اوباما کس قسم کے صدر ہونگے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تاریخ میں باراک اوباما کا نام امریکہ میں تبدیلی کی علامت ہونے کی وجہ سے روشن رہے گا۔ وہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر ہیں اور یوں وہ امریکہ میں غلامی، نسل پرستی اور زیادتی کی طویل کہانی کا ایک نیا باب لکھیں گے۔ لیکن باراک اوباما کے سامنے اب یہ چیلنج ہے کہ تاریخ ان کو تبدیلی کی صرف علامت کے طور پر ہی نہیں بلکہ اس تبدیلی کو عمل میں لانے کے ذمہ دار شخض کے طور پر یاد رکھے۔ باراک اوباما ایک انتہائی کامیاب صدارتی امیدوار رہے۔ نہ صرف وہ ایک بہترین مقرر ہیں بلکہ انتخابی مہم کے حوالے سے ایک بہترین منتظم بھی۔ عالمی سطح پر باراک اوباما کے لیے نیک خواہشات پائی جاتی ہیں جس کی شائد اہم وجہ یہ ہے کہ وہ جارج ڈبل یو بش نہیں ہیں۔ یہ خواہشات اپنی جگہ لیکن اوباما کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ امریکی معیشت کو کس انہوں نے پچانوے فیصد امریکیوں کے لیے ٹیکس میں رعایت کرنے کا وعدہ کیا ہے اور صحت اور تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کا بھی۔ اس کے لیے کافی بڑی رقم درکار ہے لیکن باراک اوباما کو ایسی معیشت مل رہی ہے جس میں سالانہ خصارہ ہی اربوں ڈالر کا ہے اور جس میں قومی قرض ہی گیارہ کھرب ڈالر کے قریب ہے۔ بطور ایک بہترین سپیکر باراک اوباما اپنی صدارت کے دوران امریکی قوم سے موثر طریقے سے رابطہ کر سکیں گے۔امریکیوں کے لیے یہ اہم ہے کہ مشکل وقتوں میں ان کا صدر ان کو حوصلہ اور ہمت دلا سکے۔ اور اگر معیشت کے حوالے سے اوباما اپنے انتخابی مہم کے وعدوں پر پورا نہ اتر سکے تو بھی ان کی رابطے کی صلاحیت اہم ہوگی تاکہ وہ قوم کو صورتحال اور اپنی مجبوریوں سے آگاہ کر سکیں۔ اوباما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران قوم کو متحد کرنے کی بات کی۔ اب بطور صدر ان کو امریکی معاشرے کے تمام طبقوں میں ساتھ مل کر کام کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ انتخابی مہم کے دوران باراک اوباما نے رابطوں کے جدید طریقوں کو موثر طرح سے استعمال کیا اور توقع ہے کے ان کی صدارت میں انٹرنیٹ کا اہم کردار رہے گا۔ جہاں تک خارجہ پالسی کا تعلق ہے اس کا بھی اوباما کی صدارت میں مرکزی کردار رہے گا۔عراق سے فوج نکالنے کا کوئی ایسا منصوبہ بنانا ہوگا جس میں ایران صورتحال کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے سوال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا، اور دیکھنا یہ ہے کہ باراک اوباما اسرائیل اور اپنے ہی فوجی کمانڈروں کے اس دباؤ پر کیا فیصلہ کریں گے کہ ایران کے جوہری ری ایکٹر پر حملہ کرنا مناسب حکمتِ عملی ہے۔ افغانستان کے حوالے سے باراک اوباما یہ کہتے رہے ہیں کہ وہاں امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھا کر القاعدہ کو حتمی طور پر شکست دینا چاہیے۔ یہ بھی آسان عمل نہیں ہے اور اگر اس میں کامیاب نہ رہے تو ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی۔ اس معاملے میں پاکستان سے تعلقات بھی اہم ہیں۔ افغانستان میں جنگی کارروائی میں پاکستانی سرحدوں کی پامالی کا خیال رکھنا ہوگا اور دیکھنا ہے کہ اوباما یہ کس طرح کر سکیں گے۔ باراک اوباما کا انتخاب تاریخی ہے لیکن اب اپنے دورِ صدارت کو بھی تاریخی بنانے کے لیے ان کو بہت کچھ کرنا ہوگا کیونکہ ان سے توقعات بہت ہیں۔ |
اسی بارے میں ڈیموکریٹ: دونوں ایوانوں میں برتری05 November, 2008 | صفحۂ اول تاریخی صدارتی انتخاب میں باراک اوباما کو سبقت 05 November, 2008 | صفحۂ اول تبدیلی آ گئی ہے: باراک اوباما05 November, 2008 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||