BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2008, 07:54 GMT 12:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینک دیوالیہ مگر سربراہ ’مالا مال‘
لیمن برادرز بینک(فائل فوٹو)
لیہمن برادرز کے دیوالیہ ہونے سے ہی امریکی مالیاتی مارکیٹ میں موجود افراتفری عروج پر پہنچ گئی تھی

گزشتہ ماہ دیوالیہ ہونے والے امریکی بینک لیہمن برادرز کے سربراہ نے امریکی کانگریس کو بتایا ہے کہ گزشتہ آٹھ برس کے دوران انہوں نے بینک سے تنخواہ اور بونس کی مد میں تین سو ملین ڈالر وصول کیے۔

رچرڈ فُلڈ نے یہ بیان مالیاتی بحران کی وجوہات تلاش کرنے کے لیے بنائی گئی گورنمنٹ ریفارم کمیٹی کے سامنے دیا ہے۔

کمیٹی کے ابتدائی اجلاس میں چیئرمین ہنری ویکس مین نے کہا کہ مالیاتی انجماد کی وجہ سے ملکی معیشت خطرے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ معیشت کی بحالی کے لیے دو اقدامات نہایت ضروری ہیں۔ ایک تو یہہ کہ ہمیں خرابی کا پتہ چلانا ہو گا اور اس کے بعد ہمیں اپنے مالیاتی بازار کی اصلاح کے لیے حقیقتاً کام کرنا ہوگا‘۔

اجلاس کے دوران جب ہنری ویکس مین نے لیہمن برادرز کے سربراہ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ انہوں نے سنہ 2000 سے اب تک تنخواہ اور بونس کی مد میں چار سو اسّی ملین ڈالر وصول کیے ہیں تو رچرڈ فلڈ کا جواب تھا کہ صحیح رقم تین سو ملین ڈالر کے قریب ہے۔

رچرڈ فلڈ
جب ہنری ویکس مین نے لیہمن برادرز کے سربراہ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ انہوں نے سنہ 2000 سے اب تک تنخواہ اور بونس کی مد میں چار سو اسّی ملین ڈالر وصول کیے ہیں تو رچرڈ فلڈ کا جواب تھا کہ صحیح رقم تین سو ملین ڈالر کے قریب ہے۔

ہنری ویکس مین نے رچرڈ فلڈ کو بینک کے ڈوبنے سے قبل ادارہ چھوڑنے والے افسران کو کئی ملین ڈالر کے بونس دینے کی درخواست کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ’ دیگر الفاظ میں جب مسٹر فلڈ سیکرٹری خزانہ سے وفاقی امداد کی درخواست کر رہے تھے تو لیہمن برادرز بینک افسران کو ملین ڈالرز بطور زرِ تلافی دیے جا رہا تھا‘۔

رچرڈ فلڈ نے کہا کہ ’ میں اپنے فیصلوں اور اعمال کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں میسر معلومات کی بناء پر انہوں نے محتاط اور مناسب فیصلے کیے۔ تاہم ’جو کچھ ہوا وہ بہت خوفناک تھا‘۔

یاد رہے کہ لیہمن برادرز کے دیوالیہ ہونے سے ہی امریکی مالیاتی مارکیٹ میں اس افراتفری میں تیزی آئی تھی جس پر قابو پانے کے لیے امریکی کانگریس نے حال ہی میں سات سو ارب ڈالر کے ’بیل آؤٹ‘ منصوبے کی منظوری دی ہے۔

وال سٹریٹ’بیل آؤٹ‘ منصوبہ
سات سو ارب ڈالر کا منصوبہ کیا اور کیوں ہے؟
قیمتوں میں کمی
معاشی بحران، تیل کی قیمتوں میں کمی
ایوان نمائندگانبحران ٹل جائےگا
امریکہ: سات سو ارب کا بیل آؤٹ بل منظور
امریکی مالی بحران
امریکی پیکج، اعتراضات اور مستقبل
دائرہ پھیل رہا ہے
عالمی بحران، دنیا بھر کی شیئر مارکٹس میں مندی
عالمی مالیاتی بحران
معیشت کو ایسے جھٹکے عرصے سے نہیں لگے
اسی بارے میں
’امریکہ میں آسمان گر گیا‘
16 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد