گوانتانامو قیدیوں کو پناہ دینے پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ گوانتانامو حراستی مرکز کے قیدیوں کو قبول کرنے سے متعلق امریکی حکومت کی درخواست پر غور کر رہا ہے۔ آسٹریلیا کی نائب وزیر اعظم جولیا جِلارڈ نے کہا ہے کہ امریکہ نے آسٹریلوں حکومت سے کہا ہے کہ وہ خلیج گوانتانامو کے قیدیوں کو قبول کرے۔ اس سے نو منتخب امریکی صدر باراک اوبامہ کو بیس جنوری کو اقتدار سنبھالنے کے بعد گوانتانامو حراستی مرکز بند کرنے میں مدد ملے گی۔ نائب وزیر اعظم جولیا جِلارڈ نے کہا کہ آسٹریلیا گوانتانامو کے کسی بھی قیدی کو قبول کرنے سے پہلے سخت سکیورٹی چھان بین کرے گا۔ اس سے پہلے برطانیہ اور پرتگال نے دیگر یورپی ملکوں پر زور دیا تھا کہ وہ گوانتانامو کے قیدیوں کو قبول کریں۔ اگرچہ برطانیہ نے کسی بھی قیدی کو براہِ راست پناہ کی پیش کش نہیں کی، تاہم اس نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کو گوانتانامو کا حراستی مرکز بند کرنے میں مدد کی ضرورت ہو گی۔ دوسری طرف برطانوی دفترِِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ وہ گوانتانامو کے قیدیوں کو قبول کرنے کے سلسلے میں کسی طرح کی سودے بازی نہیں کر رہا۔ آسٹریلوی نائب وزیر اعظم جولیا جِلارڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی کو بھی آسٹریلیا میں پناہ لینے کے لیے سخت قانونی تقاضوں کو پورا کرنا پڑے گا اور معمول کے چھان بین کے عمل سے گزرنا ہو گا۔ نائب وزیر اعظم جولیا جِلارڈ کے دفتر نے کہا ہے کہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ کس کو قبول کرنے پر غور کیا جائے اور کن شرائط پر۔ بی بی سی کے نامہ نگار فِل مرسر نے کہا ہے کہ آسٹریلوی اخباروں میں یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ گوانتانامو بے سے قبول کیے گئے قیدیوں کی تعداد بہت کم ہو گی۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ خلیج گوانتانامو کے قیدیوں کو قبول کرنے کا منصوبہ ’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ ہے۔ | اسی بارے میں ’افغانستان: فتح کی امید نہ رکھیں‘05 October, 2008 | آس پاس طالبان سے بات کی جا سکتی ہے: گیٹس07 October, 2008 | آس پاس ’انخلاء کے فیصلے پر محفوظ راستہ‘30 September, 2008 | آس پاس بغداد کا سینئر بمبار ہلاک:امریکہ05 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||