کیاایران کی امیدوں پر پانی پھرگیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر کسی کو یہ خوش فہمی تھی کہ اوباما کی کامیابی واشنگٹن کے سخت ترین مخالف ایران کے ساتھ تعلقات کو تبدیل کر دے گی تو لگتا یہ ہے کہ یہ شادی ہونے پہلے ہی ٹوٹ گئی ہے۔ کچھ حکام سمیت بہت سے ایرانی اوبامہ کی انتخابی کامیابی سے یہ توقع کرنے لگے تھے کہ امریکی خارجہ پالیسی اور تعلقات میں انقلابی تبدیلی آ سکتی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور اس کے بعد ایران کے نیوکلیئر پروگرام نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ماضی میں اوباما اور ان کے نومنتخب نائب صدر جوزف بائڈن ایران سے غیر مشروط مذاکرات کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی انتخابات کو ایران میں گہری دلچسپی سے دیکھا جا رہا تھا اور نتائج پر خوشی محسوس کی گئی تھی۔ اس کا اظہار ایرانی صدر محمد احمدی نژاد نے اس طرح کیا کہ روایت کے برخلاف امریکہ کے نو منتخب صدر کو مبارکباد کا پیغام بھیجا لیکن جلد ہی ظاہر ہو گیا کہ دونوں کے سیاسی مسائل کے باعث محبت کی اس بیل کا منڈھے چڑھنا بعید از قیاس ہے۔ ایران اور امریکہ دونوں میں مبارکباد کے پیغام نے سخت گیر حلقوں کو جیسے بھڑاس نکالنے کا موقع فراہم کر دیا اور انہوں نے سخت حملے شروع کر دیے۔ سیاسی ماحول تو گرم ہے ہی پھر آئندہ جون میں ایران کا صدارتی انتخاب بھی ہونے والا ہے۔ امریکہ میں باراک اوباما نے اگرچہ اپنی کامیابی پر آنے والے مبارکباد کے پیغامات کا جواب ذاتی حیثیت میں انتہائی بردباری سے دیا تھا لیکن احمدی نژاد کے معاملے میں انہوں نے خود کو ذرا پیچھے کر لیا شاید انہیں احساس تھا کہ اگر انہوں نے ایران کے ساتھ بھی وہی انداز اختیار کیا جو دوسروں کے ساتھ کیا ہے تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایرانی صدر کے خط کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس پر رسمی ردِ عمل ظاہر کرنے کی بجائے مناسب جواب دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ جب تہران کا معاملہ آئے گا تو وہ کسی رو رعایت سے کام نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا ’جہاں تک ایران کے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا مسئلہ ہے میں اسے ناقابلِ قبول سمجھتا ہوں اور ہمیں عالمی طور پر مل کر کوششں کرنی چاہیے کہ ایسا نہ ہو‘۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ’دہشت گرد تنظیموں کو ایران کی امداد کے بارے میں میری رائے ہے کہ اسے بند ہونا چاہیے‘۔ ایرانی سپیکر علی لارا جانی نے بھی مسٹر اوباما کے تبصرے کو غلط سمت میں اٹھایا جانے والا قدم قرار دیا۔ اگرچہ صدر احمدی نژاد سے ان کے تعلقات اسمبلی میں وزیر داخلہ کے مواخذے کی وجہ سے ناخوشگوار ہیں۔ لارا جانی کا کہنا تھا کہ ’اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ماضی کی پالیسیوں کو بڑے پیمانے پر جاری رکھا جائے گا۔ جب کہ تبدلی حکمتِ عملی کی سطح ہر ہونی چاہیے نہ کہ آرائش کی سطح پر‘۔ ایران کے ایک سخت گیر اخبار نے بھی اتوار کو امریکی ’جارحیت کے تسلسل‘ کو موضوع بنایا اور ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کی پالیسیوں میں مماثلتوں کی نشاندہی کی۔ کچھ لوگوں نے چیف آف سٹاف کے لیے اوباما کے انتخاب پر بات کی۔ منتخب ہونے کے بعد اوباما نے سب سے پہلا تقرر راحم ایمانول کیا ہے۔ اوباما کے چیف آف سٹاف بنائے جانے والے راحم ایمانول اسرائیلی فوج میں رضاکارانہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ایران میں ہی کچھ لوگوں نے ایرانی صدر کے اقدام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ روزنامہ جمہوریہ اسلامی کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر کی جانب سے نو منتخب صدر کی طرف ہاتھ بڑھانا ہی کئی اعتبار سے غلط تھا۔ اس اخبار کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن سے بات چیت کے دروازے کھولنے ہی تھے تو اس کام کے لیے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنئی ہی مناسب تھے۔ طُرفہ تماشا یہ ہے کہ ایرانی صدر اور واشنگٹن سے مذاکرات کے حق میں اگر کوئی آواز اٹھی بھی تو وہ اصلاح پسندوں کی جانب سے جو صدر کے مخالف تصور کیے جاتے ہیں۔
تہران اور واشنگٹن میں براہ راست بات چیت کے بہت سے سیاسی پہلو ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسا ہونا ہی نہیں چاہیے۔ جنوری میں عہدہ سنبھالنے تک باراک اوباما کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور اس کے بعد بھی ان کی اولین ترجیحات میں معاشی اور مالیاتی بحران ہو گا۔ اوباما نے اگرچہ ایٹمی ہتھیاروں اور دہشت گردی سے ایران کے تعلق کی بات بھی کی ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ براہ راست بات چیت کے اس موقف کے حق میں نہیں ہیں جس کے ان کے نائب سینیٹر بائڈن ایک عرصے سے چیمپئن رہے ہیں۔ تہران میں بھی اس معاملے کے آگے بڑھنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیت اللہ خامنئی اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔ وہ اپنے خطبات میں امریکہ پر اکثر سخت موقف اختیار کرتے ہیں لیکن کچھ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران میں براہِ راست بات چیت کے خلاف نہیں بشرطیکہ بات چیت غیر مشروط ہو اور اس میں ایران کی عزت و احترام کو ملحوظ رکھا جائے۔ ابھی یہ بھی طے نہیں ہے کہ اگر براہِ راست بات چیت ہوتی بھی ہے کہ تو ایران کی طرف سے کون اس کا مجاز ہو گا۔ ضروری ہے کہ وہ ایسا ہو کہ اسے بات چیت پر تنقید کو نشانہ نہ بنایا جا سکے یا اسے ایسی شخصیت کی حمایت حاصل ہونی چاہیے جس پر تنقید نہ کی جا سکتی ہو ورنہ تو مختلف گروہوں پر مشتمل ایرانی سیاست میں جو بھی یہ کام کرے گا اس کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے جائیں گے۔ یوں بھی مذاکرات کوئی سیدھا معاملہ نہیں ہیں۔ ایران اس موقف پر قائم ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس مقصد توانائی کا حصول ہے۔ امریکی بظاہر بشمول اوباما یہ سمجھتے ہیں کہ ایران دراصل ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے اس لیے وہ یورینیم کی افزودگی بند کر کے توانائی کے حصول کے لیے
کچھ اصلاح پسند رہنما یہ کہتے ہیں کہ کٹر خیال دراصل امریکہ سے تعلقات کو معمول پر لانے کے حق میں نہیں کیونکہ اس طرح انہیں توجہ بیرونی امور کی طرف موڑنے اور اپنے اندرونی ناقدوں کا منہ بند کرنے کا جواز مل جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||