 | | | باراک اوبامہ اور جارج بش کی ملاقات پیر کو ہو رہی ہے |
امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما کے اہم ساتھی کا کہنا ہے کہ وہ بیس جنوری کو عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد بش انتظامیہ کی کئی پالیسیاں تبدیل کر دیں گے۔ امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز پر ایک بات چیت کے دوران صدرارت کی منتقلی کے عمل کے لیے باراک اوباما کے مشیر جان پوڈیسٹا نے کہا ہے کہ باراک اوباما سٹم سیل ریسرچ اور تیل کی تلاش جیسے کئی معاملات پر صدر بش کی جانب سے جاری کردہ احکامات(ایگزیکٹو آرڈرز) سے اتفاق نہیں کرتے اور چونکہ ان اقدامات کے خاتمے کے لیے کانگریس کا عمل دخل ضروری نہیں اس لیے انہیں باآسانی ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی احکامات آسانی سے تبدیل یا ختم کیے جا سکتے ہیں اور میرے خیال میں ہم صدر کو ایسا کرتے ہوئے دیکھیں گے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ آپ آج بھی بش انتظامیہ کو جارحانہ انداز میں وہ کام کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں جو میری نظر میں ملکی مفاد میں نہیں ہیں‘۔ یاد رہے کہ صدر بش اور باراک اوباما پیر کو امریکی صدارتی انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ ملاقات کر رہے ہیں اور نو منتخب ڈیوکریٹ صدر نے اس ملاقات کو’موجودہ حالات پر ہونے والی بات چیت‘ قرار دیا ہے۔ باراک اوباما پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کرسی صدارت سنبھالنے کے بعد معاشی بحران سے نمٹنا ان کی پہلی ترجیح ہوگی اور وہ اپنی کابینہ کی تشکیل میں دانستہ طور پر جلدبازی سے کام لیں گے اور جان پوڈیسٹا کے مطابق باراک اوباما کی ٹیم ایک ’مضبوط معاشی ٹیم‘ کی تیاری میں جٹی ہوئی ہے۔ امریکہ کے موجودہ اور نومنتخب صدور کے ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہو گی اور باراک اوباما کے دورۂ وائٹ ہاؤس کے دوران ان کے اہلِ خانہ بھی ان کے ہمراہ ہوں گے جنہیں امریکی صدر کی رہائش گاہ کا دورہ کروایا جائے گا۔ |