امریکی حکومت پر قرض اتنا بڑھا کہ۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی حکومت کے قرضے اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ نیویارک میں لگائی گئی’ نیشنل ڈیبٹ کلاک‘ اتنے بڑے نمبر کو جگہ تک نہیں دے پا رہی ہے۔ یہ گھڑی ایک ڈیجیٹل کاؤنٹر ہے جس پر قومی سطح کے قرضے کے اعدادوشمار اس لیے شائع کیے جاتے ہیں تاکہ عوام کو یہ پتہ چل سکے کہ امریکی سرکار کا قرض کتنا ہو گیا ہے۔ لیکن گزشتہ مہینے یہ قرض جب 10 کھرب ڈالر سے زيادہ ہو گیا تو یہ رقم ڈیجیٹل کاؤنٹر پرلکھنے کے لیے جگہ ہی نہیں بچی۔ یہ گھڑی (کلاک) لگانے والوں کا کہنا ہے کہ دو صفر اور لگانے کے لیے اس ڈیجیٹل کلاک میں جگہ بنانی ہوگی اس کے بعد ہی امریکہ کا پورا قومی قرض اس پر لکھا جا سکے گا۔ کلاک کا بورڈ 1989 میں لگایا گیا تھا جب 2.7 کھرب ڈالر کے قرض کو اس پر دکھایا گیا تھا۔ کلاک کا ایجاد سیمر ڈرسٹ نے کیا تھا۔ ان کے بیٹے ڈگلس ڈرسٹ کا کہنا ہے کہ اس کلاک میں کچھ تبدیلیاں کی جائيں گی اور اگلے برس کی شروعات میں یہ دوبارہ صحیح اعداد و شمار دکھانا شروع کر دے گی۔ فی الوقت ڈالر کے الیکٹرونک اعداد و شمار کی جگہ پر ایک اضافی عدد استعمال کیا جا رہا ہے۔ بعض اقتصادی ماہرین کے خیال میں اقتصادی بحران سے دو چار امریکی مالیاتی اداروں کو بچانے کے لیے امریکی حکومت نے جو سات سو ارب ڈالر کے پیکیچ کا اعلان کیا ہے اس کے بعد امریکہ کا قومی قرضہ 11 کھرب ڈالر ہو جائے گا۔ | اسی بارے میں امریکہ: 700ارب کا بیل آؤٹ بل منظور03 October, 2008 | آس پاس مالی بحران،مشترکہ اقدام کا فیصلہ04 October, 2008 | آس پاس ہائپو کو بچانے کے لیے پیکج تیار06 October, 2008 | آس پاس معاشی بحران، تیل کی قیمتوں میں کمی06 October, 2008 | آس پاس اہم یورپی بینک دیوالیہ کے قریب05 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||