اوباما کو روسی تنبیہہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی میزائیل دفاعی نظام کی پولینڈ میں تنصیب کی صورت میں روسی میزائیل پولینڈ کی سرحد پر لگانے کا اعلان دراصل نومنتخب صدر براک اوباما کی خارجہ پالیسی کے لیے براہ راست انتباہ ہے۔ روس اس نوعیت کے اقدامات کو بظاہر اچانک لیکن درحقیقت پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق پیش کرنے کےحوالے سے خاصا معروف ہے۔ روسی صدر کا حالیہ بیان ہی اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ مثلاً دمتری میدویدف یہ بیان نومبر کی کسی بھی تاریخ کو دے سکتے تھے لیکن امریکی صدارتی انتخاب کے صرف ایک روز بعد اس بیان کا مطلب واضح ہے۔ یعنی اگر امریکہ روس کے ساتھ اچھ تعلقات کا خواہاں ہے تو براک اوباما کی نئی انتظامیہ کو صدر بش کی خارجہ پالیسی کو ختم کرنا ہوگا۔ سرد جنگ کے دوران تو میزائیلوں کی تنصیب کی دھمکیاں عام تھیں لیکن سرد جنگ اور سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ کسی روسی صدر نے یورپ کے خلاف بیلسٹک میزائیل لگانے کی دھمکی دی ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ دھمکی کتنی سنجیدہ ہے اور یورپ اور امریکہ کو اس پر کتنا فکرمند ہونا چاہیے۔ روسی دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق روسی صدر نے جن اسکندر میزائیلوں کی تنصیب کی تجویز دی ہے وہ جورجیا کی سرحد پر نصب ہیں اور یہ مشکل ہی ہے کہ روس انہیں وہاں سے ہٹائے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ روس کو نئے میزائئل بنانے ہوں گے جو ایک طویل اور مہنگا نسخہ ہے۔ اب تک روسی صدر صرف بیان بازی تک ہی محدود رہے ہیں جو روسی رائے عامہ کے لیے ہے۔ لیکن یہ بیانات نئی امریکی انتظامیہ کی توجہ اس روسی تشویش کی جانب مبذول کرانے کے لیے بھی ہیں جو روس کے پچھواڑے امریکی اثرونفوذ میں اضافے پر پیدا ہوئی ہے۔ پہلے جورجیا اور یوکرین میں روس کی حامی حکومتیں تھیں لیکن اب وہاں امریکی امداد سے چلنے والی حکومتیں ہیں۔ غلط یا صحیح، روسی دفاعی ماہرین یہی سمجھتے ہیں کہ امریکی میزائیل دفاعی ڈھال کا ہدف روس ہے جس سے اس کی جوہری صلاحیت کا توازن ختم ہوجائے گا۔ اب اس دھمکی کے ذریعے بظاہر روس ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش میں ہے۔ ایک یہ کہ اس طرح روس امریکی صدر کو میزائیل شیلڈ کی سیاسی قیمت سے ڈرا رہا ہے اور دوسری جانب اس کا مقصد امریکہ اور یورپ کے درمیان خلیج پیدا کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ میزائیل شیلڈ بے شک امریکی نظام ہو لیکن یہ پولش زمین پر قائم ہوگا اور نتیجتاً پولینڈ روسی میزائیلوں کا ہدف ہوگا اور پولش رائے عامہ پہلے ہی اس کے سخت خلاف ہے۔ روس اس سارے معاملے میں خود کو مظلوم کے طور پر پیش کررہا ہے کہ اگر امریکہ اس کے ساتھ عزت و تکریم کا برتاؤ کرتا تو یہ نوبت ہی نہیں آتی۔ تیل کی دولت سے مالامال روس اور اس کے رہنما اپنے وقار کے تحفظ پر کمربستہ ہیں اور اسی وجہ سے موجودہ روس نئے امریکی صدر کے لیے خاصی ٹیڑھی کھیر ثابت ہوسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں روسی فوج جورجیا میں داخل ہوگئی11 August, 2008 | آس پاس روس پر انخلاء کے لیے عالمی دباؤ18 August, 2008 | آس پاس جورجیا بحران پر نیٹو کا اجلاس19 August, 2008 | آس پاس روس: بین البراعظمی میزائل ٹیسٹ13 October, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||