روسی فوج جورجیا میں داخل ہوگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی افواج ابخازیہ کے علاقے سے جورجیا کی حدود میں داخل ہونے کے بعد سیناکی نامی قصبے تک پہنچ گئے ہیں۔ روس اور جورجیا کے حکام نے اس پیش قدمی کی تصدیق کر دی ہے اور روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کی فوجیں جنوبی اوسیٹیا میں موجود روسی فوج پر ہونے والے حملے روکنے کے لیے جورجیا کی حدود میں داخل ہوئی ہیں۔ اس سے قبل جورجیا کے صدر میخائل شیخوالی نے یورپی یونین کے تجویز کردہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے تھے۔ میخائل شیخوالی کے علاوہ جنگ بندی کے معاہدے پر فرانس اور فن لینڈ کے وزرائے خارجہ نے بھی دستخط کیے ہیں اور یہ جورجیا کے صدر کے مطابق اب یہ دونوں یورپی وزرائے خارجہ ماسکو جائیں گے اور کوشش کریں گے کہ روس اس جنگ بندی پر راضی ہو جائے۔ امریکہ نے بھی جنوبی اوسیٹیا کے تنازعے پر جورجیا کے خلاف روسی فوجی کارروائی پر سخت تنقید کی ہے۔ جورجیا کے صدر میخائل شیخوالی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر ڈک چینی نے کہا کہ ’روس کی جارحیت کا جواب دیا جانا چاہیے‘۔ صدر بش نے کہا ہے کہ انہوں نے روسی فوج کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال پر ماسکو پر اپنی تشویش ظاہر کر دی ہے۔ دریں اثناءجورجیا نے کہا ہے کہ تبلیسی کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود روسی طیاروں نے بمباری کی ہے۔واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب نے کا کہنا ہے کہ ڈک چینی کے ٹیلی فون کا مطلب جارجیا کے ساتھ صرف ایک اظہار یکجہتی ہی نہیں بلکہ یہ پیغام دینا بھی تھا کہ امریکہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔ نائب صدر کا کہنا تھا کہ اگر جورجیا کے خلاف اسی طرح جاری تشددجاری رہا تو نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی برادری کے ساتھ روس کے تعلقات پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں تاہم وہائٹ ہاؤس نےکے افسران نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ اگر روس نے اپنی کارروائی جاری رکھی تو امریکہ کیا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب روس نے تبلیسی کی جانب سے جنگ بندی اور مزاکرات کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے فضائی بمباری جاری رکھی۔جارجیا کے وزارتِ داخلہ کے مطابق تازہ حملہ پیر کی صبح فوجی ٹھکانوں پر کیا گیا ہے جانی نقصان کی ابھی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ جورجیا کے قصبےگوری میں دوبارہ حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ہزاروں لاکھوں افراد گوری چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گیلپن کے مطابق تبلیسی کو جانے والی سڑک بے شمار کاروں کے قافلوں سے جام ہے۔اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ جنگ زدہ علاقے سے بھاگنے والے لوگوں کو محفوظ راہداری فراہم کریں۔ |
اسی بارے میں جورجیا لڑائی شدت اختیار کر گئی 09 August, 2008 | آس پاس جورجیامیں روسی فضائی حملے09 August, 2008 | آس پاس جورجیا اور اوسیٹیا مسئلہ ہے کیا؟09 August, 2008 | آس پاس اولمپک وینیو، تبتیوں کا احتجاج09 August, 2008 | آس پاس اوسیٹیا: مسئلے کا حل آسان نہیں09 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||