BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 November, 2008, 00:20 GMT 05:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تاریخی صدارتی انتخاب میں باراک اوباما کو سبقت
پینسلوینیا میں اوباما کی کامیابی بہت اہم ہے

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما کو اب امریکہ کا پہلا سیاہ فام صدر بننے کے لیے سو سے کم ووٹ درکار ہیں۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ابتدائی نتائج تیزی سے آنا شروع ہوگئے ہیں اور باراک اوباما نے جان مکین کے ایک سو پینتیس الیکٹورل ووٹوں کے مقابلے میں دو سو سات ووٹ حاصل کر لیے ہیں جو ماہرین کے مطابق ناقابل تسخیر سبقت ہے۔

صدر منتخب ہونے کے لیے انہیں دو سو ستر ووٹ درکار ہیں۔

زیادہ تر ریاستوں میں پولنگ اب مکمل ہوگئی ہے۔ یہ نتائج ایگزٹ جائزوں اور ووٹوں کی گنتی کے رجحانات کی بنیاد پر جاری کئے گئے ہیں۔ اصل ووٹوں کی گنتی ابھی بھی جاری ہے۔

جشن شروع ہوگیا ہے

اندازوں کے مطابق باراک اوباما نے پینسلوینیا ریاست جیت لی ہے جو مکین کی کامیابی کے لیے بہت اہم مانی جارہی تھی۔

اب ماہرین کی نگاہیں ورجینیا اور انڈیانا پر ہیں۔ اگر ان ریاستوں میں اوباما جیت جاتے ہیں تو یہ اس بات کا واضح اشارہ ہوگا کہ وہ صدر منتخب ہو جائیں گے۔

چوالیسویں صدر کے تاریخ ساز انتخاب کے لیے آج ملک بھر میں بھاری پولنگ ہوئی۔

رائے دہندگان کے جائزوں کے مطابق دس میں سے چھ ووٹروں کے لیے معاشی بحران اہم ترین انتخابی موضوع تھا۔

کچھ علاقوں سے ووٹنگ کے دوران معمولی دشواریوں اور تکنیکی خرابیوں کی بھی اطلاعات ہیں لیکن ان پر جلدی ہی قابو پالیا گیا۔

پولنگ سے قبل انتخابی جائزوں کے مطابق باراک اوباما کو جان مکین پر تقریباً دس پوائنٹس کی سبقت حاصل تھی لیکن جان مکین کا اصرار رہا ہے کہ وہ جیت سکتے ہیں۔

نامہ نگار جیمس کماراسوامی کے مطابق باراک اوباما کو سبقت ضرور حاصل ہے لیکن ان کی کامیابای کا دارومدار کافی حد تک اس بات پر ہوگا کہ سفید فام ووٹروں نے اپنا فیصلہ کرتے وقت کس حد تک ان کی جلد کے رنگ کو نظر انداز کیا۔

منتخب ہونے کی صورت میں اوباما امریکہ کے پہلے سیاف فام صدر ہوں گے

امریکی تاریخ کی اس طویل ترین اور سب سے مہنگی انتخابی مہم نے ووٹروں میں زبردست جوش و خروش پیدا کیا ہے اور ماہرین کے مطابق ساٹھ کی دہائی میں جان ایف کینیڈی کے انتخاب کے بعد سے ایسا انتخابی ماحول پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے۔

باراک اوباما نے شکاگو میں اپنی اہلیہ اور دونوں بیٹیوں کے ساتھ ووٹ ڈالا جبکہ جان مکین فینکس میں ووٹ ڈالنے کے بعد پھر انتخابی مہم پر نکل پڑے۔

توقع ہے کہ آج تقریباً تیرہ کروڑ لوگ حق رائے دہی کا استعمال کریں گے جبکہ تقریباً تین کروڑ لوگ پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔

ریپبلکن پارٹی کا گڑھ تصور کی جانے والی ریاست ورجینیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے باراک اوباما نے زبردست کوششیں کی ہیں اور آخری لمحات میں بھی انہوں نے وہاں ایک ریلی سے خطاب کیا۔ آخری اطلاعات آنے تک ریاست میں بھاری ووٹنگ ہو رہی تھی۔

ملک بھر میں بھاری تعداد میں ووٹ ڈالے گئے

اوہایو اور مسوری میں، جہاں ووٹروں کی وفاداریاں دونوں جماعتوں کے درمیان تقریباً برابر تقسیم رہتی ہیں، ’عدیم المثال پولنگ‘ ہو رہی ہے۔ نارتھ کیرولائنا کے دو علاقوں میں ووٹنگ کے اوقات بڑھا دئے گئے ہیں۔

اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد باراک اوباما نے کہا کہ’ انتخابی سفر تو اب ختم ہو جائےگا، لیکن اپنی بیٹیوں کے ساتھ ووٹ ڈالنا، یہ میرے لیے ایک اہم بات تھی۔‘

کولوراڈو میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جان مکین نے کہا کہ ’ ہوا کا رخ ہمارے ساتھ ہے۔۔۔ ہم یہ انتخاب جیت رہے ہیں۔‘

’باہر نکلیں اور ووٹ دیں۔ مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے اپنے حامیوں سے یہاں تک کہا کہ ضرورت پڑے تو اپنے پڑوسیوں کو گھسیٹ کر پولنگ سٹیشنوں تک لیجائیں۔

ادھر پرائمری انتخابات میں باراک اوباما کی حریف سینیٹر ہلری کلنٹن نے کہا کہ اوباما بھاری اکثریت سے جیتیں گے۔

فاتح امیدوار کو پچاس ریاستوں کے کل 538 الیکٹورل ووٹوں میں سے 270 ووٹ حاصل کرنے ہیں۔ صدارتی انتخاب کے ساتھ ساتھ کانگریس کے بھی انتخاب ہو رہے ہیں۔

اوباما کے ووٹر ان کے تبدیلی کے نعرے سے متاثر ہوئے

ایوانِ نمائندگان میں 435 نشستوں اور سینٹ کی سو میں سے 35 نشستوں پر بھی انتخاب ہو رہا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کو امید ہے کہ وہ سینٹ میں اپنی اکثریت کو 60 ووٹوں تک بڑھا لے گی۔

منگل کو امریکہ میں سب سے پہلے نیو ہیمشائر کے علاقے ڈکسوائل نؤچ میں ووٹ ڈالے گئے جہاں باراک اوباما نے پندرہ جبکہ ان کے حریف جان مکین نے چھ ووٹ حاصل کیے۔ اس چھوٹے سے مقام پر کل ووٹ اکیس ہیں۔

یہ علاقہ گزشتہ ساٹھ برس سے امریکہ میں سب سے پہلے ووٹ ڈالنے کی روایت کا حامل ہے۔ سنہ انیس سو اڑسٹھ کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اس قصبے کے لوگوں نے ڈیموکریٹ کو اکثریت سے ووٹ دیا ہو۔

امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں میں پولنگ کا آغاز صبح چھ بجے یاگرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے ہوا۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکی عوام، حالیہ اقتصادی بحران کی وجہ سے تنزلی کی کیفیت میں انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے قبل امریکی تاریخ میں کبھی بھی انتخابات کے موقع پر حکمران پارٹی اور اس کا صدر اس قدر غیر مقبول نہیں رہے جیسے آج کے صدر جارج ڈبلیو بش ہیں۔

اسی بارے میں
مکین کی حمایت میں ڈک چینی
02 November, 2008 | آس پاس
مکین کےحملوں سے ناراض
25 October, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد