BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 November, 2008, 14:41 GMT 19:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوباما: پچیس لاکھ نئی نوکریاں
امریکہ میں بے روزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے
امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اپنے دور اقتدار کے پہلے دو برسوں میں پچیس لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

انٹرنیٹ پر اپنے ہفتہ وار خطاب میں مسٹر اوباما نے کہا کہ ان کے اقتصادی ماہرین اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں اور وہ بیس جنوری کو حلف اٹھانے کے بعد جلدی سے جلدی اس منصوبے کی منظوری دیدیں گے۔

مسٹر اوباما نے یہ اعلان ایسے وقت کیا ہے جب امریکہ میں بے روزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے اور صرف اسی سال بارہ لاکھ لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ مسٹر اوباما نے نیو یارک کے فیڈرل ریزرو بینک کے موجودہ چئر مین ٹیموتھی گائٹنر کو اپنا وزیر خزانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ پیر کو اپنی پوری اقتصادی ٹیم کا اعلان کریں گے۔

مسٹر گائٹنر کے انتخاب کی خبر پھیلتے ہی امریکی حصص بازار میں تیزی آنا شروع ہوگئی۔

ٹیموتھی گائٹنر کے انتخاب پر شئر مارکیٹ میں تیزی آئی۔

اسی دوران دنیا کے ایک بڑے بینک سٹی گروپ کے حصص کا بھاؤ بری طرح گر گیا ہے اور اس کے منتظمین بینک کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ ایک ہفتے کے اندر اس کے حصص کا بھاؤ آدھے سے کم رہ گیا ہے۔

دن کے آغاز پر بینک کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا لیکن بعد میں دن کے اختتام پر ان کی قیمت بیس فیصد گر چکی تھی۔ بینک کا کہنا ہے کہ اس کے حصص کی قیمت اور اس کی عمومی حالت کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک کے حصص کی قیمت میں کمی شارٹ سیلنگ کی وجہ سے ہوئی جس میں لوگ بینک کے حصص کی قیمت کے بارے میں شرط لگاتے ہیں اور قیمت اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق سٹی گروپ اپنے کچھ اثاثے فروخت کرنے کا سوچ رہا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ یہ کسی اور فرم میں ضم ہوجائے گا۔

سٹی بینک دو ہزار آٹھ میں
 سٹی گروپ کے حصص کی قیمت اس سال کے آغاز سے ہی تیزی سے گری ہے اور جنوری کے مقابلے میں اب وہ اسی فیصد کم قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔ سٹی گروپ نے گزشتہ ایک سال میں عالمی اقتصادی بحران میں بیس ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ بینک سن دو ہزار دس سے پہلے منافع نہیں کما سکے گا
اس ہفتے کے دوران سٹی گروپ نے پوری دنیا میں اپنے باون ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ برطرفیاں ان تئیس ہزار کے علاوہ ہیں جن کا بینک پہلے اعلان کر چکا تھا۔

اس طرح پچھتر ہزار برطرفیوں کا مطلب ہے کہ فرم نے اپنا بیس فیصد عملہ کم کر دے گا اور مستقبل قریب میں اس کے دنیا بھرمیں تین لاکھ ملازمین ہوں گے۔

سٹی گروپ کے حصص کی قیمت اس سال کے آغاز سے ہی تیزی سے گری ہے اور جنوری کے مقابلے میں اب وہ اسی فیصد کم قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔ سٹی گروپ نے گزشتہ ایک سال میں عالمی اقتصادی بحران میں بیس ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ بینک سن دو ہزار دس سے پہلے منافع نہیں کما سکے گا۔

’سرمایہ کاروں کو فکر ہے کہ مزید نقصان بینک کا مستقبل خطرے میں ڈال سکتا ہے‘

جمعرات کو سعودی شہزادے الولید بن تلال نے سٹی گروپ کے تین سو پچاس ملین ڈالر کے حصص خریدے تھے لیکن اس سے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہوا۔ سرمایہ کاروں کو فکر ہے کہ مزید نقصان بینک کا مستقبل خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

سٹی بینک کے دنیا کے ایک سو سات ممالک میں بارہ ہزار دفاتر ہیں اور اس بینک کے نقصان کا اثر ہر جگہ محسوس کیا جائے گا۔ سٹی گروپ اگر نہ سنبھل سکا تو لوگوں کا دوسرے بڑے بینکوں سے بھی اعتبار اٹھ سکتا ہے۔ اس لیے امریکی حکومت کی اس بینک کو بچانے میں دلچسپی ہو گی اور اس مد میں پچیس ارب ڈالر لگائے جا چکے ہیں۔ بینک نے کھلی منڈی سے بھی پچاس ارب ڈالر حاصل کیے ہیں اور اس کے گرنے سے بہت سے اداروں کا سنبھلنا مشکل ہو جائے گا۔

اسی بارے میں
مزید باون ہزار کی چھانٹی
17 November, 2008 | آس پاس
پیکج منظور ہو جائے گا: بش
27 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد