عالمی بازارِ حصص پھر مندی کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی اقتصادی بحران کی طوالت کی خبروں کے بعد ایک مرتبہ پھر عالمی حصص بازاروں میں مندی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمت بھی بیس ماہ کی سب سے کم سطح پر چلی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ہفتۂ رواں میں کاروبار کے آغاز پر چین کی جانب سے معاشی ترقی کی رفتار میں اضافے کے لیے امدادی پیکج کے اعلان کا ایشیائی بازارِ حصص پر مثبت اثر دیکھنے میں آیا تھا اور پیر کو کاروبار کے آغاز پر جاپان، چین اور ہانگ کانگ میں شیئر بازاروں میں تیزی ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم یہ اثر دیرپا ثابت نہیں ہو سکا اور یورپی اور امریکی بازارِ حصص کے علاوہ ایشیائی بازارِ حصص بھی منگل کو مندی کا شکار رہے۔منگل کو کاروبار کے اختتام پر نیویارک کے ڈاؤ جونز انڈیکس میں ایک سو ستتر یا دو فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ لندن کے فٹسی ہنڈریڈ انڈیکس میں تین اعشاریہ چہ جبکہ جاپان کے نکی انڈیکس میں تین فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی۔ امریکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کرنے والے تازہ عوامل میں کافی کمپنی سٹار بکس کی خراب سالانہ رپورٹ اور جنرل موٹرز کے مستقبل کے حوالے سے پیدا ہونے خدشات شامل ہیں۔ ای سی یو گروپ کے چیف اکانومسٹ نیل میکینن کے مطابق’ اب بازار میں کاروبار کرنے والے پریشان ہیں کہ بری خبریں تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ بات درحقیقت بہت پریشان کن ہے کہ معاشی بحران طویل تر ہو سکتا ہے‘۔ منگل کو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی اور تیل کے سودے انسٹھ اعشاریہ تین ڈالر فی بیرل پر ہوئے۔ یاد رہے کہ اسی برس جولائی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت ایک سو سینتالیس ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔ | اسی بارے میں مالیاتی نظام کے ’پگھلنے کا خدشہ‘ 11 October, 2008 | آس پاس عالمی بازارِ حصص پر خوف کے سائے10 October, 2008 | آس پاس چینی امدادی پیکج، بازار پر مثبت اثر10 November, 2008 | آس پاس شرح سود میں کمی، حصص میں تیزی29 October, 2008 | آس پاس دنیا کے حصص بازاروں میں کہرام24 October, 2008 | آس پاس جاپان کی حصص مارکیٹ میں مندی23 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||