عالمی اقتصادی بحران پر اہم اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی کساد بازاری کے بڑھتے ہوئے خطرے کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے رہنما پہلی بار ایک سربراہی اجلاس میں واشنگٹن میں جمع ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر جارج بش کی دعوت پر ہونے والے اس اجلاس میں عالمی اقتصادی بحران سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ واشنگٹن کے اجلاس میں بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے طویل المیعاد اصلاحات پر غور کیا جائے گا۔ تاہم نو منتخب صدر باراک اوباما کی شمولیت کے بغیر کوئی بڑی پیش رفت کی امید نظر نہیں آتی۔ صدر بش نے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کا کوئی فوری حل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’یہ مسئلہ راتوں رات پیدا نہیں ہوا اور راتوں رات اس کا حل بھی نہیں نکلے گا، لیکن بدستور تعاون اور عزم سے یہ حل ہو سکتا ہے۔‘ اس سے قبل صدر بش نے کہا تھا کہ اقتصادی بحران کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آزاد مارکیٹ کا سرمایہ داری نظام ناکام ہو گیا ہے۔ نیو یارک میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیرپا اقتصادی ترقی حاصل کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ نظام کو دوبارہ بنایا جائے بلکہ موجودہ نظام کی اصلاح کی جائے۔ فرانس کے صدر سرکوزی نے کہا کہ ’ہم اقصادی دنیا میں کھیل کے قوانین بدلنا چاہتے ہیں۔‘
نامہ نگاروں کے مطابق اجلاس سے ابھرتی ہوئی معیشتوں مثلاً چین، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کی اہمیت کے ساتھ یہ بات بھی واضح ہورہی ہے کہ عالمی کساد بازاری کے مقابلے میں امیر ملکوں کا گروپ جی آٹھ موثر نہیں رہا۔ اجلاس میں شریک بھارتی وزیرخزانہ پی چدم برم کا کہنا تھا: ’ہمارے خیال میں عالمی رہنماؤں کو مل بیٹھ کر معاشی قواعدو ضوابط کے معیار طے کرنے چاہئیں۔ گو ہر ملک کے ضوابط اپنی جگہ ہوتے ہیں لیکن عالمی سطح پر بھی ان کی نگرانی ہونی چاہیے۔‘ کساد بازاری مشترکہ یورپی سکے یورو کی معیشتیں سات برس کی اپنی تاریخ میں پہلی بار کساد بازاری میں مبتلا ہوئی ہیں۔ مشترکہ سکے میں شامل پندرہ معشیتوں میں شرح ترقی لگاتار گزشتہ دو سہ ماہیوں میں منفی رہی۔ دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک جرمنی عالمی معاشی سست روی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ سپین میں بھی جائیدادوں کی صنعت میں زوال کے باعث ملکی معیشت سکڑی ہے۔ جمعرات کو جرمنی کی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق جرمنی میں معاشی تنزلی شروع ہو گئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق تیسری سہ ماہی میں جرمنی کی معیشت میں صفر اعشاریہ پانچ فیصد کمی آئے گی جبکہ دوسری سہ ماہی میں صفر اعشاریہ چار فیصد کمی آئی تھی۔
برطانیہ کے سینٹرل بینک نے بدھ کے روز ہی کہہ دیا تھا کہ برطانوی معیشت میں کساد بازاری شروع ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ جی ٹوئنٹی ممالک میں دنیا کی پچاسی فیصد معیشت اور دو تہائی آبادی آباد ہے۔ اس اجلاس سے قبل گورڈن براؤن نے کہا تھا کہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے ٹیکسوں میں کمی کرنی ہو گی۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے کہا کہ پروٹیکشنزم (ملکی صنعتوں کو بیرونی مال پر تحفظ دینے کا نظریہ) کو ہر حال میں رد کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پروٹیکشنزم ہی تباہی کا راستہ ہے۔ بیروز گاری جمعرات کو امریکی اعدادوشمار کے مطابق تین اعشاریہ نو ملین افراد بیروزگاری الاؤنس لے رہی ہیں جو کہ پچھلے پچیس سال میں سب سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے جی ٹوئنٹی ممالک کو ایک خط میں کہا ہے معیشت کی کساد بازاری کو روکنے کے لیے اقدام کریں۔ ’اگر لاکھوں افراد کی نوکری ختم ہو جاتی ہے تو یہ صرف معاشی بحران نہیں رہے گا۔‘ |
اسی بارے میں کساد بازاری کا خوف اور اجلاس14 November, 2008 | آس پاس جرمنی کو کساد بازاری کا سامنا13 November, 2008 | آس پاس چینی امدادی پیکج، بازار پر مثبت اثر10 November, 2008 | آس پاس جی 20 ممالک کا برازیل میں اجتماع 09 November, 2008 | آس پاس دنیا کے حصص بازاروں میں کہرام24 October, 2008 | آس پاس برطانیہ: کساد بازاری کی وارننگ22 October, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||