عالمی بازارِ حصص پر خوف کے سائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیائی اور یورپی بازارِ حصص میں جمعہ کو شدید مندی کے بعد امریکہ میں نیویارک کے ڈاؤ جونز انڈیکس میں کاروبار کے آغاز پر ہی گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔ کاروبار کے آغاز پر ڈاؤ جونز انڈیکس ایک مرتبہ تو آٹھ ہزار کی نفسیاتی حد سے بھی نیچے گرا لیکن پھر اس میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی۔ تاہم بہتری کے باوجود انڈیکس میں تین سو پوائنٹس سے زیادہ. کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جمعہ کو صدر بش نے ایک بار پھر خطاب کر کے امریکی عوام کو مالیاتی بحران کے حوالے سے یہ پیغام دیا کہ وہ پریشان نہ ہوں اور امریکہ اس بحران کا حل نکال سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت کے پاس اس سے نمٹنے کے لیے مکمل منصوبہ ہے۔ یاد رہے کہ جمعرات کو کاروبار کے اختتام پر ڈاؤ جونز انڈیکس کے نو ہزار پوائنٹ کی حد سے نیچے آنے کے بعد جمعہ کی صبح ایشیائی مارکیٹوں کو بھی شدید مندی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ڈاؤ جونز جمعرات کو چھ سو اٹھہتر پوائنٹس یا سات اعشاریہ تین فیصد کی کمی کے بعد آٹھ ہزار پانچ سو اناسی پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ جمعہ کو لندن سٹاک ایکسچینج کا فٹسی ہنڈریڈ انڈیکس پانچ برس میں پہلی مرتبہ چار ہزار کی حد سے گر گیا اور انڈیکس میں قریباً آٹھ فیصد یا ساڑھے تین سو پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ پیرس اور جرمنی میں بھی بازارِ حصص میں بالترتیب قریباً سات اور آٹھ فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایشیائی بازاروں میں جمعہ کے روز کاروبار انتہائی نچلی سطح پر شروع ہوا اور جاپان کے نکئی انڈیکس میں نو اعشاریہ چھ فیصد کی کمی واقع ہوئی جبکہ آسٹریلیا کا حصص بازار آٹھ اعشاریہ تین فیصد کی کمی پر بند ہوا۔ جاپان کا نکئی انڈکس جمعہ کے روز انیس سو ستاسی کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ گری اور اس سے انشورنس کمپنی یاماٹو لائف کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔ ممبئی بازارِ حصص میں جمعہ کو نو سو سینتیس پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس سے بازار میں افراتفری کا ماحول ہے اور سرمایہ کاروں میں مایوسی کا عالم ہے۔ عالمی سٹاک مارکیٹوں کی خراب صورتحال پر بات چیت کے لیے جی سیون ممالک کے وزرائے خزانہ ہفتے کو واشنگٹن میں مل رہے ہیں۔ دنیا بھر کی حکومتوں کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کے باوجود سرمایہ عالمی کساد بازاری کے خدشے کے پیش نظر سٹاکس میں پیسہ لگانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ شنکو سکیورٹیز کے یوٹاکا نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ ’نیویارک اور ٹوکیو میں حصص کی فروخت روکنا ناممکن ہے کیونکہ سرمایہ کار خوف زدہ ہیں‘۔
ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈکس تین سال کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے جبکہ فلپائن کے انڈیکس میں جمعہ کو آٹھ اعشاریہ تین اور شنگھائی کے انڈیکس میں تین اعشاریہ آٹھ فیصد کی کمی دیکھی گئی۔دوسری طرف انڈونیشیا کی مارکیٹ میں حصص کے کاروبار کو روک دیا گیا تاکہ اس میں مزید کمی نہ آئے۔ ادھر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے ایک ہنگامی طریقہ کار وضع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت موجودہ مالی بحران سے متاثر ہونے والے ملکوں کو سرمایہ فراہم کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کے سربراہ ڈومینیک سٹراس کان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اس طریقہ کار کے ذریعے ان ملکوں کی ہنگامی بنیادوں پر مدد ممکن ہو سکے گی جن کو مالیاتی دشواریوں کا سامنا ہو گا۔ سٹراس کان نے کہا تھا کہ دنیا کساد بازاری کے دھانے پر کھڑی ہے تاہم انہوں اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ اس سے ابھی بھی نکلا جا سکتا ہے۔ امریکہ میں حصص بازار میں کاروباری لحاظ سے ایک سیاہ دن جمعرات کو ڈاؤ جونز میں کاروبار سات اعشاریہ تین فیصد کی کمی کے ساتھ گزشتہ پانچ برس میں نوہزار پوائنٹ سے نیچے بند ہوا۔ لاس اینجلس کی پیڈن اینڈ ریگل کے کرس اورنڈرف کا کہنا ہے ’ہم بنیادی مسائل سے آگے ہیں اور یہ جو ہو رہا ہے یہ افراتفری ہے۔‘ |
اسی بارے میں ایشیائی بازار میں شدید مندی10 October, 2008 | آس پاس امریکی حکومت پر قرض اتنا بڑھا کہ۔۔09 October, 2008 | آس پاس حصص بازاروں میں مندی جاری09 October, 2008 | آس پاس مالی بحران،مشترکہ اقدام کا فیصلہ04 October, 2008 | آس پاس ہائپو کو بچانے کے لیے پیکج تیار06 October, 2008 | آس پاس معاشی بحران، تیل کی قیمتوں میں کمی06 October, 2008 | آس پاس اہم یورپی بینک دیوالیہ کے قریب05 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||