BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 November, 2008, 05:59 GMT 10:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چینی امدادی پیکج، بازار پر مثبت اثر
بازارِ حصص
شنگھائی کے مجموعی انڈیکس میں پانچ فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا
چین کی جانب سے معاشی ترقی کی رفتار میں اضافے کے لیے امدادی پیکج کے اعلان کا ایشیائی بازارِ حصص پر مثبت اثر دیکھنے میں آیا ہے اور پیر کو کاروبار کے آغاز پر جاپان، چین اور ہانگ کانگ میں شیئر بازاروں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔

چین نے اپنی معیشت کی سست رفتار کو تیز کرنے کے لیے اتوار کو پانچ سو چھیاسی ارب ڈالر مالیت کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا جس میں سے بڑی رقم آئندہ دو برس کے دوران ہاؤسنگ، انفراسٹرکچر اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو پر خرچ کی جائے گی۔

اس کے علاوہ چین نے کمپنی ٹیکس میں بھی نمایاں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ بینک بھی دیہی ترقی اور تکنیکی شعبہ جات میں زیادہ آسان قرضے فراہم کریں گے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں جب پیر کو بازارِ حصص کھلا تو شنگھائی کے مجموعی انڈیکس میں پانچ فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور بینکوں، سٹیل اور تعمیراتی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ یہ وہ کمپنیاں ہیں جو چینی حکومت کے امدادی پیکج سے بلاواسطہ فائدہ اٹھائیں گی۔

چین کے علاوہ جاپان کے نکی انڈیکس میں بھی دوپہر تک پانچ اعشارہ چار نو فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ ہانگ کانگ کے بازارِ حصص میں بھی پانچ اعشاریہ چھ فیصد کی بہتری دیکھنے میں آئی۔

تاہم اس بہتری کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ امدادی پیکج بھی چین کو عالمی مالیاتی بحران کے اثرات سے مکمل طور پر نہیں بچا سکے گا تاہم اس سے چینی معیشت کے بچاؤ میں کچھ مدد ضرور ملے گی۔

آئی ایم ایف کے مینیجگ ڈائریکٹر ڈومینک سٹراس کان نے چینی حکومت کے اس پیکج کو ’ ایک بڑی امداد‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ’ اس کا اثر نہ صرف عالمی معیشت پر ہوگا بلکہ چینی معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات پڑیں گے اور یہ عدم توازن کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے‘۔

یاد رہے کہ اس سال کی تیسری سہ ماہی میں چین کی سالانہ شرحِ ترقی کم ہو کر نو فیصد رہ گئی ہے جو کہ گزشتہ پانچ برس کی کم ترین سطح ہے۔ انہیں حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے چینی حکومت نے حالیہ ہفتوں میں دو مرتبہ شرحِ سود میں کمی بھی کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد