جرمنی کو کساد بازاری کا سامنا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک، جرمنی کساد بازاری کا شکار ہو گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جرمنی کی معیشت میں تیسری سہ ماہی میں اعشاریہ پانچ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ مسلسل تیسری سہ ماہی ہے جب معیشت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اقتصادی پیداوار میں کمی برآمدات کی وجہ سے ہوئی اور اس کی شرح ماہرین کے اندازوں سے زیادہ ہے۔ اس سے قبل سن دو ہزار تین کے پہلے حِصّے میں جرمنی کی معیشت میں کمی ہوئی تھی۔ برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ دہائی کے مقابلے میں اس وقت سب سے زیادہ ہے اور یہاں کی سب سے بڑی ٹیلی فون کمپنی بی ٹی اس سال دس ہزار نوکریاں ختم کر رہی ہے۔ امریکہ میں گزشتہ روز ڈاؤ جونز انڈیکس کے پانچ فیصد گرنے کے بعد جمعرات کو ایشیا کے حصص بازاروں میں بھی مندی دیکھی گئی۔ آسٹریلیا کی مارکیٹ میں چھ فیصد جبکہ جاپان اور ہانگ کانگ میں پانچ پانچ فیصد کمی ہوئی۔ | اسی بارے میں دنیا کے حصص بازاروں میں کہرام24 October, 2008 | آس پاس غریب ممالک کی مدد کریں: یو این25 October, 2008 | آس پاس ’مالیاتی بحران ایک سونامی ہے‘23 October, 2008 | آس پاس جی 20 ممالک کا برازیل میں اجتماع 09 November, 2008 | آس پاس تیل کی پیدوار کم کرنے کا اعلان24 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||