بینک دیوالیہ مگر سربراہ ’مالا مال‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ ماہ دیوالیہ ہونے والے امریکی بینک لیہمن برادرز کے سربراہ نے امریکی کانگریس کو بتایا ہے کہ گزشتہ آٹھ برس کے دوران انہوں نے بینک سے تنخواہ اور بونس کی مد میں تین سو ملین ڈالر وصول کیے۔ رچرڈ فُلڈ نے یہ بیان مالیاتی بحران کی وجوہات تلاش کرنے کے لیے بنائی گئی گورنمنٹ ریفارم کمیٹی کے سامنے دیا ہے۔ کمیٹی کے ابتدائی اجلاس میں چیئرمین ہنری ویکس مین نے کہا کہ مالیاتی انجماد کی وجہ سے ملکی معیشت خطرے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ معیشت کی بحالی کے لیے دو اقدامات نہایت ضروری ہیں۔ ایک تو یہہ کہ ہمیں خرابی کا پتہ چلانا ہو گا اور اس کے بعد ہمیں اپنے مالیاتی بازار کی اصلاح کے لیے حقیقتاً کام کرنا ہوگا‘۔ اجلاس کے دوران جب ہنری ویکس مین نے لیہمن برادرز کے سربراہ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ انہوں نے سنہ 2000 سے اب تک تنخواہ اور بونس کی مد میں چار سو اسّی ملین ڈالر وصول کیے ہیں تو رچرڈ فلڈ کا جواب تھا کہ صحیح رقم تین سو ملین ڈالر کے قریب ہے۔
ہنری ویکس مین نے رچرڈ فلڈ کو بینک کے ڈوبنے سے قبل ادارہ چھوڑنے والے افسران کو کئی ملین ڈالر کے بونس دینے کی درخواست کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ’ دیگر الفاظ میں جب مسٹر فلڈ سیکرٹری خزانہ سے وفاقی امداد کی درخواست کر رہے تھے تو لیہمن برادرز بینک افسران کو ملین ڈالرز بطور زرِ تلافی دیے جا رہا تھا‘۔ رچرڈ فلڈ نے کہا کہ ’ میں اپنے فیصلوں اور اعمال کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں میسر معلومات کی بناء پر انہوں نے محتاط اور مناسب فیصلے کیے۔ تاہم ’جو کچھ ہوا وہ بہت خوفناک تھا‘۔ یاد رہے کہ لیہمن برادرز کے دیوالیہ ہونے سے ہی امریکی مالیاتی مارکیٹ میں اس افراتفری میں تیزی آئی تھی جس پر قابو پانے کے لیے امریکی کانگریس نے حال ہی میں سات سو ارب ڈالر کے ’بیل آؤٹ‘ منصوبے کی منظوری دی ہے۔ |
اسی بارے میں امریکہ، بینکوں کا سٹیٹس تبدیل22 September, 2008 | آس پاس امدادی فنڈ کی خبر، بازار میں تیزی19 September, 2008 | آس پاس سٹاک پر زوال، سرمایہ کار پریشان 17 September, 2008 | آس پاس امریکی بینک کو دیوالیہ پن کا سامنا 15 September, 2008 | آس پاس ’امریکہ میں آسمان گر گیا‘16 September, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||