی (کتے کا بچہ) ملے گا جو ہمارے ساتھ وائٹ ہاؤس جائے گا۔‘ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ ’آج کی رات جب ہم جشن منا رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ کل ہمارے سامنے آنے والے چیلنجز ہمارے دور کے سب سے بڑے چیلنجز ہیں ۔ دو جنگیں، سخت خطرے میں دنیا، اور صدی کا سب سے بڑا اقتصادی بحران۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے سامنے لمبی سڑک ہو گی۔ ہماری چڑھائی عمودی ہو گی۔ لیکن امریکہ ۔ میں کبھی بھی اس سے زیادہ پر امید نہیں تھا جتنا آج کی رات ہوں کہ ہم وہاں (منزل پر) پہنچیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ بحثیت صدر ان کا انتخاب وہ تبدیلی نہیں جس کا انتخابی مہم میں ذکر کیا جاتا رہا ہے، بلکہ اس تبدیلی کا آغاز ہے۔ انہوں نے ہر رنگ و نسل کے امریکیوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ملک کو موجودہ سنگین مسائل سے نکالنے میں ان کا ساتھ دیں۔ |