’معیشتیں تحفظ کےرجحان سےبچیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بُش نے کہا ہے کہ اقتصادی بحران کے بارے میں عالمی رہنماؤں کے درمیان مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ملکی معیشتوں کو بیرونی مقابلے سے تحفظ دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ صدر بُش نے واشنگٹن میں دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کے اجلاس کے دوران کہا کہ ان رہنماؤں کے درمیان کھل کر بات چیت ہوئی ہے لیکن ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ وہ عالمی بنکاری نظام کی ’صفائی‘ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں جاری سربراہی اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر فوری طور پر عمل ہونا چاہیے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران یورپ اور امریکہ اور کچھ دیگر ممالک کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ سخت قوانین کے حق میں ہے جبکہ امریکہ اور دیگر ممالک درمیانے درجے کی اصلاحات کے حق میں ہیں۔ صدر بُش کا کہنا ہے کہ بحران خطرہ رہتا ہے کہ لوگ اپنی اپنی معیشتوں کو تحفظ دینے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔ انہوں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ رہنماؤں نے کھلی منڈی کی تجارت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ گورڈن براؤن نے کہا کہ اس وقت بہت سے ممالک ہیں جن کے اپنے مفادات اور پالیسیاں ہیں اور اسے بدلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عالمی تجارتی معاہدے کے لیے نظام الاوقات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کو زیادہ پیسہ دیا جانا چاہیے تاکہ وہ دوبارہ قرضے دینے شروع کر سکیں۔ جاپان نے کہا کہ وہ آئی ایم ایف کو ایک سو ارب ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ وہ ان ترقی پذیر معیشتوں کی مدد کر سکیں جو اقتصادی بحران کا شکار ہوئی ہیں۔ جی ٹوئنٹی کہلانے والے ان ممالک کے اجلاس میں صنعتی ممالک امریکہ، جاپان، جرمنی اور ترقی پذیر ممالک میں سے انڈیا، برازیل اور چین بھی شامل ہیں۔ یہ ممالک دنیا کی پچاسی فیصد معیشت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں کساد بازاری کا خوف اور اجلاس14 November, 2008 | آس پاس جرمنی کو کساد بازاری کا سامنا13 November, 2008 | آس پاس چینی امدادی پیکج، بازار پر مثبت اثر10 November, 2008 | آس پاس جی 20 ممالک کا برازیل میں اجتماع 09 November, 2008 | آس پاس دنیا کے حصص بازاروں میں کہرام24 October, 2008 | آس پاس برطانیہ: کساد بازاری کی وارننگ22 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||