جورجیا لڑائی شدت اختیار کر گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس اور جورجیا کی فوجوں کے درمیان جورجیا کے علیحدگی پسند علاقے جنوبی اوسیٹیا میں شدید لڑائی جاری ہے اور خدشہ ہے کہ یہاں مکمل جنگ شروع ہو جائے گی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب جارجیا نے روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے خلاف اوسیٹیا میں کارروائی شروع کی تو ماسکو نے جارجیا میں فوجیں بھیج دی ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ اس کے بارہ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ علیحدگی پسند ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد 1400 بتا رہے ہیں۔ جورجیا کے صدر میخائل ساکشویلی نے کہا کہ ایک سو پچاس ٹینک اور دیگر گاڑیاں جنوبی اوسیٹیا میں داخل ہو گئی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمارے فوجیوں پر روس سے آنے والے ہزاروں فوجیوں نے حملہ کر دیا ہے۔‘ تاہم انہوں نے ایک اور بیان میں کہا ہے کہ وہ فوری جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔
دوسری طرف جارجیا میں لڑائی رکوانے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں۔ تاہم سلامتی کونسل جارجیا میں جنگ بند کروانے کے لیے کسی متفقہ اعلامیے پر پہنچنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی۔ گزشتہ چوبیں گھنٹوں میں سفارت کاروں کا ہنگامی طور پر دو مرتبہ اجلاس ہوا۔ مگر ایسے الفاظ پر اتفاق نہیں ہو سکا جو سلامتی کونسل کے تمام اہم فریقوں کے لیے قابل قبول ہوں۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر سے بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو ویلز لکھتے ہیں کہ فی الوقت یوں لگتا ہے کہ جارجیا اور جنوبی اوسیٹیا میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صور تحال کو کنڑول کرنے کے لیے سلامتی کو نسل کے ارکان کی رائے بٹی ہوئی ہے۔ جو بہت ہی مایوس کن صورت حال ہے۔ نامہ نگار کے مطابق روس سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور کسی بھی ایس دستاویز کو مسترد کرسکتا ہے جو اس کے موقف سے متصادم ہو یا اس کے نکتہ نظر میں غیر مناسب اور غلط ہو۔ اسی لیے کونسل کے مستقل اور غیر مستقل پندرہ ممبران کسی سرکاری بیان میں ابھی تک آمادہ نہیں ہوسکے۔
مستقل ارکان میں سے امریکہ برطانیہ اور فرانس یہ سمجھتے ہیں کہ جارجیا میں روس کی جارحیت کی وجہ سے حالات تیزی سے جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ روس اس کا ذمہ دار جارجیا کو سمجھتا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس اور جارجیا کے سفیروں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ جس کے بعد اجلاس بند کمرے میں منتقل کردیا گیا۔ تاہم بند کمرے کے اجلاس کے بعد صرف یہ اعلان ہوسکا کہ مشترکہ اعلامیے کے لیے الفاظ کے انتخاب پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔ کو نسل کا اجلاس آج پھر ہوگا۔ مگر اس دوران جارجیا میں صورتحال مزید بگڑنے کا کا اندیشہ ہے۔ ادھر امریکہ نے روس اور جارجیا کی افواج سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ امریکہ وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے جنگ بند کروانے کے لیے ایک خصوصی ایلچی یورپ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ جورجیا کے صوبے جنوبی اوسیٹیا کے روس کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ علاقہ انیس سو نوّے کی دہائی سے عملاً خودمختار ہے۔ جنوبی اوسیٹیا میں کئی لوگوں کے پاس روسی پاسپورٹ ہیں۔ جورجیا کی اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک عرصے سے علیحدگی پسندوں سے لڑائی جاری ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ روس ان علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتا ہے۔ تازہ ترین واقعات میں جورجیا اور علیحدگی پسندوں نے ایک دوسرے پر جمعرات کو طے ہونے والے جنگ بندی کا معادہ توڑنے کے الزامات لگائے ہیں۔ جورجیا کے طیاروں نے علیحدگی پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بھی بنایا۔ | اسی بارے میں جارجیا: ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان08 November, 2007 | آس پاس روس: معاہدے سے علیحدگی14 July, 2007 | آس پاس میگافون کی ضرورت نہیں: نیٹو26 June, 2007 | آس پاس امریکی میزائل نظام پر روس کا ردعمل04 April, 2008 | آس پاس شاہراہ ریشم کی ایک اور کڑی08 February, 2007 | آس پاس جارجیا انقلاب: بش کیلیے مثالی 10 May, 2005 | آس پاس جارجیا بحران: سفارتی کوششیں22 November, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||