عالمی ترقی کی بحالی پر اہم معاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کی بیس بڑی معاشی طاقتوں کے سربراہ اجلاس میں، جو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہوا، عالمی رہنماؤں نے اقتصادی ترقی کے عمل کو بحال کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ وہ عالمی اقتصادی نظام میں ’ضروری اصلاحات‘ لانے کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔ برطانیہ کے وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ عالمی رہنماؤں نے ’تاریخی‘ معاہدے کیے ہیں۔
امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ وزرائے خزانہ اصلاحات کی تفصیلی تجاویز پر کام کرنے کے بعد اب پھر رپورٹ کریں گے۔ امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوری میں صدارت کا حلفِ اٹھانے کے بعد وہ اقتصادی چیلنجز پر جی 20 کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس اجلاس میں سرکردہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک جیسا کہ جرمنی، جاپان، امریکہ اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ معاشی عمل تیز کرنے کے لیے شرح سود کو گھٹایا جائے گا اور حکومتیں زیادہ رقوم خرچ کریں گی تاہم ہر ملک اس کی تفصیل اپنے طور پر طے کرے گا۔
کانفرنس سے خطاب میں امریکی صدر بش نے کہا: ’ساری دنیا کے لوگ یہ بات سمجھتے ہیں کہ ان کی روزی روٹی ایک صحت مند اور پھلتی پھولتی عالمی معیشت سے وابستہ ہے۔ اس کا سب سے یقینی راستہ یہ ہے کہ آزاد اور کھلی منڈیوں کی پالیسیوں کو جاری رکھا جائے۔ کھلی منڈی کی سرمایہ داری ساری دنیا میں خوشحالی، ترقی اور سماجی نقل و حرکت کا محرک رہی ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری سے ہماری معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہیں جس سے کاروبار کے لیے نئے گاہک بنے ہیں اور گاہکوں کے لیے کم قیمتوں کے ساتھ زیادہ انتخاب انہیں حاصل ہوا ہے۔ تمام ہی ملکوں کو اب موجودہ چیلنج کے مقابلے میں معاشی فصیل بندی اور اشتراکیت کے مطالبات کو رد کرنا ہوگا۔‘ واشنگٹن کے اجلاس میں وزرائے خزانہ سے کہا گیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر بینکوں کے کاروبار میں اصطلاحات بھی تجویز کریں۔ دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے جی 20 کی اہمیت بالکل واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ اب عالمی اقتصادی نظام کی مینجمنٹ کے لیے ان کی بھی رائے لی جا رہی ہے۔ برازیل کے صدر لوئس ایناسیو لولا دا سلوا نے کہا: ’ہم جی 20 کی بات اس لیے کر رہے ہیں کہ جی 8 کے پاس اب اپنے وجود کا کوئی جواز نہیں رہ گیا ہے۔‘ جی 20 کے رہنما اب 20 اپریل 2009 کو ملیں گے تاکہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اگرچہ اس بات کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوا لیکن کہا جا رہا ہے کہ جی 20 کا اگلا اجلاس لندن میں ہو گا اور اس میں امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما شرکت کریں گے۔ |
اسی بارے میں ’معیشتیں تحفظ کے رجحان سے بچیں‘15 November, 2008 | آس پاس عالمی اقتصادی بحران پر اہم اجلاس15 November, 2008 | آس پاس کساد بازاری کا خوف اور اجلاس14 November, 2008 | آس پاس عالمی بازارِ حصص پھر مندی کا شکار12 November, 2008 | آس پاس چینی امدادی پیکج، بازار پر مثبت اثر10 November, 2008 | آس پاس جی 20 ممالک کا برازیل میں اجتماع 09 November, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||