BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 November, 2008, 03:28 GMT 08:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمی ترقی کی بحالی پر اہم معاہدہ
جارج بش اور منموہن سنگھ
اس اجلاس میں امریکہ، جرمنی اور جاپان جیسے سرکردہ صنعتی ممالک اور چین، انڈیا اور برازیل جیسی ابھرتی معیشتوں کے سربراہ اکٹھے ہوئے ہیں
دنیا کی بیس بڑی معاشی طاقتوں کے سربراہ اجلاس میں، جو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہوا، عالمی رہنماؤں نے اقتصادی ترقی کے عمل کو بحال کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ وہ عالمی اقتصادی نظام میں ’ضروری اصلاحات‘ لانے کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ عالمی رہنماؤں نے ’تاریخی‘ معاہدے کیے ہیں۔

اہم مسائل جن پر اتفاق ہوا
۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی اقتصادی اداروں میں اصلاحات
۔ 2008 کے آخر تک ایسے معاہدے پر اتفاق جس کے تحت عالمی آزاد تجارت کا معاہدہ عمل میں لایا جا سکے
۔ اقتصادی مارکیٹوں میں بہتری، شفافیت اور اس بات کو یقینی بنانا کہ کمپنیاں اپنی اقتصادی حالت صحیح بتا رہی ہیں
۔ اس بات کو یقینی بنانا کہ بینکوں اور اقتصادی اداروں کی طرف سے دی گئی رعایت میں زیادہ رسک نہ ہو
۔ وزرائے خزانہ ان اقتصادی اداروں کی لسٹ بنائیں جن کے تباہ ہونے سے عالمی اقتصادی نظام کو خطرہ پہنچ سکتا ہے
۔ ملکوں کے اقتصادی ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنانا
۔ ان قوانین کا از سرِ نو جائزہ لینا جو فراڈ وغیرہ پکڑتے ہیں

امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ وزرائے خزانہ اصلاحات کی تفصیلی تجاویز پر کام کرنے کے بعد اب پھر رپورٹ کریں گے۔

امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوری میں صدارت کا حلفِ اٹھانے کے بعد وہ اقتصادی چیلنجز پر جی 20 کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اس اجلاس میں سرکردہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک جیسا کہ جرمنی، جاپان، امریکہ
اور ابھرتی ہوئی منڈیاں جیسا کہ چین، انڈیا اور برازیل اکھٹا ہوئی ہیں۔ یہ ممالک دنیا کی 85 فیصد معیشت کے نمائندہ ہیں۔

اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ معاشی عمل تیز کرنے کے لیے شرح سود کو گھٹایا جائے گا اور حکومتیں زیادہ رقوم خرچ کریں گی تاہم ہر ملک اس کی تفصیل اپنے طور پر طے کرے گا۔

برازیل کے صدر لوئس ایناسیو لولا دا سلوا
’جی 8 کے پاس اب اپنے وجود کا کوئی جواز نہیں رہ گیا ہے‘

کانفرنس سے خطاب میں امریکی صدر بش نے کہا: ’ساری دنیا کے لوگ یہ بات سمجھتے ہیں کہ ان کی روزی روٹی ایک صحت مند اور پھلتی پھولتی عالمی معیشت سے وابستہ ہے۔ اس کا سب سے یقینی راستہ یہ ہے کہ آزاد اور کھلی منڈیوں کی پالیسیوں کو جاری رکھا جائے۔ کھلی منڈی کی سرمایہ داری ساری دنیا میں خوشحالی، ترقی اور سماجی نقل و حرکت کا محرک رہی ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری سے ہماری معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہیں جس سے کاروبار کے لیے نئے گاہک بنے ہیں اور گاہکوں کے لیے کم قیمتوں کے ساتھ زیادہ انتخاب انہیں حاصل ہوا ہے۔ تمام ہی ملکوں کو اب موجودہ چیلنج کے مقابلے میں معاشی فصیل بندی اور اشتراکیت کے مطالبات کو رد کرنا ہوگا۔‘

واشنگٹن کے اجلاس میں وزرائے خزانہ سے کہا گیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر بینکوں کے کاروبار میں اصطلاحات بھی تجویز کریں۔

دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے جی 20 کی اہمیت بالکل واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ اب عالمی اقتصادی نظام کی مینجمنٹ کے لیے ان کی بھی رائے لی جا رہی ہے۔

برازیل کے صدر لوئس ایناسیو لولا دا سلوا نے کہا: ’ہم جی 20 کی بات اس لیے کر رہے ہیں کہ جی 8 کے پاس اب اپنے وجود کا کوئی جواز نہیں رہ گیا ہے۔‘

جی 20 کے رہنما اب 20 اپریل 2009 کو ملیں گے تاکہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔

اگرچہ اس بات کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوا لیکن کہا جا رہا ہے کہ جی 20 کا اگلا اجلاس لندن میں ہو گا اور اس میں امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما شرکت کریں گے۔

یہ امریکہ ہے
ٹیکسوں میں اور کمی، اخراجات میں اور زیادتی
ایوان نمائندگانبحران ٹل جائےگا
امریکہ: سات سو ارب کا بیل آؤٹ بل منظور
امریکی مالی بحران
امریکی پیکج، اعتراضات اور مستقبل
جنگیں اور معاشیات
تین کھرب کی امریکی جنگیں اور مالی بحران
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد