BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 November, 2008, 16:51 GMT 21:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزید باون ہزار کی چھانٹی
سٹی گروپ نے گزشتہ سال اربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا تھا
امریکہ کے ایک بڑے بینکار گروپ سٹی گروپ نے عالمی مالیاتی بحران کے پیش نظر باون ہزار ملازمین کی چھانٹی کرنے کا اعلان کیا ہے جو ان تیئس ہزار ملازمین کے علاوہ ہیں جن کی نوکریاں اس سال کے شروع میں ختم کی گئی تھیں۔

سٹی گروپ کی انتظامیہ نے اپنے عملے کی تعداد میں وسیع پیمانے پر کمی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر عملے کی تعداد میں بیس فیصد کمی کی جا رہی ہے۔

ان چھانٹیوں کے بعد عالمی سطح پر بینک کے عملے کی کل تعداد تین لاکھ کے قریب رہ جائے گی۔بینک نے مسلسل چوتھی سہ ماہی میں نقصان کا اعلان کیا ہے جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ بینک دو ہزار دس تک کوئی منافع نہیں کما سکے گا۔

سٹی گروپ کا کہنا ہے کہ اس کی مالی حالت بہت بہتر ہے اور بینک کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس کا بنیادی کاروبار اور اس کے مالی ذخائر مستحکم ہیں۔

بینک کو توقع ہے کہ اس کٹوتیوں کے بعد اس کے اخراجات میں بیس فیصد کمی آئے گی اور یہ کم ہو کر سن دو ہزار نو میں پچاس ارب ڈالر تک آ جائیں گے۔بینک کے چیئرمین نے دبئی میں ایک تقریب میں کہا کہ لندن اور نیویارک میں اس کی شاخوں میں سب سے زیادہ نوکریاں ختم کی جا رہی ہیں۔

سٹی گروپ کے چیف ایگزیکیٹو وکرم پنڈت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور ناقدین کا خیال ہے کہ وہ بینک کو دوبارہ منافع بخش بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔بینک نے گزشتہ سال امریکہ کی ہاؤسنگ مارکیٹ میں آنے والے بحران میں کئی ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا تھا۔

گزشتہ دہائی کے دوران سٹی بینک نے زبردست بزنس کیا تھا اور دنیا بھر میں سو سے زیادہ ملکوں میں اس کی نئی شاخیں کھولی گئی تھیں تاہم اس سال بینک کے حصص کی قیمتوں میں ستر فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

سٹی گروپ ان مالیاتی اداروں اور بینکوں کی فہرست میں شامل ہے جن کو امریکی حکومت کی طرف سے مالی امداد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔امریکی وزارتِ خزانہ نے گزشتہ مہینے اعلان کیا تھا کہ وہ مالیاتی اداروں اور بینکوں کو ایک سو پچیس ارب ڈالر کی امداد مہیا کرے گا جو سٹی گروپ، جے پی مورگن چیز، بینک آف امریکا، گولڈ مین سیکس، مارگن سٹینلے، ویلز فارگو، بینک آف نیویارک میلن، سٹیٹ سٹریٹ اور میرل لنچ کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد