BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 January, 2009, 00:55 GMT 05:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ اور دنیا کا تعلق بہترہوجائیگا‘
چھ ماہ قبل ہونے والے سروے کے مقابلے میں جن ممالک کے افراد کو باراک اوباما کی صدارت سے زیادہ امید نہیں تھی، اس مرتبہ وہاں سے بھی امید افزاء رائے ظاہر کی گئی ہے

بی بی سی کی عالمی سروس کے لیے کیے جانے والے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق دنیا کے کئی ملکوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ باراک اوباما کے دورِ صدارت میں امریکہ اور باقی دنیا کے تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔

اس جائزے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں لوگ باراک اوباما سے یہ توقع لگائے ہوئے ہیں کہ نئے امریکی صدر عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے۔

بی بی سی کے لیے یہ سروے سترہ ممالک میں چوبیس نومبر سے اس سال پانچ جنوری تک کیا گیا جس میں سترہ ہزار تین سو چھپن بالغ افراد نے شرکت کی۔ یہ سروے رائے عامہ کے جائزے مرتب کرنے والی بین الاقوامی فرم گلوب سکین نے میری لینڈ یونیورسٹی میں پروگرام آن انٹرنیشنل پالیسی ایٹیچوڈز کے ساتھ مل کر کیا ہے۔

یہ سروے مصر اور بھارت کے علاوہ دیگر پندرہ ممالک میں غزہ میں اسرائیلی کارروائی سے پہلے مکمل کیا گیا تھا۔ مصر میں پچھہتر فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن، امریکی صدر کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

عالمی مالیاتی بحران اہم ترین
رائے دہندگان سے جب یہ پوچھا گیا کہ اوباما انتظامیہ کی چھ ممکنہ ترجیحات گنوائیں تو انہوں نے سب سے زیادہ اہم ترجیح عالمی مالیاتی بحران کو دی۔اوسطاً 72 فیصد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی بحران صدر اوباما کی اولین ترجیج ہونی چاہیے۔

سترہ میں سے پندرہ ممالک میں لوگوں کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ باراک اوباما کے صدر بننے سے امریکہ کے باقی دنیا کے ساتھ مراسم میں بہتری آ جائے گی۔ اوسطاً 67 فیصد افراد اس امید افزاء خیال کے حامل ہیں کہ اقوامِ عالم اور امریکہ کے مابین رشتوں کو فروغ ہوگا۔ البتہ 19 فیصد کی رائے یہ ہے کہ امریکہ اور باقی دنیا کے درمیان تعلقات جوں کے توں رہیں گے اور محض پانچ فیصد سمجھتے ہیں کہ ان میں خرابی آئے گی۔

بی بی سی کی عالمی سروس نے چھ ماہ پہلے باراک اوباما کے انتخاب سے قبل بھی ایسا ہی ایک سروے کروایا تھا۔ اُس سروے کے مطابق 47 فیصد افراد باراک اوباما کی صدارت سے دنیا پر اچھے اثرات مرتب ہونے کے بارے میں پُر امید تھے۔ تاہم موجودہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کی اس امید میں اکیس فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

البتہ رائے عامہ کے امید افزاء اس جائزے کا یہ ضروری نتیجہ نہیں کہ خود امریکہ کی سوچ بھی بدلی ہے۔ بی بی سی کی عالمی سروس فی الحال اس سالانہ جائزے کی تکمیل میں مصروف ہے جس میں دنیا پر بڑے ممالک کے اثرو رسوخ کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ یہ جائزہ اگلے چند ہفتوں میں جاری کیا جائے گا۔

دنیا کے سترہ ممالک میں جہاں یہ سروے کیا گیا، رائے دہندگان سے جب یہ پوچھا گیا کہ اوباما انتظامیہ کی چھ ممکنہ ترجیحات گنوائیں تو انہوں نے سب سے زیادہ اہم ترجیح عالمی مالیاتی بحران کو دی۔ اوسطاً 72 فیصد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی بحران صدر اوباما کی اولین ترجیج ہونی چاہیے۔

رائے دینے والوں میں پچاس فیصد کا کہنا تھا کہ عراق سے امریکی فوج کا انخلاء صدر اوباما کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق امریکی صدر کی دیگر ترجیحات میں ماحولیاتی تبدیلی
(46 فیصد رائے دہندگان)، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تعلقات بہتر بنانا (43 فیصد) اور طالبان کے خلاف افغان حکومت کی مدد کرنا (29 فیصد) شامل ہیں۔

اس سروے کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ چھ ماہ قبل ہونے والے سروے کے مقابلے میں ماضی میں جن ممالک کے افراد کو باراک اوباما کی صدارت سے زیادہ امید نہیں تھی، اس مرتبہ وہاں سے بھی رجائیت رائے ظاہر کی گئی ہے۔ مثلاً ترکی میں چھ ماہ قبل گیارہ فیصد افراد سمجھتے تھے کہ باراک اوباما کے صدر بننے سے امریکہ اور دنیا کے تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔ تاہم اب یہ شرح گیارہ سے بڑھ کر اکیاون فیصد ہو گئی ہے۔ روس میں یہ شرح گیارہ سے سینتالیس فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ مصر میں انتیس سے اٹھاون فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ چین میں اب انتالیس فیصد کی بجائے اڑسٹھ فیصد رائے دہندگان باراک اوباما سے بہتری کی امید رکھتے ہیں۔

وہ ممالک جہاں پچھلے سروے کے مقابلے میں اس بار لوگوں نے زیادہ پُر امید رائے ظاہر کی ہے ان میں مصر اور ترکی شامل ہیں جو دو بڑے مسلمان ملک ہیں۔ انڈونیشیا میں بھی چھ ماہ کے دوران اٹھارہ فیصد لوگوں کی رائے صدر اوباما کے بارے میں مزید بہتر ہوئی ہے۔

سب سے زیادہ رجائیت گھانا (87 فیصد) اور یورپ کے رائے دہندگان میں دیکھی گئی ہے۔ اٹلی میں (79 فیصد) جرمنی اور سپین میں (78 فیصد) اور فرانس میں چھہتر فیصد افراد باراک اوباما سے امید وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ میکسیکو اور نائیجیریا میں یہ شرح 74 فیصد ہے۔ خود امریکی رائے دہندگان میں 65 فیصد افراد یہ توقع رکھتے ہیں کہ باراک اوباما کے عہدِ صدارت میں امریکہ اور دیگر دنیا کے تعلقات بہتر ہوجائیں گے۔

ان سترہ ممالک میں جہاں یہ سروے کیا گیا، جاپان اور روس وہ دو ملک ہیں جہاں کے رائے دہندگان میں صدر اوباما سے توقعات وابستہ کرنے کی شرح دیگر ملکوں کے رائے دہندگان سے نسبتاً کم ہے۔ مثلاً جاپان میں 48 فیصدرائے دینے والے پُر امید ہیں جبکہ سینتیس فیصد کہتے ہیں کہ باراک اوباما کے آنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ روس میں 47 فیصد بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں جبکہ 26 فیصد امریکی اور اقوامِ عالم کے تعلقات میں کوئی تبدیلی آتی نہیں دیکھتے۔ جاپان میں آٹھ فیصد اور روس میں پانچ فیصد رائے دہندگان سمجھتے ہیں کہ باراک اوباما کے عہدۂ صدارات میں حالات خراب ہوں گے۔

یورپی اقوام خاص طور پر یہ سمجھتی ہیں کہ باراک اوباما کی ترجیحات میں ماحولیاتی تبدیلی شامل ہوگی۔ فرانس میں 58 فیصد، برطانیہ میں 63 فیصد، سپین میں 65 فیصد اور اٹلی میں 68 فیصد رائے دہندگان کہتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی صدر اوباما کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

سروے کتنے ملکوں میں ہوا
بی بی سی کے لیے یہ سروے سترہ ممالک میں چوبیس نومبر سے اس سال پانچ جنوری تک کیا گیا جس میں سترہ ہزار تین سو چھپن بالغ افراد نے شرکت کی۔ یہ سروے رائے عامہ کے جائزے کرنے والی بین الاقوامی فرم گلوب سکین نے میری لینڈ یونیورسٹی میں پروگرام آن انٹرنیشنل پالیسی ایٹیچوڈز کے ساتھ ملکر کیا ہے۔

برطانیہ میں جہاں باراک اوباما سے گزشتہ موسمِ گرما میں ہونے والے سروے کی نسبت اس مرتبہ توقعات میں اضافہ ہوا ہے، دیگر ممالک کے رائے دہندگان کی نسبت زیادہ افراد سمجھتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی صدر اوباما کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یورپی رائے دہندگان میں برطانیہ میں یہ رائے سب سے زیادہ پائی جاتی ہے کہ امریکہ کو طالبان کے خلاف افغانستان کی مدد کرنی چاہیے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام پچھہتر فیصد مصری رائے دہندگان کے مطابق صدر اوباما کی ترجیح ہونی چاہیے لیکن روس میں صرف سترہ فیصد افراد اس رائے کے حامل ہیں۔

امریکی رائے دہندگان کی ترجیحات قدرے مختلف ہیں۔ وہاں اکثریت کا کہنا ہے کہ مالیاتی بحران صدر اوباما کی اہم ترین ترجیجات میں شامل ہونا چاہیے لیکن 75 فیصد کہتے ہیں کہ اسے اولین ترجیح کا درجہ ملنا چاہیے۔ ساٹھ فیصد امریکی رائے دہندگان کہتے ہیں کہ امریکہ اور دیگر ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری نئے صدر کی اولین ترجیح ہونی چاہیے جو عالمی رائے دہندگان کی ترجیح سے زیادہ ہے۔ سترہ ممالک کے رائے دہندگان کا چھیالیس فیصد اس مسئلے کو اولین ترجیح قرار دیتا ہے۔

جن ممالک میں یہ سروے کیا گیا ہے ان میں چین، چلی، مصر، فررانس، جرمنی، گھانا، بھارت، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، میکسیکو، نائیجیریا، روس، سپین، ترکی، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔

اوباما اور توقعات
بارک اوباما سے امریکی عوام کیا توقع کرتی ہیں
 اوبامااوباما کے عزائم
گوانتانامو بے کی بندش اور تشدد کا خاتمہ
 اوبامہ ٹائم میگزین کے صفـحۂ اول پربہترین شخصیت
اوبامہ 2008 کی بہترین شخصیت: ٹائم میگزین
باراک اوبامااوباما کی خاموشی
غزہ: لڑائی پر خاموشی ،افسوس کا اظہار
دمتری میدویدفروس اور اوباما
روسی صدر کا بیان یا ایک تیر دو شکار؟
اوباماذمہ داری اوباما پر
غزہ میں فوجی کارروائی کون بند کرائے گا؟
اسی بارے میں
حلف برداری،سب ٹکٹ بک گئے
10 January, 2009 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد